نیوز ڈیسک
کراچی: کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کی پُراسرار موت کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سندھ حکومت نے واقعے کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ عام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
رپورٹ میں پولیس کی ابتدائی تفتیش، پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار، شواہد کے تحفظ اور متعلقہ حکام کے کردار سے متعلق اہم نکات سامنے آنے کی توقع ہے۔
ذرائع کے مطابق، سندھ حکومت نے پیر کو رپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا، جسے صوبائی کابینہ کو بریفنگ دینے کے بعد محکمہ داخلہ سندھ کی ویب سائٹ پر شائع کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی مبینہ طور پر اس تجویز کی منظوری دے دی ہے۔
جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ 15 اکتوبر کو سربمہر لفافے میں صوبائی حکومت کے حوالے کی تھی۔ کمیشن نے اپنی کارروائی کے دوران 15 سماعتیں کیں، 49 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے اور جائے وقوعہ کا دورہ بھی کیا۔ رپورٹ کے حتمی نتائج اور سفارشات سرکاری طور پر جاری ہونے کے بعد ہی واضح ہو سکیں گی۔
ایک موت، کئی سوالات
25 سالہ تاجر میر رضا علی 28 جولائی 2026 کو کراچی کے علاقے پاکستان ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتا ہوئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق، وہ علی الصبح 4 بج کر 9 منٹ پر ایک آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوئے، تاہم دو روز بعد ان کی لاش گلستانِ جوہر کے علاقے سے ملی۔ ان کے جسم پر گولی لگنے کا نشان بھی موجود تھا۔
واقعے کی ابتدائی تحقیقات کے دوران پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر خودکشی کے امکان پر غور کیا گیا، تاہم میر رضا کے اہل خانہ نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا۔ خاندان کا الزام تھا کہ انہیں اغوا کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور قتل کیا گیا۔
موت کے حالات سے متعلق متضاد مؤقف اور ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر اٹھنے والے سوالات نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ اہل خانہ نے تحقیقات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور ان کے بیٹے کی موت کے اصل حقائق سامنے لائے جائیں۔
دوسرے پوسٹ مارٹم نے تحقیقات کا رخ بدل دیا
میر رضا کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے ان کے والد نے عدالت سے رجوع کیا اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کی اجازت طلب کی۔ 6 اگست کو کراچی کی ایک عدالت نے میت قبر سے نکالنے اور میڈیکو لیگل بورڈ کے ذریعے دوبارہ معائنے کا حکم دیا۔
میڈیکل بورڈ کی تشکیل اور اس کے اراکین پر اختلافات کے باعث کارروائی میں تاخیر ہوئی، تاہم اہل خانہ کے اعتراضات کے بعد اصل بورڈ کو بحال کر دیا گیا۔ 8 اگست کو میر رضا کی میت قبر سے نکالی گئی اور دوسرا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔
بعد ازاں تفتیشی عمل میں بھی تبدیلیاں کی گئیں۔ پولیس کی تحقیقاتی ٹیم تبدیل کر دی گئی، مقدمہ زمان ٹاؤن تھانے منتقل کیا گیا اور اطلاعات کے مطابق قتل کی دفعات بھی شامل کی گئیں۔
ان پیش رفتوں نے پولیس کی ابتدائی تحقیقات، طبی شواہد کی جانچ اور جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد کو محفوظ رکھنے کے طریقہ کار پر مزید سوالات اٹھائے۔ یہی معاملات بعد میں جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات کا اہم حصہ بنے۔
جوڈیشل کمیشن کیوں قائم کیا گیا؟
ابتدائی تفتیش سے مطمئن نہ ہونے پر میر رضا کے اہل خانہ نے سندھ حکومت سے مداخلت اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اگست میں صوبائی حکومت نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کی درخواست کی تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ پولیس اور متعلقہ اداروں نے تحقیقات قانون کے مطابق اور غیر جانب داری سے کیں یا نہیں۔
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم کمیشن کو واقعے کے حالات، ممکنہ محرکات، پولیس اور میڈیکو لیگل حکام کے کردار اور مبینہ غفلت یا شواہد میں ردوبدل کے الزامات کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
کمیشن کے دائرۂ کار میں مزید تحقیقات اور فرانزک معائنے کی ضرورت کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ، جہاں ضروری ہو، متعلقہ حکام کے خلاف قانونی یا محکمانہ کارروائی کی سفارش کرنا بھی شامل تھا۔
کمیشن نے 15 سماعتوں کے دوران پولیس افسران، میڈیکو لیگل عملے، اہل خانہ اور دیگر متعلقہ افراد سمیت 49 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے۔ اس کے علاوہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ، سی سی ٹی وی فوٹیج اور تفتیشی ریکارڈ سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔
اکتوبر کے پہلے ہفتے میں کارروائی مکمل کرنے کے بعد کمیشن نے 15 اکتوبر کو اپنی رپورٹ صوبائی حکومت کے حوالے کر دی۔
جے آئی ٹی کی درخواست مسترد ہونے کا معاملہ
جوڈیشل کمیشن کے قیام کے مطالبے کے ساتھ میر رضا کے اہل خانہ نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کی درخواست بھی کی تھی۔ خاندان کا مؤقف تھا کہ قتل کی تحقیقات ایسے افسران کے سپرد کی جائیں جو پہلے اس مقدمے سے وابستہ نہ رہے ہوں۔
اس سلسلے میں اہل خانہ نے سندھ ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا، تاہم 2 ستمبر کو عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ جے آئی ٹی تشکیل دینا حکومت کے اختیار میں آتا ہے۔ عدالت نے جاری فوجداری تحقیقات میں مداخلت یا ان کی نگرانی کرنے سے بھی گریز کیا۔
اہل خانہ کی جانب سے جے آئی ٹی کے قیام پر اصرار اس مقدمے کی تفتیش پر ان کے تحفظات اور شواہد کے آزادانہ جائزے کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹ سے کیا سامنے آنے کی توقع ہے؟
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کی اشاعت اس مقدمے میں ایک اہم مرحلہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس سے یہ واضح ہونے میں مدد مل سکتی ہے کہ کمیشن نے ابتدائی پولیس تفتیش، پوسٹ مارٹم کے نتائج، شواہد کے تحفظ اور متعلقہ افسران کے کردار کا کس حد تک جائزہ لیا، اور آیا مزید فرانزک تحقیقات یا محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
تاہم، رپورٹ کی اشاعت کو کسی فرد یا ادارے کی مجرمانہ ذمہ داری کا حتمی تعین نہیں سمجھا جا سکتا۔ غفلت، بدانتظامی یا شواہد میں ردوبدل سے متعلق الزامات کی قانونی حیثیت کا فیصلہ متعلقہ شواہد اور قانونی کارروائی کی بنیاد پر ہی ہوگا۔
میر رضا کے اہل خانہ کے لیے یہ رپورٹ ان سوالات کے جوابات حاصل کرنے کی ایک اہم امید ہے جو ان کی موت کے بعد ابتدائی تحقیقات کے دوران سامنے آئے تھے۔ دوسری جانب سندھ حکومت کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ کمیشن کی سفارشات سامنے آنے کے بعد ان پر کس حد تک عمل درآمد کیا جاتا ہے۔
اس مقدمے میں رپورٹ کی اہمیت صرف ممکنہ انکشافات تک محدود نہیں، بلکہ اس بات میں بھی مضمر ہے کہ آیا اس کے نتائج کی روشنی میں مزید تحقیقات، ذمہ داروں کے تعین اور احتساب کے لیے عملی اقدامات کیے جاتے ہیں یا نہیں۔
میر رضا علی کی موت کے مکمل حالات سامنے لانے کے لیے شفاف تحقیقات اور شواہد پر مبنی قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ اس سمت میں اہم پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم حتمی نتائج کا انحصار رپورٹ کے مندرجات، اس کی سفارشات اور ان پر حکام کے ردعمل پر ہوگا۔
