روزگار کی تلاش میں شور کا سامنا، آرام کے لیے بھی جگہ نہیں

0

شاہ خالد شاہ 

پشاور: گاڑیوں کے پریشر ہارن، انجنوں کی گرج، تجارتی مراکز میں بلند آواز والے ساؤنڈ سسٹم اور تعمیراتی مشینری کا شور خیبر پختونخوا میں روزمرہ زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ اس صورت حال نے ایک اہم سوال کو جنم دیا ہے: آخر کتنا شور حد سے زیادہ ہے، اور یہ انسانی صحت، روزگار اور معیارِ زندگی کو کس حد تک متاثر کر رہا ہے؟

شور کی آلودگی اب محض شہری زندگی کی ایک ناگوار حقیقت نہیں رہی، بلکہ یہ کاروباری سرگرمیوں، نیند، ذہنی سکون اور لوگوں کی کام کرنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ 

صوبے کے مختلف علاقوں میں کام کرنے والے دکانداروں، مزدوروں اور دیگر افراد کے تجربات ظاہر کرتے ہیں کہ مسلسل شور کے اثرات سے بچنا ان لوگوں کے لیے خاص طور پر مشکل ہے جن کا روزگار انہیں مصروف سڑکوں اور تجارتی مراکز سے وابستہ رکھتا ہے۔

شور نے کاروبار کرنا مشکل بنا دیا

کامران خان گزشتہ دو دہائیوں سے کاسمیٹکس کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ پشاور کی مصروف کارخانو مارکیٹ میں شور کی شدت نے ان کے لیے کاروبار جاری رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔

صبح تقریباً 10 بجے، جب انہیں گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لیے دکان کے باہر کھڑا ہونا چاہیے، وہ شور سے بچنے کے لیے اندر بیٹھ کر گاہکوں کا انتظار کرتے ہیں۔

کامران کے مطابق، انہوں نے اپنے کاروبار میں 60 لاکھ سے ایک کروڑ 70 لاکھ روپے تک سرمایہ کاری کی، لیکن شور اور بدلتے ہوئے تجارتی حالات کے باعث انہیں پانچ یا چھ مرتبہ اپنی دکان کی جگہ تبدیل کرنا پڑی، جس سے بھاری مالی نقصان ہوا۔

وہ کہتے ہیں، ’’شور کی وجہ سے میں اپنی دکان کے باہر کھڑا نہیں ہو سکتا۔ اب سڑک مارکیٹ کے مزید قریب آ گئی ہے اور ٹریفک بھی بڑھ گئی ہے۔ میرے لیے یہاں کام کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔‘‘

کامران کا تجربہ اس وسیع تر مسئلے کی عکاسی کرتا ہے جس میں شور نہ صرف لوگوں کے سکون بلکہ ان کے روزگار اور معاشی استحکام کو بھی متاثر کر رہا ہے۔

جب شور کاروبار بند کرنے پر مجبور کر دے

ضلع باجوڑ میں شیر عالم صافی کو بھی اسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ پشاور، باجوڑ ہائی وے پر میڈیکل اسٹور چلانے والے شیر عالم نے تین سال تک مسلسل شور برداشت کرنے کے بعد بالآخر اپنا کاروبار بند کر دیا۔

انہوں نے مرکزی تجارتی مراکز سے دور اسٹور قائم کیا تھا تاکہ نسبتاً پرسکون ماحول میں کام کر سکیں، لیکن سڑک سے گزرنے والی گاڑیوں اور ٹریفک کے مسلسل شور نے ان کے لیے کاروبار جاری رکھنا مشکل بنا دیا۔

اب وہ بازار جاتے ہیں تو کوشش کرتے ہیں کہ ضروری کام جلد نمٹا کر واپس آ جائیں۔

شیر عالم کہتے ہیں، ’’شور ذہنی دباؤ پیدا کرتا ہے اور صحت کے مختلف مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ عام لوگوں کے لیے سکون اور آرام بہت ضروری ہیں، لیکن جب ہم روزی کمانے بازار آتے ہیں تو یہاں ذرا بھی سکون نہیں ملتا۔‘‘

ان کے مطابق، بازاروں میں آنے والی گاڑیوں کے پریشر ہارن اس قدر تیز ہوتے ہیں کہ انہیں سن کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دماغ پھٹ جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس شور سے بچے بھی متاثر ہوتے ہیں۔

یہ تجربات واضح کرتے ہیں کہ شور کی آلودگی محض ناگواری یا وقتی پریشانی کا نام نہیں۔ مسلسل شور توجہ مرکوز کرنے، کام کی صلاحیت برقرار رکھنے اور روزمرہ زندگی سے لطف اندوز ہونے میں بھی رکاوٹ بن سکتا ہے۔

نظر انداز ہوتا ماحولیاتی خطرہ

شور کی آلودگی سے مراد ایسی ناپسندیدہ یا ضرورت سے زیادہ آواز ہے جو انسانی سرگرمیوں میں خلل ڈالے، بے چینی پیدا کرے یا صحت کے لیے خطرہ بنے۔

فضائی اور آبی آلودگی کے برعکس، شور کی آلودگی ہمیشہ نظر نہیں آتی۔ اس کے اثرات بھی بعض اوقات فوری طور پر محسوس نہیں ہوتے، لیکن طویل عرصے تک شدید شور کے زیرِ اثر رہنے سے قوتِ سماعت متاثر ہو سکتی ہے، نیند میں خلل پڑ سکتا ہے اور ذہنی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

سڑکوں اور ریلوے کی آمدورفت، ہوائی جہاز، رکشے، صنعتی مشینری، تعمیراتی سرگرمیاں، تجارتی لاؤڈ اسپیکر اور بلند آواز میں موسیقی اس آلودگی کے اہم ذرائع میں شامل ہیں۔ رہائشی علاقوں میں گھریلو شور بھی اس وقت تنازعات کا باعث بن سکتا ہے جب اس سے پڑوسیوں کے آرام میں بار بار خلل پڑے۔

اس صورت حال سے وہ افراد سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں جنہیں اپنے کام کے باعث روزانہ کئی گھنٹے شور والے ماحول میں گزارنے پڑتے ہیں۔

مزدوروں کے لیے ذہنی تھکن اور بے سکونی

پشاور کی فیکٹری مارکیٹ میں دیہاڑی پر کام کرنے والے غلام محمد کہتے ہیں کہ مسلسل شور انہیں ذہنی طور پر نڈھال کر دیتا ہے اور کسی کام پر توجہ مرکوز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

وہ بتاتے ہیں، ’’ہمارے کام میں سامان کو ایک مارکیٹ سے دوسری مارکیٹ تک پہنچانا شامل ہے، اس لیے ہم سارا دن شور کی زد میں رہتے ہیں۔ یہاں آواز اتنی شدید ہوتی ہے کہ دس منٹ کھڑے رہنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔‘‘

غلام محمد کے مطابق، تنگ سڑکوں پر گاڑیوں کے ہارن اور دیگر آوازیں مسلسل سنائی دیتی رہتی ہیں۔ کام کے بعد گھر پہنچنے پر بھی ذہنی بے چینی ختم نہیں ہوتی۔

وہ کہتے ہیں، ’’کبھی کبھی ہم آرام کرنے کے لیے فیکٹریوں کے کسی کونے میں بیٹھ جاتے ہیں، کیونکہ وہاں بجلی ہوتی ہے، جبکہ ہمارے گھروں میں بجلی نہیں ہے۔‘‘

ان کے مطابق، شور صرف مزدوروں تک محدود نہیں رہتا بلکہ خواتین، بچوں اور ان خاندانوں کو بھی متاثر کرتا ہے جو مصروف سڑکوں اور تجارتی مراکز کے قریب رہتے ہیں۔

’’ہم اس صورت حال کے عادی ہو چکے ہیں۔ ہم چاہے کتنی ہی شکایت کریں، شور نہیں رکتا۔ لوگ جانتے ہیں کہ یہ حد سے زیادہ ہے، لیکن انہیں لگتا ہے کہ اس سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں۔‘‘

غلام محمد کا کہنا ہے کہ مسلسل شور تھکن اور چڑچڑے پن میں اضافہ کرتا ہے اور پہلے ہی دباؤ کا شکار افراد کے درمیان بحث و تکرار کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

حد سے زیادہ شور کی پیمائش کیسے ہوتی ہے؟

پشاور میں پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) کے شعبہ ماحولیات کے سربراہ جہانگیر شاہ کے مطابق، پریشر ہارن، تجارتی ساؤنڈ سسٹم اور تعمیراتی مشینری شور کی آلودگی میں اضافے کے اہم عوامل ہیں۔

ان کے مطابق، تجارتی علاقوں میں شور کی قابلِ قبول سطح کے حوالے سے 65 ڈیسی بل کا معیار اہم سمجھا جاتا ہے۔ ان کے کیے گئے جائزوں میں پشاور کے مختلف مقامات پر، بالخصوص ٹریفک کے اوقاتِ عروج میں، شور کی بلند سطح سامنے آئی ہے۔

ان مقامات میں رام داس، سپین جماعت چوک، بورڈ بازار، سور پل، تہکال، حاجی کیمپ، فیکٹری مارکیٹ، کوہاٹی اور صدر شامل ہیں۔

جہانگیر شاہ کے مطابق، صبح سات سے نو بجے اور دوپہر ایک سے تین بجے کے درمیان بعض علاقوں میں شور کی شدت زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

یہ صورت حال شہر کے مصروف ترین علاقوں میں کام کرنے اور رہنے والے افراد کو درپیش مشکلات کی نشاندہی کرتی ہے۔ تاہم، شور کی سطح کے اعداد و شمار کا درست جائزہ لینے کے لیے پیمائش کے دورانیے، طریقۂ کار اور متعلقہ علاقے پر لاگو ماحولیاتی معیار کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

پشاور کے تجارتی علاقوں میں شور کی بلند سطح

دستیاب معلومات کے مطابق، پشاور کے بعض تجارتی علاقوں میں شور کی سطح 70 سے 88 ڈیسی بل تک ریکارڈ کی گئی، جو رپورٹ میں بیان کردہ 65 ڈیسی بل کے معیار سے زیادہ ہے۔

فردوس، قصہ خوانی، اسٹیڈیم چوک، ہشت نگری، کارخانو مارکیٹ اور سپین جماعت چوک جیسے مصروف مقامات پر شور کی اوسط سطح 84 سے 86 ڈیسی بل کے درمیان بتائی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے قریب مخصوص خاموش علاقوں میں بھی شور کی سطح بعض اوقات 60 ڈیسی بل سے تجاوز کر جاتی ہے، جبکہ ان مقامات کے لیے 45 سے 50 ڈیسی بل کی سطح کا حوالہ دیا گیا ہے۔

یہ اعداد و شمار تشویش کا باعث ہیں، خصوصاً ان افراد کے لیے جو روزانہ کئی گھنٹے ان مقامات پر کام کرتے ہیں۔ تاہم، مختلف مقامات اور اوقات میں کی گئی پیمائشوں کا موازنہ کرتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا پیمائشیں یکساں طریقۂ کار کے تحت کی گئی ہیں اور متعلقہ حدود کس نوعیت کے شور کے لیے مقرر ہیں۔

ٹریفک وارڈنز کی سماعت بھی خطرے میں

ٹریفک پولیس کے اہلکار شہری شور کا مسلسل سامنا کرنے والے افراد میں شامل ہیں۔ انہیں چلتی گاڑیوں کے قریب کھڑے ہو کر کام کرنا پڑتا ہے، جہاں پریشر ہارن اور انجنوں کی آوازیں بار بار سنائی دیتی ہیں۔

جہانگیر شاہ کے مطابق، ان کے ایک سروے میں ٹریفک وارڈنز میں سماعت سے متعلق مسائل کی نشاندہی ہوئی۔ بعض اہلکاروں کے اہلِ خانہ نے بتایا کہ وہ گھر میں غیر معمولی طور پر بلند آواز میں بات کرتے ہیں، حالانکہ انہیں خود اس کا احساس نہیں ہوتا۔

اگرچہ اس طرح کے مشاہدات سماعت میں ممکنہ دشواری کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں، لیکن حتمی تشخیص کے لیے طبی معائنہ اور سماعت کے باقاعدہ ٹیسٹ ضروری ہیں۔

ماہرین کے مطابق، طویل عرصے تک شدید شور کے سامنے رہنے سے سماعت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، خصوصاً جب حفاظتی انتظامات موجود نہ ہوں۔ اس لیے ٹریفک پولیس، صنعتی کارکنوں اور دیگر متاثرہ ملازمین کے لیے باقاعدہ سماعت کے معائنے اور کام کی جگہ پر مناسب حفاظتی اقدامات اہم ہیں۔

مسئلہ پشاور تک محدود نہیں

خیبر پختونخوا میں شور کی آلودگی کا مسئلہ صرف پشاور تک محدود نہیں رہا۔ آبادی میں اضافے، گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور تجارتی سرگرمیوں کے پھیلاؤ کے باعث مردان، مینگورہ، ڈیرہ اسماعیل خان اور ایبٹ آباد جیسے شہری مراکز میں بھی شور کے بڑھتے ہوئے خطرات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

باجوڑ جیسے اضلاع میں بھی تجارتی مقاصد کے لیے لاؤڈ اسپیکر، ٹیپ ریکارڈرز اور چھوٹے پبلک ایڈریس سسٹم کا استعمال مقامی آبادی کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔

جیسے جیسے بستیاں پھیلتی ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک بڑھتی ہے، نسبتاً پرسکون علاقوں کے رہائشی بھی ان مسائل سے دوچار ہوتے ہیں جو پہلے بڑے شہروں تک محدود سمجھے جاتے تھے۔

تعمیراتی مشینری اور تجارتی ساؤنڈ سسٹم کے بڑھتے ہوئے استعمال سے یہ دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں نگرانی اور قوانین پر عمل درآمد مؤثر نہ ہو۔

مقامی ماہرین کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق، خیبر پختونخوا کے ماحولیاتی تحفظ کے ادارے نے بعض صنعتی یونٹوں کو شور کم کرنے کے لیے رکاوٹیں نصب کرنے کی ہدایت کی ہے۔ تاہم، ایسے اقدامات کی افادیت کا انحصار باقاعدہ نگرانی، مؤثر نفاذ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے قواعد پر عمل درآمد یقینی بنانے پر ہے۔

انسانی صحت پر شور کے پوشیدہ اثرات

صحتِ عامہ کے ماہرین کے مطابق، ماحولیاتی شور کے اثرات کا انحصار اس کی شدت، دورانیے اور نوعیت پر ہوتا ہے۔ شدید شور سماعت کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جبکہ مسلسل ماحولیاتی شور نیند میں خلل، ذہنی دباؤ، بے چینی اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری کا سبب بن سکتا ہے۔

یہ اثرات ان لوگوں کے لیے زیادہ پریشان کن ہو سکتے ہیں جنہیں کام کے بعد بھی شور سے محفوظ ماحول میسر نہ ہو۔

کامران خان کے مطابق، شام کے وقت شور اکثر مزید بڑھ جاتا ہے اور دن بھر کی تھکن کے بعد گھر پہنچنے پر بھی ذہنی سکون میسر نہیں آتا۔

وہ کہتے ہیں، ’’شور ہمیں بری طرح متاثر کرتا ہے، لیکن حکومت اس اہم مسئلے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دے رہی۔ جب ہم تھکے ہارے گھر لوٹتے ہیں تو مسلسل شور اور ذہنی دباؤ کے باعث اپنے بچوں کے ساتھ سکون سے بات کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔‘‘

دکاندار، ریڑھی بان، ٹرانسپورٹ ورکرز، ٹریفک وارڈنز اور فیکٹری ملازمین ایسے افراد میں شامل ہیں جنہیں شور سے بچنے کے مواقع کم میسر آتے ہیں۔ اگر ان کے گھر بھی مصروف سڑکوں یا تجارتی مراکز کے قریب ہوں تو آرام اور سکون کے مواقع مزید محدود ہو جاتے ہیں۔

بچوں، بزرگوں اور مریضوں کے لیے بھی پرسکون ماحول اہم ہے، کیونکہ نیند اور آرام میں خلل ان کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسی لیے ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے گرد شور کو کم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔

قوانین موجود، مگر عمل درآمد کتنا مؤثر ہے؟

شور کی آلودگی سے نمٹنے کے لیے صرف جائزوں اور سرکاری ہدایات پر انحصار کافی نہیں۔ اس کے لیے ماحولیاتی معیارات پر مؤثر عمل درآمد، شور کی باقاعدہ پیمائش اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔

غیر ضروری پریشر ہارن کے استعمال کی روک تھام، تجارتی ساؤنڈ سسٹم کی آواز محدود کرنے اور تعمیراتی سرگرمیوں کے اوقات کو منظم کرنے سے بھی شور کی شدت کم کی جا سکتی ہے۔

شہری منصوبہ بندی اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ بہتر ٹریفک مینجمنٹ، مناسب زوننگ، سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری اور صنعتی تنصیبات کے گرد صوتی رکاوٹوں کی تنصیب متاثرہ آبادیوں کو تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔

حکام کو چاہیے کہ وہ ٹرانسپورٹ آپریٹرز، تاجروں، مارکیٹ ایسوسی ایشنز اور مقامی آبادی کے ساتھ مل کر شور سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے مقامات کی نشاندہی کریں اور ان کے لیے قابلِ عمل حل تیار کریں۔

اجتماعی کوشش ضروری

ماہرین کے مطابق، شور کی آلودگی پر قابو پانے کے لیے حکومتی اقدامات کے ساتھ عوامی تعاون بھی ضروری ہے۔

ڈرائیوروں کو غیر ضروری ہارن بجانے سے گریز کرنا چاہیے، خصوصاً ایسے پریشر ہارن سے جو انتہائی بلند آواز پیدا کرتے ہیں۔ تجارتی اداروں کو موسیقی اور لاؤڈ اسپیکر کی آواز مناسب سطح پر رکھنی چاہیے، جبکہ تعمیراتی سرگرمیوں کا انتظام اس طرح ہونا چاہیے کہ قریبی رہائشیوں کو کم سے کم پریشانی ہو۔

شادیوں اور دیگر تقریبات میں آتش بازی اور بلند آواز والے ساؤنڈ سسٹم کے استعمال کو بھی قواعد کے مطابق محدود کرنے کی ضرورت ہے، خصوصاً رات گئے اور ہسپتالوں یا رہائشی علاقوں کے قریب۔

گھروں میں ٹیلی ویژن اور موسیقی کی آواز مناسب سطح پر رکھنا اور پڑوسیوں کے آرام کا خیال رکھنا بھی اس مسئلے کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ، عوامی آگاہی کی مہمات کے ذریعے ڈرائیوروں، تاجروں، طلبہ اور شہریوں کو مسلسل شور کے ممکنہ نقصانات سے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔ جن کام کی جگہوں پر شور کی سطح زیادہ ہو، وہاں ملازمین کو مناسب حفاظتی آلات اور سماعت کے باقاعدہ معائنے کی سہولت فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔

عالمی یومِ آگاہی برائے شور

ہر سال اپریل کے آخری بدھ کو عالمی یومِ آگاہی برائے شورمنایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد لوگوں کو شور کے انسانی صحت اور فلاح و بہبود پر اثرات سے آگاہ کرنا اور شور کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

اس دن کی اہمیت پاکستان جیسے ممالک میں مزید بڑھ جاتی ہے، جہاں شور کو اکثر ایک قابلِ حل ماحولیاتی مسئلے کے بجائے روزمرہ زندگی کا ناگزیر حصہ سمجھ لیا جاتا ہے۔

خیبر پختونخوا کے لیے اصل چیلنج صرف شور کی موجودگی کو تسلیم کرنا نہیں، بلکہ اس کے بڑھتے ہوئے اثرات کو روکنا ہے۔ اس مقصد کے لیے مؤثر قانون سازی اور نفاذ، بہتر شہری منصوبہ بندی، ذمہ دارانہ کاروباری رویے اور عوامی تعاون کو یکجا کرنا ہوگا۔

کامران خان، شیر عالم صافی اور غلام محمد کے تجربات بتاتے ہیں کہ حد سے زیادہ شور صرف کانوں کو پریشان نہیں کرتا؛ یہ روزگار، ذہنی سکون، خاندانی زندگی اور معیارِ زندگی کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

ایک پرسکون ماحول محض آسائش نہیں، بلکہ صحت مند زندگی، محفوظ کام کی جگہوں اور بہتر معاشرتی فلاح کا بنیادی تقاضا ہے۔ 

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ خیبر پختونخوا میں شور کو معمول سمجھ کر برداشت کرنے کے بجائے ایک ایسے ماحولیاتی مسئلے کے طور پر لیا جائے جس پر مؤثر اور مسلسل اقدامات کے ذریعے قابو پایا جا سکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.