نوجوانی میں غصہ اور جارحیت بڑھاپے کو تیز کر سکتی ہے، تحقیق

0

اسلام اباد: ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ نو عمری میں غصے اور جارحانہ رویے کا تعلق بعد کی زندگی میں جلد حیاتیاتی بڑھاپے سے ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے نوجوان جن میں کم عمری سے جارحیت زیادہ ہوتی ہے، ان میں 30 سال کی عمر تک جسمانی یا حیاتیاتی عمر تیزی سے بڑھنے کے آثار دیکھے جا سکتے ہیں۔

سائنسی جریدے ہیلتھ سائیکالوجی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق غصے والے نوجوانوں میں تیس سال کی عمر تک وزن بڑھنے کے امکانات بھی نسبتاً زیادہ پائے گئے۔
اس تحقیق کے لیے ماہرین نے امریکا کے شہری اور مضافاتی علاقوں سے تعلق رکھنے والے مڈل اسکول کے 121 طلبہ کا مطالعہ کیا۔ سائنس دانوں نے 13 سال کی عمر سے لے کر بلوغت تک ان طلبہ کے رویوں کا مشاہدہ کیا اور اس دوران جارحیت، سماجی مسائل اور تعلقات میں عدم توازن سے متعلق رپورٹس جمع کیں۔
جب یہ طلبہ 30 سال کی عمر کو پہنچے تو محققین نے خون کے ٹیسٹ کے ذریعے ان کی حیاتیاتی عمر کا تجزیہ کیا۔ اس طریقہ کار کے ذریعے خلیوں اور بافتوں میں ہونے والی عمر رسیدگی کا اندازہ لگایا جاتا ہے، جو بعض اوقات کسی فرد کی اصل عمر سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔
تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ نوعمری کے ابتدائی برسوں میں جارحیت کی بلند سطح بعد میں زیادہ حیاتیاتی بڑھاپے کی پیشگوئی کرتی ہے۔
مطالعے میں یہ بھی سامنے آیا کہ لڑکوں اور کم آمدنی والے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں میں بڑھاپے کی علامات نسبتاً زیادہ دیکھی گئیں، جس کی ممکنہ وجوہات مالی دباؤ اور تعلقات میں مسائل قرار دی گئیں۔
محققین کے مطابق لڑکے عموماً اپنے والد کے ساتھ زیادہ تنازعات کا سامنا کرتے ہیں، جبکہ کم آمدنی والے خاندانوں کے نوجوان اپنے ہم عمر افراد کے خلاف زیادہ ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم تحقیق میں واضح کیا گیا کہ ابتدائی جارحیت اس وقت تک بڑھاپے کا سبب نہیں بنتی جب تک وہ بعد کی زندگی میں تعلقات میں عدم توازن پیدا نہ کرے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے نتائج اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں کہ نوجوانوں کو مضبوط سماجی تعلقات قائم کرنے اور تنازعات کو بہتر انداز میں حل کرنے کی مہارتیں سکھائی جائیں تاکہ مستقبل میں ان کی جسمانی اور ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.