پاکستان، ترکی، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان ’بدر‘ دفاعی مفاہمت

0

نیوز ڈیسک

دوحہ: پاکستان، ترکی، قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی تعاون کو فروغ دینے اور اپنی عسکری صلاحیتوں میں اضافے کے لیے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، جسے ’بدر میمورنڈم‘ کا نام دیا گیا ہے۔

ترکی کی وزارتِ قومی دفاع کے مطابق، اس مفاہمت پر بدھ کے روز دوحہ میں چاروں ممالک کے اعلیٰ دفاعی حکام نے دستخط کیے۔

 تقریب میں ترکی کے وزیرِ قومی دفاع یاشار گولر، قطر کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ مملکت برائے دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمن بن حسن آل ثانی، انڈونیشیا کے نائب وزیرِ دفاع یوسف جوہری اور پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف شریک تھے۔

ترکی کی ڈیفنس انڈسٹری ایجنسی کے سربراہ ہلوک گورگون بھی دستخطی تقریب میں موجود تھے۔

مفاہمت کے تحت چاروں ممالک دفاعی سازوسامان کی تیاری، عسکری صلاحیتوں میں اضافے، فوجی تربیت اور تحقیق و ترقی کے شعبوں میں باہمی تعاون کو وسعت دینے کے امکانات کا جائزہ لیں گے۔

 اس شراکت داری کا بنیادی مقصد تجربات اور مہارتوں کے تبادلے، مشترکہ کوششوں اور دفاعی شعبے میں اشتراکِ عمل کے ذریعے شریک ممالک کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں دفاعی تعاون کو فروغ دینے، عسکری تیاریوں کو مضبوط بنانے اور مختلف ممالک کے درمیان سکیورٹی شراکت داری کو وسعت دینے کی کوششیں جاری ہیں۔

دوسری جانب، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان بھی ’مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ‘ کے نام سے ایک دفاعی معاہدے کا ذکر کیا گیا ہے، جس پر 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں دستخط کیے گئے تھے۔

اس معاہدے کی ایک اہم شق کے مطابق، کسی ایک شریک ملک کے خلاف مسلح حملے کو تمام رکن ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ یہ اصول اجتماعی دفاع کے تصور سے مطابقت رکھتا ہے، جو نیٹو کے معاہدے کے آرٹیکل 5 میں بھی شامل ہے۔

دونوں دفاعی اقدامات خطے اور شراکت دار ممالک کے درمیان عسکری روابط مضبوط بنانے، دفاعی صلاحیتوں میں بہتری لانے اور بدلتے ہوئے سکیورٹی حالات سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانے کی کوششوں کو نمایاں کرتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.