برطانیہ میں آخر ’خان‘ اور ’احمد‘ کے نام اتنے مقبول کیوں ہو رہے ہیں؟

0

نیوز ڈیسک

لندن: برطانیہ میں نوزائیدہ بچوں کے خاندانی ناموں کا بدلتا رجحان ملک کی آبادیاتی اور سماجی تبدیلیوں کی ایک نئی تصویر پیش کر رہا ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ’خان‘، ’احمد‘ اور ’علی‘ جیسے جنوبی ایشیائی خاندانی ناموں کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ’جونز‘ اور ’سمتھ‘ جیسے روایتی ناموں کے استعمال میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، آفس فار نیشنل اسٹیٹسٹکس (او این ایس) کے اعداد و شمار میں انگلینڈ اور ویلز میں بچوں کے خاندانی ناموں کے رجحانات میں واضح تبدیلی سامنے آئی ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ نئی نسل کے ناموں میں تنوع بڑھ رہا ہے اور مختلف ثقافتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے خاندانی نام نمایاں ہو رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق، نوزائیدہ بچوں میں ’سمتھ‘ اب بھی پہلے نمبر پر ہے، تاہم ’خان‘ دوسرے، ’احمد‘ تیسرے اور ’علی‘ چوتھے نمبر پر آ چکے ہیں۔ فہرست میں ’حسین‘، ’سنگھ‘، ’پٹیل‘ اور ’کور‘ جیسے نام بھی نمایاں ہیں، جو برطانیہ میں جنوبی ایشیائی خاندانی ناموں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کی عکاسی کرتے ہیں۔

گزشتہ 30 برسوں میں ’خان‘، ’احمد‘ اور ’علی‘ کی مقبولیت تقریباً دوگنی ہو گئی ہے، جبکہ ’سنگھ‘ اور ’کور‘ کے استعمال میں پانچ گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ تبدیلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نئی نسل کے خاندانی ناموں کی فہرست پہلے کے مقابلے میں زیادہ متنوع ہوتی جا رہی ہے۔

اس کے برعکس، بعض روایتی خاندانی ناموں کی مقبولیت میں کمی دیکھی گئی ہے۔ ’جونز‘ نام رکھنے والے نوزائیدہ بچوں کی تعداد میں 43 فیصد کمی ہوئی، جبکہ ’سمتھ‘ نام کے ساتھ رجسٹر ہونے والے بچوں کی تعداد 1996 میں 7,276 تھی، جو 2025 میں گھٹ کر 4,102 رہ گئی۔

خاندانی ناموں میں بڑھتا تنوع

اعداد و شمار کے مطابق، 1996 میں انگلینڈ اور ویلز میں نوزائیدہ بچوں کے لیے 21,600 سے زائد مختلف خاندانی نام ریکارڈ کیے گئے تھے، جبکہ 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 23,400 سے تجاوز کر گئی۔ اس اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں کے خاندانی نام پہلے کے مقابلے میں زیادہ متنوع ہو رہے ہیں۔

ایک اور قابلِ ذکر تبدیلی یہ ہے کہ ایک ہزار سے زیادہ بچوں کے ساتھ منسلک خاندانی ناموں کی تعداد بھی کم ہوئی ہے۔ 1996 میں ایسے 57 خاندانی نام تھے جو ہر ایک ایک ہزار سے زائد بچوں کے لیے استعمال ہوئے، تاہم 2025 میں ایسے ناموں کی تعداد صرف 23 رہ گئی۔

یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ اگرچہ بعض خاندانی نام اب بھی بڑی تعداد میں بچوں کے ساتھ منسلک ہیں، لیکن مجموعی طور پر ناموں کی تقسیم زیادہ وسیع ہوتی جا رہی ہے۔

‘محمد‘ لڑکوں کا مقبول ترین نام برقرار

خاندانی ناموں میں تبدیلی کے ساتھ بچوں کے ذاتی ناموں کے رجحانات بھی توجہ کا مرکز ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں مسلسل تیسرے سال ’محمد‘ انگلینڈ اور ویلز میں لڑکوں کا مقبول ترین نام رہا، اور اس سال 5,957 بچوں کا نام محمد رکھا گیا۔

ماہرین کے نزدیک خاندانی ناموں کے رجحانات کو سمجھنے کے لیے آبادی میں تبدیلی، نقل مکانی، خاندانی روایات اور ناموں کے اندراج کے طریقوں جیسے عوامل کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ صرف ناموں کی درجہ بندی سے کسی ایک تبدیلی کی حتمی وجہ متعین نہیں کی جا سکتی۔

تاہم، گزشتہ تین دہائیوں کے اعداد و شمار اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ انگلینڈ اور ویلز میں نئی نسل کے خاندانی ناموں کا منظرنامہ تبدیل ہو رہا ہے۔ ’خان‘، ’احمد‘، ’علی‘، ’سنگھ‘ اور ’کور‘ جیسے ناموں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور روایتی ناموں میں کمی اس تبدیلی کے نمایاں پہلو ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.