نیوز ڈیس
ریاض: سعودی عرب کی جانب سے جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور مہنگے ہتھیاروں پر بھاری سرمایہ کاری کے باوجود میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات نے مملکت کے فضائی دفاعی نظام کی صلاحیتوں کو ایک کٹھن آزمائش سے دوچار کر دیا ہے۔
ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات، پائپ لائنوں اور دیگر اہم اسٹریٹجک مقامات کو درپیش خطرات نے یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا جدید ترین دفاعی نظام بھی وسیع جغرافیائی علاقے کو ہر قسم کے فضائی حملے سے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟
سعودی عرب دنیا کے بڑے فوجی اخراجات کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کے اعداد و شمار کے مطابق، مملکت نے 2024 میں دفاع پر تقریباً 80 ارب ڈالر خرچ کیے۔
اس کے دفاعی اثاثوں میں امریکی ساختہ لڑاکا طیاروں کے علاوہ پیٹریاٹ اور ٹرمینل ہائی الٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس (THAAD) جیسے جدید میزائل شکن نظام بھی شامل ہیں۔ فرانس اور برطانیہ سے حاصل کردہ دفاعی سازوسامان بھی سعودی فوجی صلاحیتوں کا حصہ ہے۔
تاہم، دفاعی اخراجات اور جدید ہتھیاروں کی موجودگی کے باوجود کم لاگت والے ڈرونز، کروز میزائلوں اور بیلسٹک میزائلوں سے پیدا ہونے والے خطرات ایک پیچیدہ چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کسی ملک کے لیے صرف جدید ہتھیار خریدنا کافی نہیں، بلکہ اسے مختلف سمتوں سے آنے والے حملوں کی بروقت نشاندہی، فوری ردعمل اور اہم تنصیبات کے مؤثر تحفظ کو بھی یقینی بنانا پڑتا ہے۔
متعدد سمتوں سے خطرات، دفاعی نظام پر دباؤ
سعودی عرب کو درپیش فضائی خطرات کی نوعیت اس لیے بھی پیچیدہ ہے کہ اس کی اہم تنصیبات ملک کے وسیع رقبے میں پھیلی ہوئی ہیں۔ تیل کی ریفائنریز، برآمدی مراکز، پائپ لائنیں، ہوائی اڈے اور دیگر معاشی اثاثے نہ صرف قومی معیشت بلکہ عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
ایسے میں دفاعی حکام کے لیے یہ طے کرنا مشکل ہو سکتا ہے کہ محدود وقت اور وسائل کے اندر کن اہداف کو ترجیح دی جائے۔ اگر بیک وقت متعدد مقامات پر حملے ہوں تو دفاعی نظام کو آنے والے ہتھیاروں کی شناخت، ان کی سمت کا تعین اور انہیں فضا میں تباہ کرنے کے لیے تیزی سے فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ان خدشات کو مزید نمایاں کیا ہے۔ ایران سے منسوب میزائل اور ڈرون حملوں، عراق میں ایران نواز مسلح گروہوں کی سرگرمیوں اور یمن میں حوثی جنگجوؤں کی صلاحیتوں کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات نے سعودی عرب کے لیے خطرات کی ایک وسیع تصویر پیش کی ہے۔ تاہم، مختلف حملوں کی تعداد، ذمہ داری اور مخصوص اہداف سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
یمن کے پہاڑی علاقوں میں موجود حوثی جنگجوؤں کی جانب سے موبائل لانچرز اور مختلف نوعیت کے میزائلوں کے استعمال کا امکان سعودی دفاعی منصوبہ بندی کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔
کم لاگت والے ڈرون، مہنگا دفاعی ردعمل
جدید فضائی دفاعی نظام کو درپیش ایک بنیادی مسئلہ حملہ آور ہتھیار اور اسے روکنے کے لیے استعمال ہونے والے دفاعی میزائل کی لاگت میں فرق ہے۔ نسبتاً سستے ڈرون کے مقابلے میں مہنگا انٹرسیپٹر استعمال کرنا دفاعی اخراجات میں اضافہ کر سکتا ہے، خصوصاً جب حملے مسلسل ہوں یا ایک ساتھ متعدد اہداف کو نشانہ بنایا جائے۔
اس کے علاوہ، ہر ہتھیار کی پرواز کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ بیلسٹک میزائل انتہائی تیز رفتاری سے اپنے ہدف کی طرف بڑھتے ہیں، جبکہ کروز میزائل نسبتاً کم بلندی پر پرواز کرتے ہوئے بعض حالات میں ریڈار کی نگرانی کو مشکل بنا سکتے ہیں۔ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون مختلف سمتوں سے آ کر دفاعی نظام کو مصروف رکھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
اگر حملہ آور ایک ہی کارروائی میں مختلف نوعیت کے ہتھیار استعمال کریں تو دفاعی نظام کو بیک وقت متعدد خطرات سے نمٹنا پڑ سکتا ہے۔ اس صورت حال میں صرف میزائل شکن بیٹریوں کی تعداد اہم نہیں رہتی، بلکہ ریڈار، ابتدائی انتباہی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور مختلف دفاعی یونٹس کے درمیان رابطہ بھی فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
یوکرین جنگ میں بھی مختلف نوعیت کے فضائی ہتھیاروں کے امتزاج نے دفاعی نظاموں کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔ یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ جدید فضائی دفاع کے لیے مختلف سطحوں پر کام کرنے والے مربوط نظام اور مسلسل بدلتی ہوئی جنگی حکمت عملیوں سے مطابقت پیدا کرنا ضروری ہے۔
حوثیوں کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیتیں
یمن کے حوثی گروپ کی میزائل اور ڈرون صلاحیتیں سعودی عرب کے سکیورٹی خدشات میں اہم مقام رکھتی ہیں۔ سی این این سمیت مختلف میڈیا اداروں کی رپورٹس میں حوثیوں کے بعض میزائلوں کے ڈیزائن اور صلاحیتوں کو ایرانی ہتھیاروں سے مشابہ قرار دیا گیا ہے۔
حوثیوں کے حاتم-2 اور فلسطین-2 میزائلوں کے حوالے سے بھی ان کے ڈیزائن، فاصلے اور ممکنہ عملی صلاحیتوں پر توجہ دی گئی ہے۔ تاہم، کسی ہتھیار کی تکنیکی مماثلت بذات خود کسی مخصوص حملے میں بیرونی ریاست کی براہ راست شمولیت کا حتمی ثبوت نہیں ہوتی۔
سعودی عرب کے لیے اصل مسئلہ یہ ہے کہ بدلتے ہوئے خطرات کے مقابلے میں اس کے دفاعی نظام کتنی تیزی سے اپنی حکمت عملی تبدیل کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے جدید انٹرسیپٹرز کے ساتھ بہتر نگرانی، بروقت انٹیلی جنس، مربوط کمانڈ سسٹم اور اہم تنصیبات کے لیے متعدد سطحوں پر دفاعی انتظامات ضروری ہیں۔
سلامتی کے خدشات اور وژن 2030
سعودی عرب کے فضائی دفاع کو درپیش چیلنج محض عسکری معاملہ نہیں، بلکہ اس کے معاشی مستقبل سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ولی عہد محمد بن سلمان کا وژن 2030 مملکت کو سرمایہ کاری، سیاحت، ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی کاروبار کے لیے ایک اہم عالمی مرکز بنانے کا ہدف رکھتا ہے۔
اس مقصد کے حصول کے لیے سیاسی استحکام، محفوظ بنیادی ڈھانچہ اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ہوائی اڈوں یا توانائی کی تنصیبات پر حملوں کا خطرہ بڑھنے سے کاروباری سرگرمیوں، سیاحت اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کے تحفظ کے بارے میں خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔
توانائی کی تنصیبات کو پہنچنے والا نقصان عالمی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، کیونکہ سعودی عرب بین الاقوامی تیل کی فراہمی میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس لیے اہم تنصیبات کی حفاظت مملکت کے لیے قومی سلامتی کے ساتھ معاشی استحکام کا معاملہ بھی ہے۔
دوسری جانب، حوثی ٹھکانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں علاقائی کشیدگی میں اضافے اور تنازعے کے مزید پھیلاؤ کا باعث بن سکتی ہیں۔ یمن کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں طویل فوجی مہم چلانا بھی آسان نہیں، جبکہ ماضی کے تنازعات نے ظاہر کیا ہے کہ حوثی فورسز ایسے علاقوں میں مزاحمت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
چنانچہ سعودی قیادت کو فوجی کارروائیوں کے ممکنہ فوائد کا موازنہ ان کے معاشی، سیاسی اور سکیورٹی اخراجات سے کرنا ہوگا۔ سفارتی کوششوں اور دفاعی تیاریوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا اس حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔
اتحادیوں کا کردار کتنا اہم ہے؟
سعودی عرب کی دفاعی حکمت عملی میں امریکہ اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کا کردار نمایاں ہے۔ امریکہ طویل عرصے سے مملکت کو جدید دفاعی سازوسامان فراہم کرتا رہا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون بھی اہمیت رکھتا ہے۔
بین الاقوامی شراکت داریاں ریڈار اور نگرانی کے نظام بہتر بنانے، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف دفاعی منصوبہ بندی اور مختلف عسکری نظاموں کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔
پاکستان اور دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ تعاون کا ذکر بھی سعودی سلامتی کے تناظر میں سامنے آتا رہا ہے۔ تاہم، کسی مخصوص فوجی تعیناتی، براہ راست آپریشنل کردار یا دفاعی ذمہ داری کے بارے میں دعووں کو مستند شواہد کی بنیاد پر جانچنا ضروری ہے۔
امریکہ کی جانب سے کسی ممکنہ علاقائی تنازعے میں براہ راست مداخلت کی نوعیت اور حد بھی سعودی منصوبہ بندی کے لیے اہم عنصر ہے۔ اس لیے مملکت کے لیے ضروری ہے کہ وہ بیرونی تعاون کے ساتھ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بھی مضبوط بنائے اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے قابل اعتماد متبادل انتظامات برقرار رکھے۔
کیا زیادہ دفاعی اخراجات مکمل تحفظ دے سکتے ہیں؟
سعودی عرب کی صورتحال جدید جنگ کے ایک بنیادی تضاد کو واضح کرتی ہے: دفاعی ٹیکنالوجی پر اربوں ڈالر خرچ کرنے سے کسی ملک کی عسکری صلاحیت میں نمایاں اضافہ تو ہو سکتا ہے، لیکن اس سے ہر ممکنہ حملے کو روکنے کی ضمانت نہیں ملتی۔
فضائی دفاع کی کامیابی کا انحصار صرف جدید میزائلوں یا انٹرسیپٹرز کی دستیابی پر نہیں، بلکہ ابتدائی انتباہ، ریڈار کوریج، فوری فیصلہ سازی، دفاعی وسائل کی مناسب تقسیم اور مختلف نظاموں کے باہمی رابطے پر بھی ہوتا ہے۔
سعودی عرب کے لیے آئندہ کا اہم چیلنج ایک ایسا مربوط دفاعی ڈھانچہ تشکیل دینا ہے جو مختلف سمتوں سے آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کا مؤثر جواب دے سکے، جبکہ دفاعی اخراجات اور دستیاب وسائل کو بھی متوازن رکھے۔ اہم توانائی کی تنصیبات کا تحفظ، کم لاگت والے ڈرونز کے خلاف مؤثر طریقے، جدید نگرانی اور بین الاقوامی تعاون اس حکمت عملی کے بنیادی عناصر رہیں گے۔
بالآخر، سعودی عرب کی سلامتی کا انحصار صرف اس بات پر نہیں ہوگا کہ وہ جدید ترین ہتھیاروں پر کتنا خرچ کرتا ہے، بلکہ اس پر بھی ہوگا کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بدلتے ہوئے خطرات کے مطابق کتنی مؤثر انداز میں استعمال کرتا ہے۔
مملکت کے لیے اصل آزمائش یہی ہے کہ وہ اپنے معاشی عزائم کو آگے بڑھاتے ہوئے قومی سلامتی، علاقائی استحکام اور اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کو کیسے یقینی بناتی ہے۔
