تہران (ویب ڈیسک): ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے رہبرِ انقلابِ اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے ارکان کو ایک باضابطہ مراسلہ ارسال کیا ہے۔
خط میں عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ اس حملے کے ذمہ داروں کو “انتہائی گہرے اور دور رس نتائج” کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہفتے کے روز ایرانی سرزمین پر ہونے والا حملہ اسرائیل اور امریکا کی غیر اشتعال انگیز جارحیت کا حصہ تھا۔
ایران کا موقف
عراقچی نے زور دیا کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نہ صرف ایران کی اعلیٰ ترین سرکاری شخصیت تھے بلکہ دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے لیے ایک محترم مذہبی پیشوا بھی تھے، اس لیے اس حملے کی تمام تر ذمہ داری خصوصی طور پر حملہ آوروں پر عائد ہوتی ہے۔
ایران کے وزیرِ خارجہ نے اس واقعے کو “ہولناک اور مجرمانہ فعل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے دانستہ طور پر اقوام متحدہ کے ایک آزاد رکن ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو نشانہ بنایا ہے۔
عراقچی نے متنبہ کیا کہ اگر اس دہشت گردی پر عالمی سطح پر فیصلہ کن ردعمل نہ دیا گیا تو یہ عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائے گا۔
قانونی پہلو اور ایران کے حقوق
خط میں مزید کہا گیا کہ یہ حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو ریاستوں کی خودمختاری اور سربراہانِ مملکت کے تحفظ کے اصولوں پر براہِ راست حملہ ہے۔ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنی خودمختاری اور عوام کے دفاع کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔
ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ اس مجرمانہ فعل کی منصوبہ بندی اور حکم دینے والے تمام افراد بشمول امریکی صدر اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کا انفرادی طور پر محاسبہ کیا جائے۔
ایران کی جوابی کارروائی
واضح رہے کہ اس تازہ جارحیت کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں موجود متعدد امریکی اور اسرائیلی اہداف پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا ہے۔