ٹرمپ کے امریکہ میں بھارتی آئی ٹی کمپنیاں کیوں دباؤ کا شکار ہیں؟

0

نیوز ڈیسک

اشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے غیر ملکی کارکنوں کے لیے ویزا پروگراموں کے استعمال پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانچ پڑتال تیز کر دی ہے، جس سے بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے امریکہ میں کاروبار جاری رکھنے، ہنرمند افرادی قوت کی خدمات حاصل کرنے اور اپنے ملازمین کو برقرار رکھنے کے حوالے سے نئی غیر یقینی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔

اس پیش رفت نے امریکہ اور بھارت کے اقتصادی تعلقات میں ایک اہم سوال کو جنم دیا ہے: کیا امریکی ملازمتوں کے تحفظ کے نام پر امیگریشن پالیسی میں سختی واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون کو متاثر کر سکتی ہے؟

یہ معاملہ محض ویزوں کے اجرا یا غیر ملکی کارکنوں کی بھرتیوں تک محدود نہیں۔ اس کے اثرات عالمی ٹیکنالوجی صنعت، ہنرمند افراد کی نقل مکانی، امریکی کمپنیوں کی مسابقت اور بھارت کی اس صنعت پر پڑ سکتے ہیں جو طویل عرصے سے امریکی مارکیٹ کو اپنی ترقی کا اہم ذریعہ سمجھتی ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مائیکروسافٹ، ایڈوب، کوگنیزنٹ، انفوسس، ٹاٹا، وپرو، ایچ سی ایل اور کیپجیمنی سمیت آٹھ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ ادارے امریکی کارکنوں کے بجائے غیر ملکی ملازمین کو ترجیح دینے کے لیے امیگریشن پروگراموں کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔

تاہم، ان الزامات کی حتمی طور پر تصدیق نہیں ہوئی اور متعلقہ کمپنیوں کی جانب سے عوامی ردعمل بھی سامنے نہیں آیا۔

انتظامیہ کی اس مہم سے واضح ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ کی حکومت امریکی ملازمتوں کو ترجیح دینے اور امیگریشن کے ضوابط سخت کرنے کی پالیسی کو ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ بھارت کے لیے اس صورت حال کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ بھارتی ٹیکنالوجی کمپنیاں امریکی کاروباروں کو سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سیکیورٹی، مشاورت اور دیگر خصوصی خدمات فراہم کرتی ہیں۔

ایچ ون بی ویزا تنازعے کا مرکز کیوں بن گیا؟

اس تنازعے کے مرکز میں ایچ ون بی (H-1B) ویزا پروگرام ہے، جس کے تحت امریکی آجر مخصوص مہارتوں کے حامل غیر ملکی پیشہ ور افراد کو ملازمت دے سکتے ہیں۔ بھارتی شہری اس پروگرام سے فائدہ اٹھانے والوں میں نمایاں حصہ رکھتے ہیں، جس کے باعث اس کے قواعد میں تبدیلی بھارتی آئی ٹی صنعت کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔

وینس نے دعویٰ کیا کہ مائیکروسافٹ نے گزشتہ سال تقریباً 6,000 امریکی ملازمین کو فارغ کیا، جبکہ غیر ملکی کارکنوں کے لیے 6,300 ایچ ون بی ویزے اور تقریباً 3,000 گرین کارڈ حاصل کیے۔ ان اعداد و شمار کی بنیاد پر انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ کمپنیوں کو امریکی کارکنوں کے روزگار کے تحفظ کو ترجیح دینی چاہیے۔

انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ بعض آجر چھوٹے شہروں کے اخبارات میں ملازمتوں کے اشتہارات دے کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کوئی موزوں امریکی امیدوار دستیاب نہیں، تاکہ اس کے بعد غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کا راستہ اختیار کیا جا سکے۔

تاہم، مائیکروسافٹ نے اپنے ویزا ریکارڈ کی مختلف تشریح پیش کی۔ کمپنی کے مطابق، گزشتہ مالی سال کے دوران اس کی ایچ ون بی ویزا درخواستوں میں تقریباً 80 فیصد درخواستیں موجودہ ملازمین کے ویزوں کی تجدید یا ان کی امیگریشن حیثیت میں تبدیلی سے متعلق تھیں، نہ کہ نئے غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی سے۔

کمپنی نے مزید کہا کہ نئی بھرتیوں میں بھی ایسے افراد شامل تھے جو پہلے ہی قانونی طور پر امریکہ میں موجود تھے۔ اس کے مطابق، یہ کارکن اس کی امریکی افرادی قوت کا تقریباً ایک فیصد تھے۔

یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ ویزا درخواستوں کی مجموعی تعداد لازماً نئے ملازمین کی تعداد کی عکاسی نہیں کرتی۔ موجودہ ملازمین کے ویزوں میں توسیع اور نئے کارکنوں کی بھرتی دو الگ معاملات ہیں، جنہیں ایک ہی پیمانے سے جانچنے سے صورت حال کی مکمل تصویر سامنے نہیں آتی۔

اس کے باوجود، انتظامیہ کا مؤقف ان کمپنیوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے جو عالمی سطح پر ہنرمند کارکنوں کی بھرتی اور تعیناتی پر انحصار کرتی ہیں۔

بھارتی آئی ٹی صنعت کو کن مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے؟

بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کا کاروباری ماڈل اکثر امریکہ میں موجود کلائنٹس، مقامی ملازمین اور بھارت سے بھیجے گئے ماہرین کے امتزاج پر قائم ہوتا ہے۔ اس انتظام کے ذریعے کمپنیاں امریکی صارفین کو خدمات فراہم کرتے ہوئے اخراجات، مہارتوں اور افرادی قوت کی ضروریات میں توازن برقرار رکھتی ہیں۔

اگر امریکی حکومت ویزا پروگراموں کی نگرانی سخت کرتی ہے یا غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے لیے اضافی شرائط عائد کرتی ہے تو ان کمپنیوں کے لیے عملے کی تعیناتی پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

ممکنہ اثرات میں قانونی اور انتظامی اخراجات میں اضافہ، ویزوں کے حصول میں تاخیر، ملازمین کی امریکہ منتقلی میں مشکلات اور مقامی سطح پر بھرتیوں کی ضرورت شامل ہیں۔

کمپنیوں کو اپنے کاروباری ماڈل میں بھی تبدیلی کرنا پڑ سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، وہ امریکی کلائنٹس کے قریب مقامی ملازمین کی تعداد بڑھا سکتی ہیں یا ایسے کام بھارت میں قائم اپنے مراکز سے انجام دینے کو ترجیح دے سکتی ہیں جن کے لیے ملازمین کی امریکہ میں موجودگی ضروری نہ ہو۔

تاہم، ان تبدیلیوں کی نوعیت اور شدت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ انتظامیہ کے اعلانات کو کس حد تک عملی اقدامات میں تبدیل کیا جاتا ہے اور نئی پابندیاں کن کمپنیوں اور کارکنوں پر لاگو ہوتی ہیں۔

یہ صورت حال بھارتی آئی ٹی صنعت کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ امریکی مارکیٹ میں طویل عرصے سے موجودگی نے ان کمپنیوں کو عالمی سطح پر وسعت دینے میں مدد دی ہے۔ امریکہ میں کام کرنے کی سہولت متاثر ہونے سے نہ صرف ان کے ملازمین بلکہ ان کے امریکی کلائنٹس اور خدمات کی فراہمی کے نظام پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

امریکی معیشت کو بھارتی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ضرورت کیوں ہے؟

بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کے معاملے میں ایک بنیادی تضاد سامنے آتا ہے۔ ایک طرف امریکی انتظامیہ مقامی کارکنوں کے روزگار کے تحفظ کو اپنی ترجیح قرار دیتی ہے، جبکہ دوسری طرف امریکی ٹیکنالوجی اور کاروباری شعبے کو مختلف شعبوں میں خصوصی مہارت رکھنے والے افراد کی ضرورت رہتی ہے۔

بھارتی کمپنیاں امریکی اداروں کو سافٹ ویئر تیار کرنے، ڈیجیٹل نظام بہتر بنانے، سائبر حملوں سے تحفظ، کلاؤڈ انفراسٹرکچر سنبھالنے اور پیچیدہ کاروباری مسائل حل کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ ان خدمات کے لیے بعض اوقات ایسی مہارتیں درکار ہوتی ہیں جن کے حامل افراد کی مقامی مارکیٹ میں دستیابی محدود ہو سکتی ہے۔

ایچ ون بی پروگرام کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی بھرتیوں سے امریکی کمپنیوں کو اہم آسامیوں پر موزوں افراد رکھنے، جدت کو فروغ دینے اور عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

اس کے برعکس، ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ویزا پروگراموں کی نگرانی مؤثر نہ ہو تو بعض آجر غیر ملکی کارکنوں پر انحصار بڑھا کر امریکی ملازمین کے لیے مواقع محدود کر سکتے ہیں یا اجرتوں پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

یہ بحث نئی نہیں، لیکن ٹرمپ انتظامیہ کی تازہ کارروائی نے اسے دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔

یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کے سابق سینئر مشیر ڈوگ رینڈ نے اس سوال پر توجہ دلائی کہ اگر حکومت کا بنیادی مقصد غیر ملکی کارکنوں کے استحصال کو روکنا ہے تو کمپنیوں کی جانب سے گرین کارڈ کے حصول کی صلاحیت محدود کرنے سے یہ مقصد کیسے حاصل ہوگا۔

گرین کارڈ مستقل رہائش کی سہولت فراہم کرتا ہے اور اس کے حامل افراد کو ملازمت تبدیل کرنے کی نسبتاً زیادہ آزادی حاصل ہوتی ہے۔ رینڈ کے مطابق، اس راستے کو محدود کرنے سے کارکنوں کا اپنے آجر پر انحصار بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی سودے بازی کی طاقت کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔

ہاورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر رون ہیرا، جو ایچ ون بی پروگرام کے ناقد ہیں، نے مائیکروسافٹ کے خلاف کارروائی کو اہم قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ غیر ملکی کارکنوں کی بھرتیوں سے امریکی ملازمین کو نقصان پہنچنے سے روکنے کے لیے موجودہ حفاظتی اقدامات مؤثر انداز میں نافذ نہیں کیے گئے۔

ان مختلف آرا سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی حکومت کے سامنے اصل چیلنج صرف ویزوں کی تعداد کم کرنا نہیں، بلکہ ایسا نظام تشکیل دینا بھی ہے جو مقامی کارکنوں کے حقوق کا تحفظ کرے اور کاروباری اداروں کی ضروریات کو غیر ضروری طور پر متاثر نہ کرے۔

یونیورسٹیاں اور بھارتی طلباء بھی دباؤ میں

ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی کا دائرہ صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ امریکی جامعات اور بین الاقوامی طلباء سے متعلق پروگرام بھی اس کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے ایک تجویز پیش کی ہے جس کے تحت تعلیمی اداروں کو بین الاقوامی طلباء کے لیے ایک متعلقہ پروگرام کے تحت فی طالب علم 70 ہزار ڈالر تک فیس ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ یہ پروگرام طلباء کو اپنی تعلیم کے دوران یا اس کے بعد متعلقہ شعبوں میں عملی کام کا تجربہ حاصل کرنے کا موقع دیتا ہے۔

تاہم، یہ تجویز زیر غور ہے اور اسے نافذ شدہ فیس یا حتمی حکومتی فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

وینس نے نو امریکی جامعات میں جے ون (J-1) ایکسچینج وزیٹر پروگرام کے مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ان اداروں میں ہارورڈ، ییل، اسٹینفورڈ، براؤن یونیورسٹی، یونیورسٹی آف پٹسبرگ، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ڈیوس، کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی شامل ہیں۔

جے ون پروگرام غیر ملکی شہریوں کو امریکہ میں مجاز تعلیمی، تحقیقی اور پیشہ ورانہ تبادلے کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت دیتا ہے۔

متعدد جامعات نے حکومتی انکوائری یا سمن موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ تعاون کریں گی یا متعلقہ دستاویزات کا جائزہ لیں گی۔

ایم آئی ٹی کی ترجمان کمبرلی ایلن کے مطابق، ادارہ اپنی قانونی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لیتا ہے اور یونیورسٹی میں جے ون ویزا رکھنے والے افراد کی امریکی حکومت کی جانب سے جانچ پڑتال اور منظوری دی گئی تھی۔

بھارتی طلباء اور محققین کے لیے یہ صورت حال خاص اہمیت رکھتی ہے۔ امریکہ طویل عرصے سے بھارتی طلباء کے لیے اعلیٰ تعلیم، سائنسی تحقیق اور پیشہ ورانہ ترقی کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔

اگر بین الاقوامی طلباء سے متعلق پروگراموں میں سختی آتی ہے تو اس کے اثرات تعلیمی اخراجات، عملی تربیت کے مواقع اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد امریکہ میں ملازمت تلاش کرنے کی صلاحیت پر پڑ سکتے ہیں۔

اس کے نتیجے میں بعض طلباء متبادل ممالک یا تعلیمی اداروں کا انتخاب کر سکتے ہیں، اگرچہ ایسے کسی رجحان کی وسعت کا تعین پالیسی میں حتمی تبدیلیوں اور ان کے عملی اثرات سے ہی ہو سکے گا۔

کیا ویزا تنازعہ امریکہ اور بھارت کے تعلقات متاثر کرے گا؟

امریکہ اور بھارت کے تعلقات تجارت، دفاع، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور علاقائی سلامتی سمیت کئی شعبوں پر محیط ہیں۔ دونوں ممالک نے ٹیکنالوجی کی سپلائی چین مضبوط بنانے، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تعاون بڑھانے اور تزویراتی حریفوں پر انحصار کم کرنے میں مشترکہ دلچسپی ظاہر کی ہے۔

بھارتی ٹیکنالوجی کمپنیاں اور ان کے ہنرمند ملازمین اس اقتصادی تعلق کا اہم حصہ ہیں۔ اسی لیے امیگریشن پالیسی میں تبدیلیوں کے اثرات محض انفرادی ویزا درخواستوں تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ دونوں ممالک کے درمیان کاروباری تعاون پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

نئی دہلی کے لیے فوری تشویش یہ ہوگی کہ آیا نئی پالیسیوں کے نتیجے میں بھارتی کمپنیوں کے لیے امریکی مارکیٹ میں کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے یا وہاں پہلے سے موجود بھارتی پیشہ ور افراد کو اپنی ملازمتیں اور قانونی حیثیت برقرار رکھنے میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اگر پابندیاں سخت ہوتی ہیں تو بھارتی کمپنیوں کو مقامی بھرتیوں میں اضافہ، ملازمین کی تعیناتی کے طریقوں میں تبدیلی یا بعض خدمات بھارت میں قائم مراکز سے فراہم کرنے جیسے فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔

تاہم، اس تنازعے کو خودبخود بھارت کے خلاف براہ راست سفارتی اقدام قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ امریکی انتظامیہ نے بھارتی کمپنیوں کے ساتھ امریکی ٹیکنالوجی اداروں اور جامعات کو بھی جانچ پڑتال کے دائرے میں شامل کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کا اعلان کردہ مقصد امیگریشن پروگراموں اور غیر ملکی کارکنوں کی بھرتیوں کے طریقوں کا وسیع تر جائزہ لینا ہے۔

اس کے باوجود، ان پروگراموں میں بھارتی شہریوں اور بھارتی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی نمایاں موجودگی کے باعث اس پالیسی کے اثرات بھارت میں نسبتاً زیادہ محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

معاشی قوم پرستی اور عالمگیریت کے درمیان کشمکش

اس تنازعے کا بنیادی سوال یہ ہے کہ امریکہ کس طرح مقامی کارکنوں کے روزگار کا تحفظ کرتے ہوئے عالمی ہنر سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، جس پر اس کی ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کا ایک اہم حصہ انحصار کرتا ہے۔

امریکی حکومت کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ ویزا پروگراموں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شواہد اور قانونی تقاضوں کی بنیاد پر کرے، جبکہ کمپنیوں کے لیے ضوابط کی پابندی، شفاف بھرتیوں اور کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا اہم ہوگا۔

بھارتی کمپنیوں کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ امریکی کلائنٹس تک رسائی برقرار رکھتے ہوئے بدلتے ہوئے ضوابط کے مطابق اپنے کاروباری ماڈل کو کس حد تک ڈھال سکتی ہیں۔ دوسری جانب، نئی دہلی کے لیے یہ معاملہ مارکیٹ تک رسائی، پیشہ ورانہ نقل و حرکت اور امریکہ میں کام کرنے والے بھارتی کاروباروں کے لیے سازگار ماحول سے متعلق وسیع تر بحث کا حصہ بن سکتا ہے۔

اس تنازعے کا مستقبل تحقیقات کے نتائج، کسی بھی نئی پابندی کی قانونی بنیاد اور انتظامیہ کے اعلانات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کی حد پر منحصر ہوگا۔

بالآخر، یہ معاملہ صرف ویزوں یا غیر ملکی کارکنوں کی بھرتیوں کا نہیں، بلکہ معاشی قوم پرستی اور عالمگیریت کے درمیان توازن کا ہے۔ ایسے دور میں جب ٹیکنالوجی، سرمایہ اور ہنر سرحدوں سے ماورا ہو کر کام کرتے ہیں، مقامی روزگار کے تحفظ اور بین الاقوامی مسابقت کے تقاضوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا آسان نہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے غیر یقینی صورت حال ضرور پیدا کر رہی ہے، لیکن آیا یہ صورت حال ایک محدود ضابطہ جاتی تنازعے تک رہے گی یا امریکہ اور بھارت کے اقتصادی تعلقات میں وسیع تر کشیدگی کا سبب بنے گی، اس کا فیصلہ آنے والے اقدامات اور دونوں حکومتوں کے ردعمل سے ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.