سہیل آفریدی کہاں ہیں؟ محمود خان اچکزئی کا قومی اسمبلی میں سوال

0

نیوز ڈیسک

اسلام آباد: خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے متعدد ارکان کی مبینہ حراست کا معاملہ قومی اسمبلی میں زیرِ بحث آگیا، جہاں اپوزیشن نے منتخب نمائندوں کی عدم موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری بحث کا مطالبہ کیا ہے۔

قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی نے حکومت سے سوال کیا کہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ اور دیگر منتخب نمائندے کہاں ہیں؟

انہوں نے زور دیا کہ پارلیمنٹ کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ منتخب ارکان کو اپنے آئینی و پارلیمانی فرائض انجام دینے کا موقع ملے۔

دوسری جانب، پی ٹی آئی کے رہنما اور اپوزیشن کے چیف وہپ ملک محمد عامر ڈوگر نے پیر کو قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کو تحریکِ التوا جمع کرائی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ معمول کی کارروائی معطل کرکے منتخب نمائندوں کی مبینہ حراست اور ان کے پارلیمانی حقوق سے متعلق معاملے پر فوری بحث کرائی جائے۔

قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط 2007 کے قواعد 109 اور 110 کے تحت جمع کرائی گئی اس تحریک میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان واقعات نے منتخب نمائندوں کی پارلیمانی ذمہ داریاں ادا کرنے کی صلاحیت اور ان کے آئینی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

تحریک میں سہیل آفریدی اور بابر سلیم سواتی کے علاوہ قومی اسمبلی کے چھ ارکان امجد علی خان، جنید اکبر، فضل محمد خان، زبیر خان، حاجی امتیاز احمد چوہدری اور نسیم علی شاہ کے نام بھی شامل ہیں۔

’ہمیں بتائیں، وزیرِ اعلیٰ کہاں ہیں؟‘

قومی اسمبلی میں نقطۂ اعتراض پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے متعدد ارکان کی عدم موجودگی پر سوال اٹھایا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتِ حال کی وضاحت کرے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا مقصد کسی کو ہراساں کرنا نہیں، بلکہ وہ یہ جاننا چاہتی ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ اور اسمبلی کے دیگر منتخب ارکان کہاں ہیں۔

اچکزئی نے کہا، ’’ہم کسی کو ہراساں کرنے کی خواہش نہیں رکھتے؛ تاہم، آپ نے ایک صوبے کی حکومت تحلیل کر دی ہے۔ اب ہمیں بتائیں: خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ اور اسمبلی میں ہمارے ساتھی ارکان کہاں ہیں؟‘‘

اپوزیشن لیڈر نے جنید اکبر، نسیم شاہ، عادل بازئی اور عزیر خان سمیت متعدد ارکان کی عدم موجودگی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی امور کی مؤثر انجام دہی کے لیے منتخب نمائندوں کی ایوان میں موجودگی ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی رکن پر سنگین الزامات بھی ہوں تو پارلیمانی کارروائی میں اس کی شرکت کے معاملے کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اسپیکر پر زور دیا کہ ضرورت پڑنے پر پروڈکشن آرڈرز جاری کیے جائیں تاکہ متعلقہ ارکان ایوان میں حاضر ہو کر اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں۔

اچکزئی کے یہ ریمارکس ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب اپوزیشن منتخب نمائندوں کی مبینہ حراست اور ان کی پارلیمانی سرگرمیوں میں عدم شرکت کو جمہوری عمل اور ایوان کے استحقاق سے جوڑ رہی ہے۔

پارلیمنٹ میں اظہارِ رائے کے حق پر سوالات

محمود خان اچکزئی نے اسپیکر سردار ایاز صادق سے مخاطب ہوتے ہوئے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق جمہوری اداروں کی ساکھ اور وقار کا انحصار اس بات پر ہے کہ منتخب نمائندوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔

انہوں نے کہا، ’’ہم آپ سے کچھ نہیں مانگ رہے؛ بس اتنا یقینی بنائیں کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات منعقد ہوں۔‘‘

قائدِ حزبِ اختلاف نے پارلیمانی کارروائی کے دوران ارکان کی جانب سے دیے گئے بیانات پر ممکنہ قانونی کارروائی کے معاملے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ منتخب نمائندوں کو پارلیمنٹ میں اپنے مؤقف کے اظہار پر گرفتاری یا قانونی کارروائی کے خوف کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے سوال اٹھایا، ’’اگر ارکان کو بولنے کا موقع ہی نہیں دیا جائے گا، تو پھر پارلیمنٹ کا کیا مقصد رہ جاتا ہے؟‘‘

اچکزئی کے مطابق، پارلیمان کی بنیادی اہمیت اسی میں ہے کہ منتخب نمائندے اپنے حلقوں کی نمائندگی کریں، حکومتی اقدامات پر سوال اٹھائیں اور عوامی مسائل کو ایوان میں پیش کر سکیں۔

600 سال پرانے واقعے کا حوالہ

اپنے خطاب کے دوران محمود خان اچکزئی نے ایک تاریخی واقعے کا حوالہ بھی دیا، جس کے مطابق تقریباً 600 سال قبل ایک بادشاہ نے پانچ ارکان کی موجودگی کی درخواست کی تھی اور اسپیکر نے اس درخواست کا احترام کیا تھا۔

انہوں نے اس مثال کے ذریعے موجودہ صورتِ حال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ماضی میں بھی اسپیکر کے منصب اور پارلیمانی روایات کا احترام کیا جاتا تھا تو آج منتخب نمائندوں کی موجودگی اور تحفظ سے متعلق مطالبات پر توجہ کیوں نہیں دی جا رہی؟

اپوزیشن لیڈر نے خبردار کیا کہ قوانین بنانا اپنی جگہ، تاہم فیصلے کرنے والوں کو بالآخر اپنے اقدامات کے نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے ایوان میں موجود دیگر ارکان، جن میں ثناء اللہ مستی خیل اور کنڈی بھی شامل ہیں، کو اظہارِ خیال کا موقع دینے کا مطالبہ کیا۔

اپوزیشن کی نظریں اسپیکر کے فیصلے پر

تحریکِ التوا اور محمود خان اچکزئی کے خطاب نے قومی اسمبلی میں منتخب نمائندوں کی مبینہ حراست، پارلیمانی استحقاق، اظہارِ رائے کی آزادی اور آئینی حقوق کے تحفظ سے متعلق بحث کو نمایاں کر دیا ہے۔

اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ منتخب نمائندوں کی عدم موجودگی صرف انفرادی معاملہ نہیں، بلکہ اس سے پارلیمانی نمائندگی اور جمہوری اداروں کی کارکردگی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی بنیاد پر وہ چاہتی ہے کہ ایوان معمول کی کارروائی روک کر معاملے پر فوری بحث کرے۔

تاہم، تحریکِ التوا پر کارروائی اور اس معاملے کو باقاعدہ بحث کے لیے ایوان میں لانے سے متعلق اسپیکر کا فیصلہ اہمیت کا حامل ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیا متعلقہ حکام کی جانب سے سہیل آفریدی اور دیگر ارکان کی صورتِ حال پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے آتی ہے یا نہیں۔

فی الحال اپوزیشن کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ منتخب نمائندوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پارلیمنٹ کیا کردار ادا کرتی ہے اور آیا ایوان میں اٹھائے گئے سوالات کے جواب سامنے آتے ہیں یا نہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.