داخلی کمزوریوں کے ساتھ عالمی اثرورسوخ کی تلاش کب تک؟

0

اشتیاق احمد
بریڈفورڈ: پاکستان کو درپیش سیاسی، معاشی اور سلامتی کے بحرانوں کا جائزہ لیا جائے تو ایک بنیادی حقیقت سامنے آتی ہے کہ ملک کے داخلی حالات، ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات اور عالمی سطح پر اس کی سفارتی ترجیحات ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
تاہم، یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں اکثر ان معاملات کو الگ الگ زاویوں سے دیکھتی رہی ہیں، جس کے نتیجے میں ایک جامع اور طویل المدتی قومی حکمت عملی تشکیل دینا مشکل ثابت ہوا ہے۔
پاکستان کی قومی سلامتی کا تصور طویل عرصے سے جغرافیائی محل وقوع، علاقائی رقابتوں، دفاعی ضروریات اور عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کے گرد گھومتا رہا ہے۔

یہ عوامل اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن قومی سلامتی کو صرف دفاعی صلاحیت اور سفارتی اتحادوں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ سیاسی استحکام، مضبوط ادارے، معاشی خودمختاری اور عوامی اعتماد بھی کسی ریاست کی سلامتی کے بنیادی ستون ہیں۔
داخلی سیاسی استحکام قومی سلامتی کی بنیاد
پاکستان کے داخلی سیاسی منظرنامے میں سیاسی اختلافات، اقتدار کی کشمکش، کمزور حکمرانی اور اداروں پر اعتماد کے مسائل نے قومی اتفاق رائے کی تشکیل کو متاثر کیا ہے۔ سیاسی مخالفین کو قومی مباحثے کا حصہ بنانے کے بجائے انہیں خارج کرنے یا ان کی آواز محدود کرنے کا رجحان مسائل کے پائیدار حل کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔
ایک مستحکم ریاست کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی اختلاف کو خطرہ سمجھنے کے بجائے اسے جمہوری عمل کا فطری حصہ تسلیم کیا جائے۔ شفاف انتخابات، قانون کی یکساں عمل داری، پارلیمان کی مؤثر نگرانی اور اداروں کی آئینی حدود کا احترام ایسے اقدامات ہیں جو داخلی اعتماد کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
بلوچستان اور خیبرپختونخوا سمیت مختلف علاقوں میں موجود سیاسی، معاشی اور سلامتی سے متعلق شکایات اس امر کی متقاضی ہیں کہ مسائل کو محض سکیورٹی کے نقطۂ نظر سے نہیں بلکہ سیاسی مکالمے، منصفانہ ترقی اور شہری حقوق کے تناظر میں بھی دیکھا جائے۔
اسی طرح آزاد جموں و کشمیر میں سامنے آنے والے عوامی مطالبات کو بھی مقامی ضروریات، معاشی مشکلات اور نمائندگی کے سوالات کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔
تصادم سے آگے کا راستہ
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ دونوں ممالک کے ساتھ تاریخی بداعتمادی، سرحدی تنازعات اور سلامتی کے خدشات نے علاقائی تعاون کے امکانات کو محدود کیا ہے۔
بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر، سرحدی کشیدگی اور دیگر اختلافات کسی بھی سنجیدہ سفارتی حکمت عملی میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم، پائیدار امن کے امکانات تلاش کرنے کے لیے بحرانوں کے دوران رابطے برقرار رکھنا، سفارتی ذرائع استعمال کرنا اور کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے اقدامات بھی ضروری ہیں۔
افغانستان کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سلامتی، دہشت گردی، مہاجرین اور دوطرفہ تجارت جیسے معاملات اہم ہیں۔ ان مسائل کا حل صرف سخت مؤقف اختیار کرنے سے ممکن نہیں، بلکہ مسلسل سفارتی رابطوں، قابلِ عمل معاہدوں اور باہمی ذمہ داریوں پر مبنی تعاون کی ضرورت ہے۔
علاقائی استحکام کا مطلب اپنے قومی مفادات سے دست بردار ہونا نہیں، بلکہ ایسے طریقے اختیار کرنا ہے جن کے ذریعے ان مفادات کا تحفظ کم سے کم تصادم اور زیادہ سے زیادہ تعاون کے ساتھ ممکن ہو۔
عالمی اتحاد اور خارجہ پالیسی میں توازن
پاکستان کے لیے عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات ہمیشہ اہم رہے ہیں۔ مختلف ادوار میں امریکہ، چین، خلیجی ممالک اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ تعاون نے سفارتی، دفاعی اور معاشی مواقع پیدا کیے ہیں۔ تاہم، کسی ایک یا چند بیرونی شراکت داروں پر ضرورت سے زیادہ انحصار خارجہ پالیسی کے انتخاب کو محدود کر سکتا ہے۔
ایک مؤثر خارجہ پالیسی کو فوری سفارتی فوائد کے ساتھ طویل المدتی قومی مفادات کا بھی تحفظ کرنا چاہیے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنے علاقائی اور عالمی تعلقات کو معاشی ترقی، تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، توانائی کے تحفظ اور انسانی ترقی سے مربوط کرے۔
عالمی شراکت داریوں کی کامیابی کا پیمانہ صرف سفارتی حمایت یا دفاعی تعاون نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ ان تعلقات سے عام شہریوں کی زندگی، روزگار کے مواقع اور قومی معیشت کو کتنا فائدہ پہنچتا ہے۔
معاشی خودمختاری اور عوامی فلاح
قومی سلامتی اور معاشی استحکام کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ مسلسل معاشی دباؤ، مہنگائی، بے روزگاری، کمزور عوامی خدمات اور بیرونی مالی معاونت کی ضرورت ریاست کی پالیسی سازی کی گنجائش کو محدود کر سکتی ہے۔
اگر خارجہ پالیسی کو قومی ترقی کا مؤثر ذریعہ بنانا ہے تو اسے برآمدات میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ، علاقائی تجارت، توانائی کے تحفظ اور انسانی وسائل کی ترقی پر توجہ دینی ہوگی۔ اسی طرح تعلیم، صحت، بنیادی سہولتوں اور روزگار میں سرمایہ کاری کو بھی قومی سلامتی کے وسیع تر تصور کا حصہ سمجھنا چاہیے۔
ایک ایسی ریاست جو اپنے شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے، معاشی مواقع پیدا کرنے اور انصاف تک رسائی یقینی بنانے میں کامیاب ہو، داخلی طور پر زیادہ مستحکم اور عالمی سطح پر زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔
پاکستان کو جامع قومی حکمت عملی کی ضرورت
پاکستان کا بنیادی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اسے کن بیرونی خطرات کا سامنا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ داخلی اور خارجی چیلنجوں کے درمیان تعلق کو اپنی پالیسی سازی میں کس حد تک تسلیم کرتا ہے۔
قومی سلامتی کے پائیدار تصور کے لیے سیاسی استحکام، ادارہ جاتی اعتبار، علاقائی امن، معاشی خودمختاری اور عوامی فلاح کو ایک مربوط حکمت عملی کے تحت آگے بڑھانا ہوگا۔ بیرونی اتحاد داخلی کمزوریوں کا مستقل متبادل نہیں بن سکتے، اور نہ ہی سکیورٹی پر مبنی اقدامات ان مسائل کو ہمیشہ کے لیے حل کر سکتے ہیں جن کی جڑیں سیاسی محرومی، عدم اعتماد یا معاشی ناہمواری میں ہوں۔
پاکستان کو ایسی قومی حکمت عملی درکار ہے جو حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود بنیادی ترجیحات میں تسلسل برقرار رکھے، سیاسی مکالمے کو فروغ دے اور خارجہ تعلقات کو شہریوں کی فلاح و بہبود سے جوڑے۔
بالآخر، پاکستان کی عالمی حیثیت اور علاقائی اثرورسوخ کا انحصار صرف اس کی جغرافیائی اہمیت یا دفاعی صلاحیت پر نہیں ہوگا، بلکہ اس بات پر بھی ہوگا کہ وہ اپنے داخلی مسائل حل کرنے، اپنے اداروں پر اعتماد بحال کرنے اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ قابلِ عمل تعلقات قائم کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہے۔
جب تک داخلی استحکام، علاقائی امن اور معاشی ترقی کو ایک دوسرے سے مربوط نہیں کیا جاتا، پاکستان کو بحرانوں کا بار بار سامنا کرنے کا خطرہ رہے گا۔ پائیدار قومی سلامتی کا راستہ ان مسائل کی علامات سے نمٹنے کے بجائے ان کی بنیادی وجوہات کو سمجھنے اور ان کے حل کے لیے مستقل سیاسی عزم پیدا کرنے سے گزرتا ہے۔
یہ مضمون مصنف کی ذاتی آرا اور تجزیے پر مبنی ہے، جو ادارے کی ادارتی پالیسی سے مطابقت بھی رکھ سکتے ہیں اور نہیں بھی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.