فرانس میں مویشیوں کے وائرس کی انسان میں منتقلی کا پہلا کیس

0

نیوز ڈیسک

پیرس: فرانس میں مویشیوں میں پائے جانے والے شیمونڈا وائرس کی انسان میں منتقلی کا پہلا کیس رپورٹ ہونے کے بعد صحت کے حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ متاثرہ شخص کی موت ہو چکی ہے، تاہم حکام اس بات کا تعین کر رہے ہیں کہ آیا وائرس کا موت سے کوئی براہِ راست تعلق تھا یا نہیں۔

فرانسیسی وزارتِ صحت اور محکمہ زراعت کے مشترکہ بیان کے مطابق، یہ دنیا بھر میں انسان میں شیمونڈا وائرس کے انفیکشن کا پہلا دستاویزی کیس ہے۔ متاثرہ شخص فرانس کے تیسرے بڑے شہر لیون کے ایک اسپتال میں سنگین بیماری کے علاج کے لیے زیرِ علاج تھا اور اس کا مدافعتی نظام شدید کمزور تھا۔

حکام کے مطابق، شیمونڈا وائرس کو اب تک بنیادی طور پر مویشیوں سے وابستہ بیماری تصور کیا جاتا رہا ہے۔ اس وائرس کی موجودگی افریقہ اور ایشیا میں کئی دہائیوں سے رپورٹ ہوتی رہی ہے، تاہم یورپ میں اس کی موجودگی رواں سال موسمِ گرما میں سامنے آئی۔

ابتدائی تحقیقات میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ متاثرہ شخص مشرقی فرانس میں وائرس سے متاثرہ مویشیوں والے علاقے میں موجود کاٹنے والے حشرات کے ذریعے انفیکشن کا شکار ہوا۔ تاہم، اس امکان کی مزید تصدیق کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

شیمونڈا وائرس کیسے پھیلتا ہے؟

شیمونڈا وائرس کا تعلق ایسے وائرسز کے گروہ سے ہے جو عموماً چھوٹے کاٹنے والے حشرات، خصوصاً کولی کوائڈز مِج (Culicoides midges) کے ذریعے جانوروں میں منتقل ہوتے ہیں۔ یہ وائرس بالخصوص گائے سمیت دیگر مویشیوں کو متاثر کرتا ہے۔

متاثرہ جانوروں میں بخار، سستی اور اسہال جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں، جبکہ دودھ دینے والی گائیوں کی پیداوار میں بھی نمایاں کمی آسکتی ہے۔ اس وائرس کی شناخت پہلی مرتبہ 1960 کی دہائی میں نائجیریا میں ہوئی تھی۔

یورپ میں مویشیوں میں پھیلاؤ

رواں سال مغربی یورپ کے متعدد ممالک میں شیمونڈا وائرس کی موجودگی رپورٹ ہوئی، جن میں فرانس، بیلجیئم، جرمنی، اٹلی، اسپین، نیدرلینڈز اور سوئٹزرلینڈ سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔ فرانس میں اس کے زیادہ تر کیسز مویشیوں میں سامنے آئے، تاہم بھیڑوں، بکریوں اور گھوڑوں میں بھی بعض کیسز رپورٹ ہوئے۔

صحت کے حکام کے مطابق، انسان میں انفیکشن کا یہ غیر معمولی واقعہ ایک ایسے مریض میں سامنے آیا جس کا مدافعتی نظام شدید کمزور تھا۔ حکام نے دستیاب شواہد کی بنیاد پر عام آبادی کے لیے خطرے کو فی الحال کم قرار دیا ہے۔

تاہم، اس کیس کے بعد وائرس کی انسانوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت، انفیکشن کے ممکنہ ذرائع اور مریض کی موت سے اس کے تعلق کا تعین کرنے کے لیے مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.