اسلام آباد میں 20 دسمبر کو بلدیاتی انتخابات کا انعقاد غیر یقینی کا شکار

0

نیوز ڈیسک

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی جانب سے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 میں ترامیم کی سفارشات پیش کیے جانے کے بعد وفاقی دارالحکومت میں 20 دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

قائمہ کمیٹی کی رپورٹ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کیے جانے کے ایک روز بعد سامنے آئی، جس سے انتخابی عمل اور مجوزہ قانونی تبدیلیوں کے درمیان ممکنہ تضادات کے حوالے سے بحث شروع ہو گئی ہے۔

جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں کمیٹی کے چیئرمین اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن راجہ خرم شہزاد نواز نے رپورٹ پیش کی، جس میں اسلام آباد کے مقامی حکومتی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، وفاقی دارالحکومت کو تین ٹاؤن کارپوریشنوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جن میں سے ہر ایک کا اپنا میئر اور ڈپٹی میئرز ہوں گے۔ مجوزہ تبدیلیوں کا مقصد مقامی حکومت کے نظام کو مؤثر بنانا اور شہری انتظامی امور کی بہتری قرار دیا جا رہا ہے۔

تاہم، ان ترامیم کی پیش کش ایسے وقت میں ہوئی ہے جب الیکشن کمیشن انتخابی شیڈول جاری کر چکا ہے۔ اس صورت حال میں یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ آیا مجوزہ قانونی تبدیلیاں 20 دسمبر کو انتخابات کے انعقاد پر اثر انداز ہوں گی یا انتخابی عمل موجودہ شیڈول کے مطابق جاری رہے گا۔

حکومت نے اسلام آباد کے مقامی حکومت کے قانون میں تبدیلیوں سے متعلق بل ابتدائی طور پر مارچ 2023 میں پیش کیا تھا۔ اب کمیٹی کی سفارشات سامنے آنے کے بعد مجوزہ ترامیم، مقامی نمائندگی اور انتظامی اختیارات کی تقسیم پر مزید بحث متوقع ہے۔

تاہم، کمیٹی کی سفارشات پیش کیے جانے سے انتخابات خودبخود ملتوی نہیں ہوتے۔ انتخابی شیڈول میں کسی تبدیلی کا انحصار متعلقہ قانونی اور انتظامی اقدامات پر ہوگا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کے انعقاد یا شیڈول میں ممکنہ تبدیلی کے حوالے سے باضابطہ اعلان سامنے آنے تک 20 دسمبر کی تاریخ کے مستقبل کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.