اسٹرابیری کے کھیتوں پر موسمیاتی تبدیلی اور پانی کی تلوار- فخر عالم

0

پشاور: صوابی کی تحصیل رزڑ کے زرخیز کھیتوں میں جب صبح کی پہلی سنہری کرنیں پھیلتی ہیں تو 40 سالہ کسان نصیر خان کا دن پہلے ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ فجر کی نماز کے فوراً بعد وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ ہاتھوں میں ٹوکریاں لیے اسٹرابیری کے کھیتوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ چند گھنٹوں میں یہ سرخ و گلابی پھل صوبے بھر میں افطار کی میزوں کی زینت بننے والے ہوتے ہیں۔
نصیر خان کے لیے اسٹرابیری صرف ایک مزیدار پھل نہیں بلکہ روزگار اور امید کی علامت ہے۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کی طرح ان کی زندگی بھی اسی موسمی فصل سے جڑی ہوئی ہے۔
بلند کیاریوں پر گھنے انداز میں اگائی جانے والی اسٹرابیری ایک منافع بخش فصل سمجھی جاتی ہے۔ ایک ایکڑ زمین سے عروج کے موسم میں تقریباً 17 ہزار کلوگرام تک پیداوار حاصل ہو سکتی ہے، جس سے بہتر انتظام والے کھیتوں میں دس لاکھ روپے سے زیادہ آمدنی ممکن ہوتی ہے۔ رمضان کے دوران اسٹرابیری کی قیمت 500 روپے فی کلوگرام تک پہنچ جاتی ہے، جس سے اس پھل کی مانگ اور اہمیت واضح ہوتی ہے۔
تاہم اس خوش رنگ فصل کے پیچھے کئی سنگین چیلنجز بھی موجود ہیں۔
سب سے بڑا خدشہ پانی کی غیر یقینی صورتحال ہے۔ بھارت کی جانب سے گزشتہ برس سندھ طاس معاہدے کے بعض پہلوؤں کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے بعد کسانوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کی زراعت بڑی حد تک دریائے سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر انحصار کرتی ہے، جبکہ تربیلا ڈیم سے نکلنے والا پانی گندم، چاول، گنا اور اسٹرابیری جیسی فصلوں کو زندگی بخشتا ہے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر پانی کے بہاؤ میں معمولی سی رکاوٹ بھی آ جائے تو نہ صرف فصلیں متاثر ہو سکتی ہیں بلکہ غذائی تحفظ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی نے بھی کسانوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ بے وقت بارشیں، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور شدید موسمی واقعات فصلوں کی پیداوار پر براہِ راست اثر ڈال رہے ہیں۔
چارسدہ کے کاشتکار مناہمیر خان کے مطابق اس سال بے ترتیب بارشوں کی وجہ سے اسٹرابیری کی پیداوار کم رہی، جس سے ان کی روزانہ آمدنی متاثر ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ چھوٹے کسان اکثر نقصان پورا کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
2022 کے تباہ کن سیلاب بھی کسانوں کے ذہنوں میں ابھی تک تازہ ہیں۔ دریائے کابل اور سوات کے کناروں پر آنے والے سیلاب نے کئی کھیتوں کو تباہ کر دیا تھا اور یہ واضح کر دیا تھا کہ موسمیاتی جھٹکے اس فصل کے لیے کتنے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صورتحال صرف زرعی منافع تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر سماجی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔
پشاور یونیورسٹی میں ماحولیاتی سائنس کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد خبردار کرتے ہیں کہ اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں اور بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی برقرار رہی تو پاکستان کو سنگین انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ میں گندم، چاول اور پھلوں کے باغات شدید متاثر ہو سکتے ہیں جس سے لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ماہر معاشیات اور سابق چیئرمین ڈاکٹر محمد ذوالکات ملک کے مطابق پانی کے غیر متوقع اخراج سے آبپاشی کی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے اور کسانوں کو بڑے مالی نقصانات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنا ناگزیر ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم جیسے بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر بھی ضروری ہے جو کم وقت میں مکمل ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی اور زرعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 2050 تک مزید 76 ملین ایکڑ فٹ پانی درکار ہوگا۔
صوابی کے کھیتوں میں واپس آئیں تو نصیر خان اور ان کے بھائی تیز دھوپ کے باوجود مسلسل اسٹرابیری توڑنے میں مصروف ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ان کی محنت کا مستقبل ان دریاؤں سے جڑا ہوا ہے جو ان کی زمین کو سیراب کرتے ہیں۔
نصیر خان کہتے ہیں،
“یہ فصل ہمارے خاندانوں کا پیٹ پالتی ہے۔ ہم صرف یہی امید کرتے ہیں کہ پانی بہتا رہے تاکہ ہمارے کھیت اور ہمارا روزگار زندہ رہ سکے۔”
خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کے لیے اسٹرابیری محض ایک موسمی پھل نہیں بلکہ موسمیاتی دباؤ، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور پانی کی غیر یقینی صورتحال کے درمیان جدوجہد اور حوصلے کی علامت بن چکی ہے—ایک ایسی جدوجہد جو پاکستان کی زراعت کے مستقبل کا تعین بھی کر سکتی ہےپشاور: صوابی کی تحصیل رزڑ کے زرخیز کھیتوں میں جب صبح کی پہلی سنہری کرنیں پھیلتی ہیں تو 40 سالہ کسان نصیر خان کا دن پہلے ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ فجر کی نماز کے فوراً بعد وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ ہاتھوں میں ٹوکریاں لیے اسٹرابیری کے کھیتوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ چند گھنٹوں میں یہ سرخ و گلابی پھل صوبے بھر میں افطار کی میزوں کی زینت بننے والے ہوتے ہیں۔
نصیر خان کے لیے اسٹرابیری صرف ایک مزیدار پھل نہیں بلکہ روزگار اور امید کی علامت ہے۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کی طرح ان کی زندگی بھی اسی موسمی فصل سے جڑی ہوئی ہے۔
بلند کیاریوں پر گھنے انداز میں اگائی جانے والی اسٹرابیری ایک منافع بخش فصل سمجھی جاتی ہے۔ ایک ایکڑ زمین سے عروج کے موسم میں تقریباً 17 ہزار کلوگرام تک پیداوار حاصل ہو سکتی ہے، جس سے بہتر انتظام والے کھیتوں میں دس لاکھ روپے سے زیادہ آمدنی ممکن ہوتی ہے۔ رمضان کے دوران اسٹرابیری کی قیمت 500 روپے فی کلوگرام تک پہنچ جاتی ہے، جس سے اس پھل کی مانگ اور اہمیت واضح ہوتی ہے۔
تاہم اس خوش رنگ فصل کے پیچھے کئی سنگین چیلنجز بھی موجود ہیں۔
سب سے بڑا خدشہ پانی کی غیر یقینی صورتحال ہے۔ بھارت کی جانب سے گزشتہ برس سندھ طاس معاہدے کے بعض پہلوؤں کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے بعد کسانوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کی زراعت بڑی حد تک دریائے سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر انحصار کرتی ہے، جبکہ تربیلا ڈیم سے نکلنے والا پانی گندم، چاول، گنا اور اسٹرابیری جیسی فصلوں کو زندگی بخشتا ہے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر پانی کے بہاؤ میں معمولی سی رکاوٹ بھی آ جائے تو نہ صرف فصلیں متاثر ہو سکتی ہیں بلکہ غذائی تحفظ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی نے بھی کسانوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ بے وقت بارشیں، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور شدید موسمی واقعات فصلوں کی پیداوار پر براہِ راست اثر ڈال رہے ہیں۔
چارسدہ کے کاشتکار مناہمیر خان کے مطابق اس سال بے ترتیب بارشوں کی وجہ سے اسٹرابیری کی پیداوار کم رہی، جس سے ان کی روزانہ آمدنی متاثر ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ چھوٹے کسان اکثر نقصان پورا کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
2022 کے تباہ کن سیلاب بھی کسانوں کے ذہنوں میں ابھی تک تازہ ہیں۔ دریائے کابل اور سوات کے کناروں پر آنے والے سیلاب نے کئی کھیتوں کو تباہ کر دیا تھا اور یہ واضح کر دیا تھا کہ موسمیاتی جھٹکے اس فصل کے لیے کتنے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صورتحال صرف زرعی منافع تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر سماجی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔
پشاور یونیورسٹی میں ماحولیاتی سائنس کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد خبردار کرتے ہیں کہ اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں اور بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی برقرار رہی تو پاکستان کو سنگین انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ میں گندم، چاول اور پھلوں کے باغات شدید متاثر ہو سکتے ہیں جس سے لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ماہر معاشیات اور سابق چیئرمین ڈاکٹر محمد ذوالکات ملک کے مطابق پانی کے غیر متوقع اخراج سے آبپاشی کی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے اور کسانوں کو بڑے مالی نقصانات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنا ناگزیر ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم جیسے بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر بھی ضروری ہے جو کم وقت میں مکمل ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی اور زرعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 2050 تک مزید 76 ملین ایکڑ فٹ پانی درکار ہوگا۔
صوابی کے کھیتوں میں واپس آئیں تو نصیر خان اور ان کے بھائی تیز دھوپ کے باوجود مسلسل اسٹرابیری توڑنے میں مصروف ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ان کی محنت کا مستقبل ان دریاؤں سے جڑا ہوا ہے جو ان کی زمین کو سیراب کرتے ہیں۔
نصیر خان کہتے ہیں،
“یہ فصل ہمارے خاندانوں کا پیٹ پالتی ہے۔ ہم صرف یہی امید کرتے ہیں کہ پانی بہتا رہے تاکہ ہمارے کھیت اور ہمارا روزگار زندہ رہ سکے۔”
خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کے لیے اسٹرابیری محض ایک موسمی پھل نہیں بلکہ موسمیاتی دباؤ، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور پانی کی غیر یقینی صورتحال کے درمیان جدوجہد اور حوصلے کی علامت بن چکی ہے—ایک ایسی جدوجہد جو پاکستان کی زراعت کے مستقبل کا تعین بھی کر سکتی ہےپشاور: صوابی کی تحصیل رزڑ کے زرخیز کھیتوں میں جب صبح کی پہلی سنہری کرنیں پھیلتی ہیں تو 40 سالہ کسان نصیر خان کا دن پہلے ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ فجر کی نماز کے فوراً بعد وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ ہاتھوں میں ٹوکریاں لیے اسٹرابیری کے کھیتوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ چند گھنٹوں میں یہ سرخ و گلابی پھل صوبے بھر میں افطار کی میزوں کی زینت بننے والے ہوتے ہیں۔
نصیر خان کے لیے اسٹرابیری صرف ایک مزیدار پھل نہیں بلکہ روزگار اور امید کی علامت ہے۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کی طرح ان کی زندگی بھی اسی موسمی فصل سے جڑی ہوئی ہے۔
بلند کیاریوں پر گھنے انداز میں اگائی جانے والی اسٹرابیری ایک منافع بخش فصل سمجھی جاتی ہے۔ ایک ایکڑ زمین سے عروج کے موسم میں تقریباً 17 ہزار کلوگرام تک پیداوار حاصل ہو سکتی ہے، جس سے بہتر انتظام والے کھیتوں میں دس لاکھ روپے سے زیادہ آمدنی ممکن ہوتی ہے۔ رمضان کے دوران اسٹرابیری کی قیمت 500 روپے فی کلوگرام تک پہنچ جاتی ہے، جس سے اس پھل کی مانگ اور اہمیت واضح ہوتی ہے۔
تاہم اس خوش رنگ فصل کے پیچھے کئی سنگین چیلنجز بھی موجود ہیں۔
سب سے بڑا خدشہ پانی کی غیر یقینی صورتحال ہے۔ بھارت کی جانب سے گزشتہ برس سندھ طاس معاہدے کے بعض پہلوؤں کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے بعد کسانوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کی زراعت بڑی حد تک دریائے سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر انحصار کرتی ہے، جبکہ تربیلا ڈیم سے نکلنے والا پانی گندم، چاول، گنا اور اسٹرابیری جیسی فصلوں کو زندگی بخشتا ہے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر پانی کے بہاؤ میں معمولی سی رکاوٹ بھی آ جائے تو نہ صرف فصلیں متاثر ہو سکتی ہیں بلکہ غذائی تحفظ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی نے بھی کسانوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ بے وقت بارشیں، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور شدید موسمی واقعات فصلوں کی پیداوار پر براہِ راست اثر ڈال رہے ہیں۔
چارسدہ کے کاشتکار مناہمیر خان کے مطابق اس سال بے ترتیب بارشوں کی وجہ سے اسٹرابیری کی پیداوار کم رہی، جس سے ان کی روزانہ آمدنی متاثر ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ چھوٹے کسان اکثر نقصان پورا کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
2022 کے تباہ کن سیلاب بھی کسانوں کے ذہنوں میں ابھی تک تازہ ہیں۔ دریائے کابل اور سوات کے کناروں پر آنے والے سیلاب نے کئی کھیتوں کو تباہ کر دیا تھا اور یہ واضح کر دیا تھا کہ موسمیاتی جھٹکے اس فصل کے لیے کتنے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صورتحال صرف زرعی منافع تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر سماجی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔
پشاور یونیورسٹی میں ماحولیاتی سائنس کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد خبردار کرتے ہیں کہ اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں اور بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی برقرار رہی تو پاکستان کو سنگین انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ میں گندم، چاول اور پھلوں کے باغات شدید متاثر ہو سکتے ہیں جس سے لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ماہر معاشیات اور سابق چیئرمین ڈاکٹر محمد ذوالکات ملک کے مطابق پانی کے غیر متوقع اخراج سے آبپاشی کی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے اور کسانوں کو بڑے مالی نقصانات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنا ناگزیر ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم جیسے بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر بھی ضروری ہے جو کم وقت میں مکمل ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی اور زرعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 2050 تک مزید 76 ملین ایکڑ فٹ پانی درکار ہوگا۔
صوابی کے کھیتوں میں واپس آئیں تو نصیر خان اور ان کے بھائی تیز دھوپ کے باوجود مسلسل اسٹرابیری توڑنے میں مصروف ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ان کی محنت کا مستقبل ان دریاؤں سے جڑا ہوا ہے جو ان کی زمین کو سیراب کرتے ہیں۔
نصیر خان کہتے ہیں،
“یہ فصل ہمارے خاندانوں کا پیٹ پالتی ہے۔ ہم صرف یہی امید کرتے ہیں کہ پانی بہتا رہے تاکہ ہمارے کھیت اور ہمارا روزگار زندہ رہ سکے۔”
خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کے لیے اسٹرابیری محض ایک موسمی پھل نہیں بلکہ موسمیاتی دباؤ، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور پانی کی غیر یقینی صورتحال کے درمیان جدوجہد اور حوصلے کی علامت بن چکی ہے—ایک ایسی جدوجہد جو پاکستان کی زراعت کے مستقبل کا تعین بھی کر سکتی ہےپشاور: صوابی کی تحصیل رزڑ کے زرخیز کھیتوں میں جب صبح کی پہلی سنہری کرنیں پھیلتی ہیں تو 40 سالہ کسان نصیر خان کا دن پہلے ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ فجر کی نماز کے فوراً بعد وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ ہاتھوں میں ٹوکریاں لیے اسٹرابیری کے کھیتوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ چند گھنٹوں میں یہ سرخ و گلابی پھل صوبے بھر میں افطار کی میزوں کی زینت بننے والے ہوتے ہیں۔
نصیر خان کے لیے اسٹرابیری صرف ایک مزیدار پھل نہیں بلکہ روزگار اور امید کی علامت ہے۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کی طرح ان کی زندگی بھی اسی موسمی فصل سے جڑی ہوئی ہے۔
بلند کیاریوں پر گھنے انداز میں اگائی جانے والی اسٹرابیری ایک منافع بخش فصل سمجھی جاتی ہے۔ ایک ایکڑ زمین سے عروج کے موسم میں تقریباً 17 ہزار کلوگرام تک پیداوار حاصل ہو سکتی ہے، جس سے بہتر انتظام والے کھیتوں میں دس لاکھ روپے سے زیادہ آمدنی ممکن ہوتی ہے۔ رمضان کے دوران اسٹرابیری کی قیمت 500 روپے فی کلوگرام تک پہنچ جاتی ہے، جس سے اس پھل کی مانگ اور اہمیت واضح ہوتی ہے۔
تاہم اس خوش رنگ فصل کے پیچھے کئی سنگین چیلنجز بھی موجود ہیں۔
سب سے بڑا خدشہ پانی کی غیر یقینی صورتحال ہے۔ بھارت کی جانب سے گزشتہ برس سندھ طاس معاہدے کے بعض پہلوؤں کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے بعد کسانوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کی زراعت بڑی حد تک دریائے سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر انحصار کرتی ہے، جبکہ تربیلا ڈیم سے نکلنے والا پانی گندم، چاول، گنا اور اسٹرابیری جیسی فصلوں کو زندگی بخشتا ہے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر پانی کے بہاؤ میں معمولی سی رکاوٹ بھی آ جائے تو نہ صرف فصلیں متاثر ہو سکتی ہیں بلکہ غذائی تحفظ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی نے بھی کسانوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ بے وقت بارشیں، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور شدید موسمی واقعات فصلوں کی پیداوار پر براہِ راست اثر ڈال رہے ہیں۔
چارسدہ کے کاشتکار مناہمیر خان کے مطابق اس سال بے ترتیب بارشوں کی وجہ سے اسٹرابیری کی پیداوار کم رہی، جس سے ان کی روزانہ آمدنی متاثر ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ چھوٹے کسان اکثر نقصان پورا کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
2022 کے تباہ کن سیلاب بھی کسانوں کے ذہنوں میں ابھی تک تازہ ہیں۔ دریائے کابل اور سوات کے کناروں پر آنے والے سیلاب نے کئی کھیتوں کو تباہ کر دیا تھا اور یہ واضح کر دیا تھا کہ موسمیاتی جھٹکے اس فصل کے لیے کتنے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صورتحال صرف زرعی منافع تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر سماجی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔
پشاور یونیورسٹی میں ماحولیاتی سائنس کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد خبردار کرتے ہیں کہ اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں اور بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی برقرار رہی تو پاکستان کو سنگین انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ میں گندم، چاول اور پھلوں کے باغات شدید متاثر ہو سکتے ہیں جس سے لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ماہر معاشیات اور سابق چیئرمین ڈاکٹر محمد ذوالکات ملک کے مطابق پانی کے غیر متوقع اخراج سے آبپاشی کی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے اور کسانوں کو بڑے مالی نقصانات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنا ناگزیر ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم جیسے بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر بھی ضروری ہے جو کم وقت میں مکمل ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی اور زرعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 2050 تک مزید 76 ملین ایکڑ فٹ پانی درکار ہوگا۔
صوابی کے کھیتوں میں واپس آئیں تو نصیر خان اور ان کے بھائی تیز دھوپ کے باوجود مسلسل اسٹرابیری توڑنے میں مصروف ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ان کی محنت کا مستقبل ان دریاؤں سے جڑا ہوا ہے جو ان کی زمین کو سیراب کرتے ہیں۔
نصیر خان کہتے ہیں،
“یہ فصل ہمارے خاندانوں کا پیٹ پالتی ہے۔ ہم صرف یہی امید کرتے ہیں کہ پانی بہتا رہے تاکہ ہمارے کھیت اور ہمارا روزگار زندہ رہ سکے۔”
خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کے لیے اسٹرابیری محض ایک موسمی پھل نہیں بلکہ موسمیاتی دباؤ، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور پانی کی غیر یقینی صورتحال کے درمیان جدوجہد اور حوصلے کی علامت بن چکی ہے—ایک ایسی جدوجہد جو پاکستان کی زراعت کے مستقبل کا تعین بھی کر سکتی ہےپشاور: صوابی کی تحصیل رزڑ کے زرخیز کھیتوں میں جب صبح کی پہلی سنہری کرنیں پھیلتی ہیں تو 40 سالہ کسان نصیر خان کا دن پہلے ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ فجر کی نماز کے فوراً بعد وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ ہاتھوں میں ٹوکریاں لیے اسٹرابیری کے کھیتوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ چند گھنٹوں میں یہ سرخ و گلابی پھل صوبے بھر میں افطار کی میزوں کی زینت بننے والے ہوتے ہیں۔
نصیر خان کے لیے اسٹرابیری صرف ایک مزیدار پھل نہیں بلکہ روزگار اور امید کی علامت ہے۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کی طرح ان کی زندگی بھی اسی موسمی فصل سے جڑی ہوئی ہے۔
بلند کیاریوں پر گھنے انداز میں اگائی جانے والی اسٹرابیری ایک منافع بخش فصل سمجھی جاتی ہے۔ ایک ایکڑ زمین سے عروج کے موسم میں تقریباً 17 ہزار کلوگرام تک پیداوار حاصل ہو سکتی ہے، جس سے بہتر انتظام والے کھیتوں میں دس لاکھ روپے سے زیادہ آمدنی ممکن ہوتی ہے۔ رمضان کے دوران اسٹرابیری کی قیمت 500 روپے فی کلوگرام تک پہنچ جاتی ہے، جس سے اس پھل کی مانگ اور اہمیت واضح ہوتی ہے۔
تاہم اس خوش رنگ فصل کے پیچھے کئی سنگین چیلنجز بھی موجود ہیں۔
سب سے بڑا خدشہ پانی کی غیر یقینی صورتحال ہے۔ بھارت کی جانب سے گزشتہ برس سندھ طاس معاہدے کے بعض پہلوؤں کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے بعد کسانوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کی زراعت بڑی حد تک دریائے سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر انحصار کرتی ہے، جبکہ تربیلا ڈیم سے نکلنے والا پانی گندم، چاول، گنا اور اسٹرابیری جیسی فصلوں کو زندگی بخشتا ہے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر پانی کے بہاؤ میں معمولی سی رکاوٹ بھی آ جائے تو نہ صرف فصلیں متاثر ہو سکتی ہیں بلکہ غذائی تحفظ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی نے بھی کسانوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ بے وقت بارشیں، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور شدید موسمی واقعات فصلوں کی پیداوار پر براہِ راست اثر ڈال رہے ہیں۔
چارسدہ کے کاشتکار مناہمیر خان کے مطابق اس سال بے ترتیب بارشوں کی وجہ سے اسٹرابیری کی پیداوار کم رہی، جس سے ان کی روزانہ آمدنی متاثر ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ چھوٹے کسان اکثر نقصان پورا کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
2022 کے تباہ کن سیلاب بھی کسانوں کے ذہنوں میں ابھی تک تازہ ہیں۔ دریائے کابل اور سوات کے کناروں پر آنے والے سیلاب نے کئی کھیتوں کو تباہ کر دیا تھا اور یہ واضح کر دیا تھا کہ موسمیاتی جھٹکے اس فصل کے لیے کتنے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صورتحال صرف زرعی منافع تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر سماجی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔
پشاور یونیورسٹی میں ماحولیاتی سائنس کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد خبردار کرتے ہیں کہ اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں اور بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی برقرار رہی تو پاکستان کو سنگین انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ میں گندم، چاول اور پھلوں کے باغات شدید متاثر ہو سکتے ہیں جس سے لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ماہر معاشیات اور سابق چیئرمین ڈاکٹر محمد ذوالکات ملک کے مطابق پانی کے غیر متوقع اخراج سے آبپاشی کی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے اور کسانوں کو بڑے مالی نقصانات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنا ناگزیر ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم جیسے بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر بھی ضروری ہے جو کم وقت میں مکمل ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی اور زرعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 2050 تک مزید 76 ملین ایکڑ فٹ پانی درکار ہوگا۔
صوابی کے کھیتوں میں واپس آئیں تو نصیر خان اور ان کے بھائی تیز دھوپ کے باوجود مسلسل اسٹرابیری توڑنے میں مصروف ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ان کی محنت کا مستقبل ان دریاؤں سے جڑا ہوا ہے جو ان کی زمین کو سیراب کرتے ہیں۔
نصیر خان کہتے ہیں،
“یہ فصل ہمارے خاندانوں کا پیٹ پالتی ہے۔ ہم صرف یہی امید کرتے ہیں کہ پانی بہتا رہے تاکہ ہمارے کھیت اور ہمارا روزگار زندہ رہ سکے۔”
خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کے لیے اسٹرابیری محض ایک موسمی پھل نہیں بلکہ موسمیاتی دباؤ، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور پانی کی غیر یقینی صورتحال کے درمیان جدوجہد اور حوصلے کی علامت بن چکی ہے—ایک ایسی جدوجہد جو پاکستان کی زراعت کے مستقبل کا تعین بھی کر سکتی ہےپشاور: صوابی کی تحصیل رزڑ کے زرخیز کھیتوں میں جب صبح کی پہلی سنہری کرنیں پھیلتی ہیں تو 40 سالہ کسان نصیر خان کا دن پہلے ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ فجر کی نماز کے فوراً بعد وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ ہاتھوں میں ٹوکریاں لیے اسٹرابیری کے کھیتوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ چند گھنٹوں میں یہ سرخ و گلابی پھل صوبے بھر میں افطار کی میزوں کی زینت بننے والے ہوتے ہیں۔
نصیر خان کے لیے اسٹرابیری صرف ایک مزیدار پھل نہیں بلکہ روزگار اور امید کی علامت ہے۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کی طرح ان کی زندگی بھی اسی موسمی فصل سے جڑی ہوئی ہے۔
بلند کیاریوں پر گھنے انداز میں اگائی جانے والی اسٹرابیری ایک منافع بخش فصل سمجھی جاتی ہے۔ ایک ایکڑ زمین سے عروج کے موسم میں تقریباً 17 ہزار کلوگرام تک پیداوار حاصل ہو سکتی ہے، جس سے بہتر انتظام والے کھیتوں میں دس لاکھ روپے سے زیادہ آمدنی ممکن ہوتی ہے۔ رمضان کے دوران اسٹرابیری کی قیمت 500 روپے فی کلوگرام تک پہنچ جاتی ہے، جس سے اس پھل کی مانگ اور اہمیت واضح ہوتی ہے۔
تاہم اس خوش رنگ فصل کے پیچھے کئی سنگین چیلنجز بھی موجود ہیں۔
سب سے بڑا خدشہ پانی کی غیر یقینی صورتحال ہے۔ بھارت کی جانب سے گزشتہ برس سندھ طاس معاہدے کے بعض پہلوؤں کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے بعد کسانوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کی زراعت بڑی حد تک دریائے سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر انحصار کرتی ہے، جبکہ تربیلا ڈیم سے نکلنے والا پانی گندم، چاول، گنا اور اسٹرابیری جیسی فصلوں کو زندگی بخشتا ہے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر پانی کے بہاؤ میں معمولی سی رکاوٹ بھی آ جائے تو نہ صرف فصلیں متاثر ہو سکتی ہیں بلکہ غذائی تحفظ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی نے بھی کسانوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ بے وقت بارشیں، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور شدید موسمی واقعات فصلوں کی پیداوار پر براہِ راست اثر ڈال رہے ہیں۔
چارسدہ کے کاشتکار مناہمیر خان کے مطابق اس سال بے ترتیب بارشوں کی وجہ سے اسٹرابیری کی پیداوار کم رہی، جس سے ان کی روزانہ آمدنی متاثر ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ چھوٹے کسان اکثر نقصان پورا کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
2022 کے تباہ کن سیلاب بھی کسانوں کے ذہنوں میں ابھی تک تازہ ہیں۔ دریائے کابل اور سوات کے کناروں پر آنے والے سیلاب نے کئی کھیتوں کو تباہ کر دیا تھا اور یہ واضح کر دیا تھا کہ موسمیاتی جھٹکے اس فصل کے لیے کتنے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صورتحال صرف زرعی منافع تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر سماجی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔
پشاور یونیورسٹی میں ماحولیاتی سائنس کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد خبردار کرتے ہیں کہ اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں اور بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی برقرار رہی تو پاکستان کو سنگین انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ میں گندم، چاول اور پھلوں کے باغات شدید متاثر ہو سکتے ہیں جس سے لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ماہر معاشیات اور سابق چیئرمین ڈاکٹر محمد ذوالکات ملک کے مطابق پانی کے غیر متوقع اخراج سے آبپاشی کی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے اور کسانوں کو بڑے مالی نقصانات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنا ناگزیر ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم جیسے بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر بھی ضروری ہے جو کم وقت میں مکمل ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی اور زرعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 2050 تک مزید 76 ملین ایکڑ فٹ پانی درکار ہوگا۔
صوابی کے کھیتوں میں واپس آئیں تو نصیر خان اور ان کے بھائی تیز دھوپ کے باوجود مسلسل اسٹرابیری توڑنے میں مصروف ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ان کی محنت کا مستقبل ان دریاؤں سے جڑا ہوا ہے جو ان کی زمین کو سیراب کرتے ہیں۔
نصیر خان کہتے ہیں،
“یہ فصل ہمارے خاندانوں کا پیٹ پالتی ہے۔ ہم صرف یہی امید کرتے ہیں کہ پانی بہتا رہے تاکہ ہمارے کھیت اور ہمارا روزگار زندہ رہ سکے۔”
خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کے لیے اسٹرابیری محض ایک موسمی پھل نہیں بلکہ موسمیاتی دباؤ، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور پانی کی غیر یقینی صورتحال کے درمیان جدوجہد اور حوصلے کی علامت بن چکی ہے—ایک ایسی جدوجہد جو پاکستان کی زراعت کے مستقبل کا تعین بھی کر سکتی ہےپشاور: صوابی کی تحصیل رزڑ کے زرخیز کھیتوں میں جب صبح کی پہلی سنہری کرنیں پھیلتی ہیں تو 40 سالہ کسان نصیر خان کا دن پہلے ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ فجر کی نماز کے فوراً بعد وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ ہاتھوں میں ٹوکریاں لیے اسٹرابیری کے کھیتوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ چند گھنٹوں میں یہ سرخ و گلابی پھل صوبے بھر میں افطار کی میزوں کی زینت بننے والے ہوتے ہیں۔
نصیر خان کے لیے اسٹرابیری صرف ایک مزیدار پھل نہیں بلکہ روزگار اور امید کی علامت ہے۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کی طرح ان کی زندگی بھی اسی موسمی فصل سے جڑی ہوئی ہے۔
بلند کیاریوں پر گھنے انداز میں اگائی جانے والی اسٹرابیری ایک منافع بخش فصل سمجھی جاتی ہے۔ ایک ایکڑ زمین سے عروج کے موسم میں تقریباً 17 ہزار کلوگرام تک پیداوار حاصل ہو سکتی ہے، جس سے بہتر انتظام والے کھیتوں میں دس لاکھ روپے سے زیادہ آمدنی ممکن ہوتی ہے۔ رمضان کے دوران اسٹرابیری کی قیمت 500 روپے فی کلوگرام تک پہنچ جاتی ہے، جس سے اس پھل کی مانگ اور اہمیت واضح ہوتی ہے۔
تاہم اس خوش رنگ فصل کے پیچھے کئی سنگین چیلنجز بھی موجود ہیں۔
سب سے بڑا خدشہ پانی کی غیر یقینی صورتحال ہے۔ بھارت کی جانب سے گزشتہ برس سندھ طاس معاہدے کے بعض پہلوؤں کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے بعد کسانوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کی زراعت بڑی حد تک دریائے سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر انحصار کرتی ہے، جبکہ تربیلا ڈیم سے نکلنے والا پانی گندم، چاول، گنا اور اسٹرابیری جیسی فصلوں کو زندگی بخشتا ہے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر پانی کے بہاؤ میں معمولی سی رکاوٹ بھی آ جائے تو نہ صرف فصلیں متاثر ہو سکتی ہیں بلکہ غذائی تحفظ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی نے بھی کسانوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ بے وقت بارشیں، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور شدید موسمی واقعات فصلوں کی پیداوار پر براہِ راست اثر ڈال رہے ہیں۔
چارسدہ کے کاشتکار مناہمیر خان کے مطابق اس سال بے ترتیب بارشوں کی وجہ سے اسٹرابیری کی پیداوار کم رہی، جس سے ان کی روزانہ آمدنی متاثر ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ چھوٹے کسان اکثر نقصان پورا کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
2022 کے تباہ کن سیلاب بھی کسانوں کے ذہنوں میں ابھی تک تازہ ہیں۔ دریائے کابل اور سوات کے کناروں پر آنے والے سیلاب نے کئی کھیتوں کو تباہ کر دیا تھا اور یہ واضح کر دیا تھا کہ موسمیاتی جھٹکے اس فصل کے لیے کتنے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صورتحال صرف زرعی منافع تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر سماجی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔
پشاور یونیورسٹی میں ماحولیاتی سائنس کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد خبردار کرتے ہیں کہ اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں اور بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی برقرار رہی تو پاکستان کو سنگین انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ میں گندم، چاول اور پھلوں کے باغات شدید متاثر ہو سکتے ہیں جس سے لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ماہر معاشیات اور سابق چیئرمین ڈاکٹر محمد ذوالکات ملک کے مطابق پانی کے غیر متوقع اخراج سے آبپاشی کی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے اور کسانوں کو بڑے مالی نقصانات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنا ناگزیر ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم جیسے بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر بھی ضروری ہے جو کم وقت میں مکمل ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی اور زرعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 2050 تک مزید 76 ملین ایکڑ فٹ پانی درکار ہوگا۔
صوابی کے کھیتوں میں واپس آئیں تو نصیر خان اور ان کے بھائی تیز دھوپ کے باوجود مسلسل اسٹرابیری توڑنے میں مصروف ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ان کی محنت کا مستقبل ان دریاؤں سے جڑا ہوا ہے جو ان کی زمین کو سیراب کرتے ہیں۔
نصیر خان کہتے ہیں،
“یہ فصل ہمارے خاندانوں کا پیٹ پالتی ہے۔ ہم صرف یہی امید کرتے ہیں کہ پانی بہتا رہے تاکہ ہمارے کھیت اور ہمارا روزگار زندہ رہ سکے۔”
خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کے لیے اسٹرابیری محض ایک موسمی پھل نہیں بلکہ موسمیاتی دباؤ، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور پانی کی غیر یقینی صورتحال کے درمیان جدوجہد اور حوصلے کی علامت بن چکی ہے—ایک ایسی جدوجہد جو پاکستان کی زراعت کے مستقبل کا تعین بھی کر سکتی ہےپشاور: صوابی کی تحصیل رزڑ کے زرخیز کھیتوں میں جب صبح کی پہلی سنہری کرنیں پھیلتی ہیں تو 40 سالہ کسان نصیر خان کا دن پہلے ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ فجر کی نماز کے فوراً بعد وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ ہاتھوں میں ٹوکریاں لیے اسٹرابیری کے کھیتوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ چند گھنٹوں میں یہ سرخ و گلابی پھل صوبے بھر میں افطار کی میزوں کی زینت بننے والے ہوتے ہیں۔
نصیر خان کے لیے اسٹرابیری صرف ایک مزیدار پھل نہیں بلکہ روزگار اور امید کی علامت ہے۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کی طرح ان کی زندگی بھی اسی موسمی فصل سے جڑی ہوئی ہے۔
بلند کیاریوں پر گھنے انداز میں اگائی جانے والی اسٹرابیری ایک منافع بخش فصل سمجھی جاتی ہے۔ ایک ایکڑ زمین سے عروج کے موسم میں تقریباً 17 ہزار کلوگرام تک پیداوار حاصل ہو سکتی ہے، جس سے بہتر انتظام والے کھیتوں میں دس لاکھ روپے سے زیادہ آمدنی ممکن ہوتی ہے۔ رمضان کے دوران اسٹرابیری کی قیمت 500 روپے فی کلوگرام تک پہنچ جاتی ہے، جس سے اس پھل کی مانگ اور اہمیت واضح ہوتی ہے۔
تاہم اس خوش رنگ فصل کے پیچھے کئی سنگین چیلنجز بھی موجود ہیں۔
سب سے بڑا خدشہ پانی کی غیر یقینی صورتحال ہے۔ بھارت کی جانب سے گزشتہ برس سندھ طاس معاہدے کے بعض پہلوؤں کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے بعد کسانوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کی زراعت بڑی حد تک دریائے سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر انحصار کرتی ہے، جبکہ تربیلا ڈیم سے نکلنے والا پانی گندم، چاول، گنا اور اسٹرابیری جیسی فصلوں کو زندگی بخشتا ہے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر پانی کے بہاؤ میں معمولی سی رکاوٹ بھی آ جائے تو نہ صرف فصلیں متاثر ہو سکتی ہیں بلکہ غذائی تحفظ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی نے بھی کسانوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ بے وقت بارشیں، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور شدید موسمی واقعات فصلوں کی پیداوار پر براہِ راست اثر ڈال رہے ہیں۔
چارسدہ کے کاشتکار مناہمیر خان کے مطابق اس سال بے ترتیب بارشوں کی وجہ سے اسٹرابیری کی پیداوار کم رہی، جس سے ان کی روزانہ آمدنی متاثر ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ چھوٹے کسان اکثر نقصان پورا کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
2022 کے تباہ کن سیلاب بھی کسانوں کے ذہنوں میں ابھی تک تازہ ہیں۔ دریائے کابل اور سوات کے کناروں پر آنے والے سیلاب نے کئی کھیتوں کو تباہ کر دیا تھا اور یہ واضح کر دیا تھا کہ موسمیاتی جھٹکے اس فصل کے لیے کتنے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صورتحال صرف زرعی منافع تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر سماجی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔
پشاور یونیورسٹی میں ماحولیاتی سائنس کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد خبردار کرتے ہیں کہ اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں اور بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی برقرار رہی تو پاکستان کو سنگین انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ میں گندم، چاول اور پھلوں کے باغات شدید متاثر ہو سکتے ہیں جس سے لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ماہر معاشیات اور سابق چیئرمین ڈاکٹر محمد ذوالکات ملک کے مطابق پانی کے غیر متوقع اخراج سے آبپاشی کی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے اور کسانوں کو بڑے مالی نقصانات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنا ناگزیر ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم جیسے بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر بھی ضروری ہے جو کم وقت میں مکمل ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی اور زرعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 2050 تک مزید 76 ملین ایکڑ فٹ پانی درکار ہوگا۔
صوابی کے کھیتوں میں واپس آئیں تو نصیر خان اور ان کے بھائی تیز دھوپ کے باوجود مسلسل اسٹرابیری توڑنے میں مصروف ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ان کی محنت کا مستقبل ان دریاؤں سے جڑا ہوا ہے جو ان کی زمین کو سیراب کرتے ہیں۔
نصیر خان کہتے ہیں،
“یہ فصل ہمارے خاندانوں کا پیٹ پالتی ہے۔ ہم صرف یہی امید کرتے ہیں کہ پانی بہتا رہے تاکہ ہمارے کھیت اور ہمارا روزگار زندہ رہ سکے۔”
خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کے لیے اسٹرابیری محض ایک موسمی پھل نہیں بلکہ موسمیاتی دباؤ، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور پانی کی غیر یقینی صورتحال کے درمیان جدوجہد اور حوصلے کی علامت بن چکی ہے—ایک ایسی جدوجہد جو پاکستان کی زراعت کے مستقبل کا تعین بھی کر سکتی ہےپشاور: صوابی کی تحصیل رزڑ کے زرخیز کھیتوں میں جب صبح کی پہلی سنہری کرنیں پھیلتی ہیں تو 40 سالہ کسان نصیر خان کا دن پہلے ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ فجر کی نماز کے فوراً بعد وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ ہاتھوں میں ٹوکریاں لیے اسٹرابیری کے کھیتوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ چند گھنٹوں میں یہ سرخ و گلابی پھل صوبے بھر میں افطار کی میزوں کی زینت بننے والے ہوتے ہیں۔
نصیر خان کے لیے اسٹرابیری صرف ایک مزیدار پھل نہیں بلکہ روزگار اور امید کی علامت ہے۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کی طرح ان کی زندگی بھی اسی موسمی فصل سے جڑی ہوئی ہے۔
بلند کیاریوں پر گھنے انداز میں اگائی جانے والی اسٹرابیری ایک منافع بخش فصل سمجھی جاتی ہے۔ ایک ایکڑ زمین سے عروج کے موسم میں تقریباً 17 ہزار کلوگرام تک پیداوار حاصل ہو سکتی ہے، جس سے بہتر انتظام والے کھیتوں میں دس لاکھ روپے سے زیادہ آمدنی ممکن ہوتی ہے۔ رمضان کے دوران اسٹرابیری کی قیمت 500 روپے فی کلوگرام تک پہنچ جاتی ہے، جس سے اس پھل کی مانگ اور اہمیت واضح ہوتی ہے۔
تاہم اس خوش رنگ فصل کے پیچھے کئی سنگین چیلنجز بھی موجود ہیں۔
سب سے بڑا خدشہ پانی کی غیر یقینی صورتحال ہے۔ بھارت کی جانب سے گزشتہ برس سندھ طاس معاہدے کے بعض پہلوؤں کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے بعد کسانوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کی زراعت بڑی حد تک دریائے سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر انحصار کرتی ہے، جبکہ تربیلا ڈیم سے نکلنے والا پانی گندم، چاول، گنا اور اسٹرابیری جیسی فصلوں کو زندگی بخشتا ہے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر پانی کے بہاؤ میں معمولی سی رکاوٹ بھی آ جائے تو نہ صرف فصلیں متاثر ہو سکتی ہیں بلکہ غذائی تحفظ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی نے بھی کسانوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ بے وقت بارشیں، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور شدید موسمی واقعات فصلوں کی پیداوار پر براہِ راست اثر ڈال رہے ہیں۔
چارسدہ کے کاشتکار مناہمیر خان کے مطابق اس سال بے ترتیب بارشوں کی وجہ سے اسٹرابیری کی پیداوار کم رہی، جس سے ان کی روزانہ آمدنی متاثر ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ چھوٹے کسان اکثر نقصان پورا کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
2022 کے تباہ کن سیلاب بھی کسانوں کے ذہنوں میں ابھی تک تازہ ہیں۔ دریائے کابل اور سوات کے کناروں پر آنے والے سیلاب نے کئی کھیتوں کو تباہ کر دیا تھا اور یہ واضح کر دیا تھا کہ موسمیاتی جھٹکے اس فصل کے لیے کتنے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صورتحال صرف زرعی منافع تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر سماجی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔
پشاور یونیورسٹی میں ماحولیاتی سائنس کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد خبردار کرتے ہیں کہ اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں اور بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی برقرار رہی تو پاکستان کو سنگین انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ میں گندم، چاول اور پھلوں کے باغات شدید متاثر ہو سکتے ہیں جس سے لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ماہر معاشیات اور سابق چیئرمین ڈاکٹر محمد ذوالکات ملک کے مطابق پانی کے غیر متوقع اخراج سے آبپاشی کی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے اور کسانوں کو بڑے مالی نقصانات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنا ناگزیر ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم جیسے بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر بھی ضروری ہے جو کم وقت میں مکمل ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی اور زرعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 2050 تک مزید 76 ملین ایکڑ فٹ پانی درکار ہوگا۔
صوابی کے کھیتوں میں واپس آئیں تو نصیر خان اور ان کے بھائی تیز دھوپ کے باوجود مسلسل اسٹرابیری توڑنے میں مصروف ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ان کی محنت کا مستقبل ان دریاؤں سے جڑا ہوا ہے جو ان کی زمین کو سیراب کرتے ہیں۔
نصیر خان کہتے ہیں،
“یہ فصل ہمارے خاندانوں کا پیٹ پالتی ہے۔ ہم صرف یہی امید کرتے ہیں کہ پانی بہتا رہے تاکہ ہمارے کھیت اور ہمارا روزگار زندہ رہ سکے۔”
خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کے لیے اسٹرابیری محض ایک موسمی پھل نہیں بلکہ موسمیاتی دباؤ، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور پانی کی غیر یقینی صورتحال کے درمیان جدوجہد اور حوصلے کی علامت بن چکی ہے—ایک ایسی جدوجہد جو پاکستان کی زراعت کے مستقبل کا تعین بھی کر سکتی ہےپشاور: صوابی کی تحصیل رزڑ کے زرخیز کھیتوں میں جب صبح کی پہلی سنہری کرنیں پھیلتی ہیں تو 40 سالہ کسان نصیر خان کا دن پہلے ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ فجر کی نماز کے فوراً بعد وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ ہاتھوں میں ٹوکریاں لیے اسٹرابیری کے کھیتوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ چند گھنٹوں میں یہ سرخ و گلابی پھل صوبے بھر میں افطار کی میزوں کی زینت بننے والے ہوتے ہیں۔
نصیر خان کے لیے اسٹرابیری صرف ایک مزیدار پھل نہیں بلکہ روزگار اور امید کی علامت ہے۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کی طرح ان کی زندگی بھی اسی موسمی فصل سے جڑی ہوئی ہے۔
بلند کیاریوں پر گھنے انداز میں اگائی جانے والی اسٹرابیری ایک منافع بخش فصل سمجھی جاتی ہے۔ ایک ایکڑ زمین سے عروج کے موسم میں تقریباً 17 ہزار کلوگرام تک پیداوار حاصل ہو سکتی ہے، جس سے بہتر انتظام والے کھیتوں میں دس لاکھ روپے سے زیادہ آمدنی ممکن ہوتی ہے۔ رمضان کے دوران اسٹرابیری کی قیمت 500 روپے فی کلوگرام تک پہنچ جاتی ہے، جس سے اس پھل کی مانگ اور اہمیت واضح ہوتی ہے۔
تاہم اس خوش رنگ فصل کے پیچھے کئی سنگین چیلنجز بھی موجود ہیں۔
سب سے بڑا خدشہ پانی کی غیر یقینی صورتحال ہے۔ بھارت کی جانب سے گزشتہ برس سندھ طاس معاہدے کے بعض پہلوؤں کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے بعد کسانوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کی زراعت بڑی حد تک دریائے سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر انحصار کرتی ہے، جبکہ تربیلا ڈیم سے نکلنے والا پانی گندم، چاول، گنا اور اسٹرابیری جیسی فصلوں کو زندگی بخشتا ہے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر پانی کے بہاؤ میں معمولی سی رکاوٹ بھی آ جائے تو نہ صرف فصلیں متاثر ہو سکتی ہیں بلکہ غذائی تحفظ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی نے بھی کسانوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ بے وقت بارشیں، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور شدید موسمی واقعات فصلوں کی پیداوار پر براہِ راست اثر ڈال رہے ہیں۔
چارسدہ کے کاشتکار مناہمیر خان کے مطابق اس سال بے ترتیب بارشوں کی وجہ سے اسٹرابیری کی پیداوار کم رہی، جس سے ان کی روزانہ آمدنی متاثر ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ چھوٹے کسان اکثر نقصان پورا کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
2022 کے تباہ کن سیلاب بھی کسانوں کے ذہنوں میں ابھی تک تازہ ہیں۔ دریائے کابل اور سوات کے کناروں پر آنے والے سیلاب نے کئی کھیتوں کو تباہ کر دیا تھا اور یہ واضح کر دیا تھا کہ موسمیاتی جھٹکے اس فصل کے لیے کتنے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صورتحال صرف زرعی منافع تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر سماجی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔
پشاور یونیورسٹی میں ماحولیاتی سائنس کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد خبردار کرتے ہیں کہ اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں اور بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی برقرار رہی تو پاکستان کو سنگین انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ میں گندم، چاول اور پھلوں کے باغات شدید متاثر ہو سکتے ہیں جس سے لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ماہر معاشیات اور سابق چیئرمین ڈاکٹر محمد ذوالکات ملک کے مطابق پانی کے غیر متوقع اخراج سے آبپاشی کی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے اور کسانوں کو بڑے مالی نقصانات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنا ناگزیر ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم جیسے بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر بھی ضروری ہے جو کم وقت میں مکمل ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی اور زرعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 2050 تک مزید 76 ملین ایکڑ فٹ پانی درکار ہوگا۔
صوابی کے کھیتوں میں واپس آئیں تو نصیر خان اور ان کے بھائی تیز دھوپ کے باوجود مسلسل اسٹرابیری توڑنے میں مصروف ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ان کی محنت کا مستقبل ان دریاؤں سے جڑا ہوا ہے جو ان کی زمین کو سیراب کرتے ہیں۔
نصیر خان کہتے ہیں،
“یہ فصل ہمارے خاندانوں کا پیٹ پالتی ہے۔ ہم صرف یہی امید کرتے ہیں کہ پانی بہتا رہے تاکہ ہمارے کھیت اور ہمارا روزگار زندہ رہ سکے۔”
خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کے لیے اسٹرابیری محض ایک موسمی پھل نہیں بلکہ موسمیاتی دباؤ، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور پانی کی غیر یقینی صورتحال کے درمیان جدوجہد اور حوصلے کی علامت بن چکی ہے—ایک ایسی جدوجہد جو پاکستان کی زراعت کے مستقبل کا تعین بھی کر سکتی ہےپشاور: صوابی کی تحصیل رزڑ کے زرخیز کھیتوں میں جب صبح کی پہلی سنہری کرنیں پھیلتی ہیں تو 40 سالہ کسان نصیر خان کا دن پہلے ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ فجر کی نماز کے فوراً بعد وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ ہاتھوں میں ٹوکریاں لیے اسٹرابیری کے کھیتوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ چند گھنٹوں میں یہ سرخ و گلابی پھل صوبے بھر میں افطار کی میزوں کی زینت بننے والے ہوتے ہیں۔
نصیر خان کے لیے اسٹرابیری صرف ایک مزیدار پھل نہیں بلکہ روزگار اور امید کی علامت ہے۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کی طرح ان کی زندگی بھی اسی موسمی فصل سے جڑی ہوئی ہے۔
بلند کیاریوں پر گھنے انداز میں اگائی جانے والی اسٹرابیری ایک منافع بخش فصل سمجھی جاتی ہے۔ ایک ایکڑ زمین سے عروج کے موسم میں تقریباً 17 ہزار کلوگرام تک پیداوار حاصل ہو سکتی ہے، جس سے بہتر انتظام والے کھیتوں میں دس لاکھ روپے سے زیادہ آمدنی ممکن ہوتی ہے۔ رمضان کے دوران اسٹرابیری کی قیمت 500 روپے فی کلوگرام تک پہنچ جاتی ہے، جس سے اس پھل کی مانگ اور اہمیت واضح ہوتی ہے۔
تاہم اس خوش رنگ فصل کے پیچھے کئی سنگین چیلنجز بھی موجود ہیں۔
سب سے بڑا خدشہ پانی کی غیر یقینی صورتحال ہے۔ بھارت کی جانب سے گزشتہ برس سندھ طاس معاہدے کے بعض پہلوؤں کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے بعد کسانوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کی زراعت بڑی حد تک دریائے سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر انحصار کرتی ہے، جبکہ تربیلا ڈیم سے نکلنے والا پانی گندم، چاول، گنا اور اسٹرابیری جیسی فصلوں کو زندگی بخشتا ہے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر پانی کے بہاؤ میں معمولی سی رکاوٹ بھی آ جائے تو نہ صرف فصلیں متاثر ہو سکتی ہیں بلکہ غذائی تحفظ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی نے بھی کسانوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ بے وقت بارشیں، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور شدید موسمی واقعات فصلوں کی پیداوار پر براہِ راست اثر ڈال رہے ہیں۔
چارسدہ کے کاشتکار مناہمیر خان کے مطابق اس سال بے ترتیب بارشوں کی وجہ سے اسٹرابیری کی پیداوار کم رہی، جس سے ان کی روزانہ آمدنی متاثر ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ چھوٹے کسان اکثر نقصان پورا کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
2022 کے تباہ کن سیلاب بھی کسانوں کے ذہنوں میں ابھی تک تازہ ہیں۔ دریائے کابل اور سوات کے کناروں پر آنے والے سیلاب نے کئی کھیتوں کو تباہ کر دیا تھا اور یہ واضح کر دیا تھا کہ موسمیاتی جھٹکے اس فصل کے لیے کتنے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صورتحال صرف زرعی منافع تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر سماجی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔
پشاور یونیورسٹی میں ماحولیاتی سائنس کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد خبردار کرتے ہیں کہ اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں اور بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی برقرار رہی تو پاکستان کو سنگین انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ میں گندم، چاول اور پھلوں کے باغات شدید متاثر ہو سکتے ہیں جس سے لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ماہر معاشیات اور سابق چیئرمین ڈاکٹر محمد ذوالکات ملک کے مطابق پانی کے غیر متوقع اخراج سے آبپاشی کی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے اور کسانوں کو بڑے مالی نقصانات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنا ناگزیر ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم جیسے بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر بھی ضروری ہے جو کم وقت میں مکمل ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی اور زرعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 2050 تک مزید 76 ملین ایکڑ فٹ پانی درکار ہوگا۔
صوابی کے کھیتوں میں واپس آئیں تو نصیر خان اور ان کے بھائی تیز دھوپ کے باوجود مسلسل اسٹرابیری توڑنے میں مصروف ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ان کی محنت کا مستقبل ان دریاؤں سے جڑا ہوا ہے جو ان کی زمین کو سیراب کرتے ہیں۔
نصیر خان کہتے ہیں،
“یہ فصل ہمارے خاندانوں کا پیٹ پالتی ہے۔ ہم صرف یہی امید کرتے ہیں کہ پانی بہتا رہے تاکہ ہمارے کھیت اور ہمارا روزگار زندہ رہ سکے۔”
خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کے لیے اسٹرابیری محض ایک موسمی پھل نہیں بلکہ موسمیاتی دباؤ، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور پانی کی غیر یقینی صورتحال کے درمیان جدوجہد اور حوصلے کی علامت بن چکی ہے—ایک ایسی جدوجہد جو پاکستان کی زراعت کے مستقبل کا تعین بھی کر سکتی ہےپشاور: صوابی کی تحصیل رزڑ کے زرخیز کھیتوں میں جب صبح کی پہلی سنہری کرنیں پھیلتی ہیں تو 40 سالہ کسان نصیر خان کا دن پہلے ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ فجر کی نماز کے فوراً بعد وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ ہاتھوں میں ٹوکریاں لیے اسٹرابیری کے کھیتوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ چند گھنٹوں میں یہ سرخ و گلابی پھل صوبے بھر میں افطار کی میزوں کی زینت بننے والے ہوتے ہیں۔
نصیر خان کے لیے اسٹرابیری صرف ایک مزیدار پھل نہیں بلکہ روزگار اور امید کی علامت ہے۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کی طرح ان کی زندگی بھی اسی موسمی فصل سے جڑی ہوئی ہے۔
بلند کیاریوں پر گھنے انداز میں اگائی جانے والی اسٹرابیری ایک منافع بخش فصل سمجھی جاتی ہے۔ ایک ایکڑ زمین سے عروج کے موسم میں تقریباً 17 ہزار کلوگرام تک پیداوار حاصل ہو سکتی ہے، جس سے بہتر انتظام والے کھیتوں میں دس لاکھ روپے سے زیادہ آمدنی ممکن ہوتی ہے۔ رمضان کے دوران اسٹرابیری کی قیمت 500 روپے فی کلوگرام تک پہنچ جاتی ہے، جس سے اس پھل کی مانگ اور اہمیت واضح ہوتی ہے۔
تاہم اس خوش رنگ فصل کے پیچھے کئی سنگین چیلنجز بھی موجود ہیں۔
سب سے بڑا خدشہ پانی کی غیر یقینی صورتحال ہے۔ بھارت کی جانب سے گزشتہ برس سندھ طاس معاہدے کے بعض پہلوؤں کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے بعد کسانوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کی زراعت بڑی حد تک دریائے سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر انحصار کرتی ہے، جبکہ تربیلا ڈیم سے نکلنے والا پانی گندم، چاول، گنا اور اسٹرابیری جیسی فصلوں کو زندگی بخشتا ہے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر پانی کے بہاؤ میں معمولی سی رکاوٹ بھی آ جائے تو نہ صرف فصلیں متاثر ہو سکتی ہیں بلکہ غذائی تحفظ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی نے بھی کسانوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ بے وقت بارشیں، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور شدید موسمی واقعات فصلوں کی پیداوار پر براہِ راست اثر ڈال رہے ہیں۔
چارسدہ کے کاشتکار مناہمیر خان کے مطابق اس سال بے ترتیب بارشوں کی وجہ سے اسٹرابیری کی پیداوار کم رہی، جس سے ان کی روزانہ آمدنی متاثر ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ چھوٹے کسان اکثر نقصان پورا کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
2022 کے تباہ کن سیلاب بھی کسانوں کے ذہنوں میں ابھی تک تازہ ہیں۔ دریائے کابل اور سوات کے کناروں پر آنے والے سیلاب نے کئی کھیتوں کو تباہ کر دیا تھا اور یہ واضح کر دیا تھا کہ موسمیاتی جھٹکے اس فصل کے لیے کتنے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صورتحال صرف زرعی منافع تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر سماجی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔
پشاور یونیورسٹی میں ماحولیاتی سائنس کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد خبردار کرتے ہیں کہ اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں اور بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی برقرار رہی تو پاکستان کو سنگین انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ میں گندم، چاول اور پھلوں کے باغات شدید متاثر ہو سکتے ہیں جس سے لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ماہر معاشیات اور سابق چیئرمین ڈاکٹر محمد ذوالکات ملک کے مطابق پانی کے غیر متوقع اخراج سے آبپاشی کی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے اور کسانوں کو بڑے مالی نقصانات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنا ناگزیر ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم جیسے بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر بھی ضروری ہے جو کم وقت میں مکمل ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی اور زرعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 2050 تک مزید 76 ملین ایکڑ فٹ پانی درکار ہوگا۔
صوابی کے کھیتوں میں واپس آئیں تو نصیر خان اور ان کے بھائی تیز دھوپ کے باوجود مسلسل اسٹرابیری توڑنے میں مصروف ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ان کی محنت کا مستقبل ان دریاؤں سے جڑا ہوا ہے جو ان کی زمین کو سیراب کرتے ہیں۔
نصیر خان کہتے ہیں،
“یہ فصل ہمارے خاندانوں کا پیٹ پالتی ہے۔ ہم صرف یہی امید کرتے ہیں کہ پانی بہتا رہے تاکہ ہمارے کھیت اور ہمارا روزگار زندہ رہ سکے۔”
خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کے لیے اسٹرابیری محض ایک موسمی پھل نہیں بلکہ موسمیاتی دباؤ، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور پانی کی غیر یقینی صورتحال کے درمیان جدوجہد اور حوصلے کی علامت بن چکی ہے—ایک ایسی جدوجہد جو پاکستان کی زراعت کے مستقبل کا تعین بھی کر سکتی ہےپشاور: صوابی کی تحصیل رزڑ کے زرخیز کھیتوں میں جب صبح کی پہلی سنہری کرنیں پھیلتی ہیں تو 40 سالہ کسان نصیر خان کا دن پہلے ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ فجر کی نماز کے فوراً بعد وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ ہاتھوں میں ٹوکریاں لیے اسٹرابیری کے کھیتوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ چند گھنٹوں میں یہ سرخ و گلابی پھل صوبے بھر میں افطار کی میزوں کی زینت بننے والے ہوتے ہیں۔
نصیر خان کے لیے اسٹرابیری صرف ایک مزیدار پھل نہیں بلکہ روزگار اور امید کی علامت ہے۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کی طرح ان کی زندگی بھی اسی موسمی فصل سے جڑی ہوئی ہے۔
بلند کیاریوں پر گھنے انداز میں اگائی جانے والی اسٹرابیری ایک منافع بخش فصل سمجھی جاتی ہے۔ ایک ایکڑ زمین سے عروج کے موسم میں تقریباً 17 ہزار کلوگرام تک پیداوار حاصل ہو سکتی ہے، جس سے بہتر انتظام والے کھیتوں میں دس لاکھ روپے سے زیادہ آمدنی ممکن ہوتی ہے۔ رمضان کے دوران اسٹرابیری کی قیمت 500 روپے فی کلوگرام تک پہنچ جاتی ہے، جس سے اس پھل کی مانگ اور اہمیت واضح ہوتی ہے۔
تاہم اس خوش رنگ فصل کے پیچھے کئی سنگین چیلنجز بھی موجود ہیں۔
سب سے بڑا خدشہ پانی کی غیر یقینی صورتحال ہے۔ بھارت کی جانب سے گزشتہ برس سندھ طاس معاہدے کے بعض پہلوؤں کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے بعد کسانوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کی زراعت بڑی حد تک دریائے سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر انحصار کرتی ہے، جبکہ تربیلا ڈیم سے نکلنے والا پانی گندم، چاول، گنا اور اسٹرابیری جیسی فصلوں کو زندگی بخشتا ہے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر پانی کے بہاؤ میں معمولی سی رکاوٹ بھی آ جائے تو نہ صرف فصلیں متاثر ہو سکتی ہیں بلکہ غذائی تحفظ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی نے بھی کسانوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ بے وقت بارشیں، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور شدید موسمی واقعات فصلوں کی پیداوار پر براہِ راست اثر ڈال رہے ہیں۔
چارسدہ کے کاشتکار مناہمیر خان کے مطابق اس سال بے ترتیب بارشوں کی وجہ سے اسٹرابیری کی پیداوار کم رہی، جس سے ان کی روزانہ آمدنی متاثر ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ چھوٹے کسان اکثر نقصان پورا کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
2022 کے تباہ کن سیلاب بھی کسانوں کے ذہنوں میں ابھی تک تازہ ہیں۔ دریائے کابل اور سوات کے کناروں پر آنے والے سیلاب نے کئی کھیتوں کو تباہ کر دیا تھا اور یہ واضح کر دیا تھا کہ موسمیاتی جھٹکے اس فصل کے لیے کتنے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صورتحال صرف زرعی منافع تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر سماجی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔
پشاور یونیورسٹی میں ماحولیاتی سائنس کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد خبردار کرتے ہیں کہ اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں اور بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی برقرار رہی تو پاکستان کو سنگین انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ میں گندم، چاول اور پھلوں کے باغات شدید متاثر ہو سکتے ہیں جس سے لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ماہر معاشیات اور سابق چیئرمین ڈاکٹر محمد ذوالکات ملک کے مطابق پانی کے غیر متوقع اخراج سے آبپاشی کی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے اور کسانوں کو بڑے مالی نقصانات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنا ناگزیر ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم جیسے بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر بھی ضروری ہے جو کم وقت میں مکمل ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی اور زرعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 2050 تک مزید 76 ملین ایکڑ فٹ پانی درکار ہوگا۔
صوابی کے کھیتوں میں واپس آئیں تو نصیر خان اور ان کے بھائی تیز دھوپ کے باوجود مسلسل اسٹرابیری توڑنے میں مصروف ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ان کی محنت کا مستقبل ان دریاؤں سے جڑا ہوا ہے جو ان کی زمین کو سیراب کرتے ہیں۔
نصیر خان کہتے ہیں،
“یہ فصل ہمارے خاندانوں کا پیٹ پالتی ہے۔ ہم صرف یہی امید کرتے ہیں کہ پانی بہتا رہے تاکہ ہمارے کھیت اور ہمارا روزگار زندہ رہ سکے۔”
خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کے لیے اسٹرابیری محض ایک موسمی پھل نہیں بلکہ موسمیاتی دباؤ، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور پانی کی غیر یقینی صورتحال کے درمیان جدوجہد اور حوصلے کی علامت بن چکی ہے—ایک ایسی جدوجہد جو پاکستان کی زراعت کے مستقبل کا تعین بھی کر سکتی ہےپشاور: صوابی کی تحصیل رزڑ کے زرخیز کھیتوں میں جب صبح کی پہلی سنہری کرنیں پھیلتی ہیں تو 40 سالہ کسان نصیر خان کا دن پہلے ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ فجر کی نماز کے فوراً بعد وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ ہاتھوں میں ٹوکریاں لیے اسٹرابیری کے کھیتوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ چند گھنٹوں میں یہ سرخ و گلابی پھل صوبے بھر میں افطار کی میزوں کی زینت بننے والے ہوتے ہیں۔
نصیر خان کے لیے اسٹرابیری صرف ایک مزیدار پھل نہیں بلکہ روزگار اور امید کی علامت ہے۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کی طرح ان کی زندگی بھی اسی موسمی فصل سے جڑی ہوئی ہے۔
بلند کیاریوں پر گھنے انداز میں اگائی جانے والی اسٹرابیری ایک منافع بخش فصل سمجھی جاتی ہے۔ ایک ایکڑ زمین سے عروج کے موسم میں تقریباً 17 ہزار کلوگرام تک پیداوار حاصل ہو سکتی ہے، جس سے بہتر انتظام والے کھیتوں میں دس لاکھ روپے سے زیادہ آمدنی ممکن ہوتی ہے۔ رمضان کے دوران اسٹرابیری کی قیمت 500 روپے فی کلوگرام تک پہنچ جاتی ہے، جس سے اس پھل کی مانگ اور اہمیت واضح ہوتی ہے۔
تاہم اس خوش رنگ فصل کے پیچھے کئی سنگین چیلنجز بھی موجود ہیں۔
سب سے بڑا خدشہ پانی کی غیر یقینی صورتحال ہے۔ بھارت کی جانب سے گزشتہ برس سندھ طاس معاہدے کے بعض پہلوؤں کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے بعد کسانوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کی زراعت بڑی حد تک دریائے سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر انحصار کرتی ہے، جبکہ تربیلا ڈیم سے نکلنے والا پانی گندم، چاول، گنا اور اسٹرابیری جیسی فصلوں کو زندگی بخشتا ہے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر پانی کے بہاؤ میں معمولی سی رکاوٹ بھی آ جائے تو نہ صرف فصلیں متاثر ہو سکتی ہیں بلکہ غذائی تحفظ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی نے بھی کسانوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ بے وقت بارشیں، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور شدید موسمی واقعات فصلوں کی پیداوار پر براہِ راست اثر ڈال رہے ہیں۔
چارسدہ کے کاشتکار مناہمیر خان کے مطابق اس سال بے ترتیب بارشوں کی وجہ سے اسٹرابیری کی پیداوار کم رہی، جس سے ان کی روزانہ آمدنی متاثر ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ چھوٹے کسان اکثر نقصان پورا کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
2022 کے تباہ کن سیلاب بھی کسانوں کے ذہنوں میں ابھی تک تازہ ہیں۔ دریائے کابل اور سوات کے کناروں پر آنے والے سیلاب نے کئی کھیتوں کو تباہ کر دیا تھا اور یہ واضح کر دیا تھا کہ موسمیاتی جھٹکے اس فصل کے لیے کتنے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صورتحال صرف زرعی منافع تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر سماجی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔
پشاور یونیورسٹی میں ماحولیاتی سائنس کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد خبردار کرتے ہیں کہ اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں اور بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی برقرار رہی تو پاکستان کو سنگین انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ میں گندم، چاول اور پھلوں کے باغات شدید متاثر ہو سکتے ہیں جس سے لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ماہر معاشیات اور سابق چیئرمین ڈاکٹر محمد ذوالکات ملک کے مطابق پانی کے غیر متوقع اخراج سے آبپاشی کی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے اور کسانوں کو بڑے مالی نقصانات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنا ناگزیر ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم جیسے بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر بھی ضروری ہے جو کم وقت میں مکمل ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی اور زرعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 2050 تک مزید 76 ملین ایکڑ فٹ پانی درکار ہوگا۔
صوابی کے کھیتوں میں واپس آئیں تو نصیر خان اور ان کے بھائی تیز دھوپ کے باوجود مسلسل اسٹرابیری توڑنے میں مصروف ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ان کی محنت کا مستقبل ان دریاؤں سے جڑا ہوا ہے جو ان کی زمین کو سیراب کرتے ہیں۔
نصیر خان کہتے ہیں،
“یہ فصل ہمارے خاندانوں کا پیٹ پالتی ہے۔ ہم صرف یہی امید کرتے ہیں کہ پانی بہتا رہے تاکہ ہمارے کھیت اور ہمارا روزگار زندہ رہ سکے۔”
خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کے لیے اسٹرابیری محض ایک موسمی پھل نہیں بلکہ موسمیاتی دباؤ، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور پانی کی غیر یقینی صورتحال کے درمیان جدوجہد اور حوصلے کی علامت بن چکی ہے—ایک ایسی جدوجہد جو پاکستان کی زراعت کے مستقبل کا تعین بھی کر سکتی ہےپشاور: صوابی کی تحصیل رزڑ کے زرخیز کھیتوں میں جب صبح کی پہلی سنہری کرنیں پھیلتی ہیں تو 40 سالہ کسان نصیر خان کا دن پہلے ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ فجر کی نماز کے فوراً بعد وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ ہاتھوں میں ٹوکریاں لیے اسٹرابیری کے کھیتوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ چند گھنٹوں میں یہ سرخ و گلابی پھل صوبے بھر میں افطار کی میزوں کی زینت بننے والے ہوتے ہیں۔
نصیر خان کے لیے اسٹرابیری صرف ایک مزیدار پھل نہیں بلکہ روزگار اور امید کی علامت ہے۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کی طرح ان کی زندگی بھی اسی موسمی فصل سے جڑی ہوئی ہے۔
بلند کیاریوں پر گھنے انداز میں اگائی جانے والی اسٹرابیری ایک منافع بخش فصل سمجھی جاتی ہے۔ ایک ایکڑ زمین سے عروج کے موسم میں تقریباً 17 ہزار کلوگرام تک پیداوار حاصل ہو سکتی ہے، جس سے بہتر انتظام والے کھیتوں میں دس لاکھ روپے سے زیادہ آمدنی ممکن ہوتی ہے۔ رمضان کے دوران اسٹرابیری کی قیمت 500 روپے فی کلوگرام تک پہنچ جاتی ہے، جس سے اس پھل کی مانگ اور اہمیت واضح ہوتی ہے۔
تاہم اس خوش رنگ فصل کے پیچھے کئی سنگین چیلنجز بھی موجود ہیں۔
سب سے بڑا خدشہ پانی کی غیر یقینی صورتحال ہے۔ بھارت کی جانب سے گزشتہ برس سندھ طاس معاہدے کے بعض پہلوؤں کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے بعد کسانوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کی زراعت بڑی حد تک دریائے سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر انحصار کرتی ہے، جبکہ تربیلا ڈیم سے نکلنے والا پانی گندم، چاول، گنا اور اسٹرابیری جیسی فصلوں کو زندگی بخشتا ہے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر پانی کے بہاؤ میں معمولی سی رکاوٹ بھی آ جائے تو نہ صرف فصلیں متاثر ہو سکتی ہیں بلکہ غذائی تحفظ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی نے بھی کسانوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ بے وقت بارشیں، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور شدید موسمی واقعات فصلوں کی پیداوار پر براہِ راست اثر ڈال رہے ہیں۔
چارسدہ کے کاشتکار مناہمیر خان کے مطابق اس سال بے ترتیب بارشوں کی وجہ سے اسٹرابیری کی پیداوار کم رہی، جس سے ان کی روزانہ آمدنی متاثر ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ چھوٹے کسان اکثر نقصان پورا کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
2022 کے تباہ کن سیلاب بھی کسانوں کے ذہنوں میں ابھی تک تازہ ہیں۔ دریائے کابل اور سوات کے کناروں پر آنے والے سیلاب نے کئی کھیتوں کو تباہ کر دیا تھا اور یہ واضح کر دیا تھا کہ موسمیاتی جھٹکے اس فصل کے لیے کتنے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صورتحال صرف زرعی منافع تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر سماجی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔
پشاور یونیورسٹی میں ماحولیاتی سائنس کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد خبردار کرتے ہیں کہ اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں اور بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی برقرار رہی تو پاکستان کو سنگین انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ میں گندم، چاول اور پھلوں کے باغات شدید متاثر ہو سکتے ہیں جس سے لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ماہر معاشیات اور سابق چیئرمین ڈاکٹر محمد ذوالکات ملک کے مطابق پانی کے غیر متوقع اخراج سے آبپاشی کی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے اور کسانوں کو بڑے مالی نقصانات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنا ناگزیر ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم جیسے بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر بھی ضروری ہے جو کم وقت میں مکمل ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی اور زرعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 2050 تک مزید 76 ملین ایکڑ فٹ پانی درکار ہوگا۔
صوابی کے کھیتوں میں واپس آئیں تو نصیر خان اور ان کے بھائی تیز دھوپ کے باوجود مسلسل اسٹرابیری توڑنے میں مصروف ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ان کی محنت کا مستقبل ان دریاؤں سے جڑا ہوا ہے جو ان کی زمین کو سیراب کرتے ہیں۔
نصیر خان کہتے ہیں،
“یہ فصل ہمارے خاندانوں کا پیٹ پالتی ہے۔ ہم صرف یہی امید کرتے ہیں کہ پانی بہتا رہے تاکہ ہمارے کھیت اور ہمارا روزگار زندہ رہ سکے۔”
خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کے لیے اسٹرابیری محض ایک موسمی پھل نہیں بلکہ موسمیاتی دباؤ، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور پانی کی غیر یقینی صورتحال کے درمیان جدوجہد اور حوصلے کی علامت بن چکی ہے—ایک ایسی جدوجہد جو پاکستان کی زراعت کے مستقبل کا تعین بھی کر سکتی ہےپشاور: صوابی کی تحصیل رزڑ کے زرخیز کھیتوں میں جب صبح کی پہلی سنہری کرنیں پھیلتی ہیں تو 40 سالہ کسان نصیر خان کا دن پہلے ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ فجر کی نماز کے فوراً بعد وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ ہاتھوں میں ٹوکریاں لیے اسٹرابیری کے کھیتوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ چند گھنٹوں میں یہ سرخ و گلابی پھل صوبے بھر میں افطار کی میزوں کی زینت بننے والے ہوتے ہیں۔
نصیر خان کے لیے اسٹرابیری صرف ایک مزیدار پھل نہیں بلکہ روزگار اور امید کی علامت ہے۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کی طرح ان کی زندگی بھی اسی موسمی فصل سے جڑی ہوئی ہے۔
بلند کیاریوں پر گھنے انداز میں اگائی جانے والی اسٹرابیری ایک منافع بخش فصل سمجھی جاتی ہے۔ ایک ایکڑ زمین سے عروج کے موسم میں تقریباً 17 ہزار کلوگرام تک پیداوار حاصل ہو سکتی ہے، جس سے بہتر انتظام والے کھیتوں میں دس لاکھ روپے سے زیادہ آمدنی ممکن ہوتی ہے۔ رمضان کے دوران اسٹرابیری کی قیمت 500 روپے فی کلوگرام تک پہنچ جاتی ہے، جس سے اس پھل کی مانگ اور اہمیت واضح ہوتی ہے۔
تاہم اس خوش رنگ فصل کے پیچھے کئی سنگین چیلنجز بھی موجود ہیں۔
سب سے بڑا خدشہ پانی کی غیر یقینی صورتحال ہے۔ بھارت کی جانب سے گزشتہ برس سندھ طاس معاہدے کے بعض پہلوؤں کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے بعد کسانوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کی زراعت بڑی حد تک دریائے سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر انحصار کرتی ہے، جبکہ تربیلا ڈیم سے نکلنے والا پانی گندم، چاول، گنا اور اسٹرابیری جیسی فصلوں کو زندگی بخشتا ہے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر پانی کے بہاؤ میں معمولی سی رکاوٹ بھی آ جائے تو نہ صرف فصلیں متاثر ہو سکتی ہیں بلکہ غذائی تحفظ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی نے بھی کسانوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ بے وقت بارشیں، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور شدید موسمی واقعات فصلوں کی پیداوار پر براہِ راست اثر ڈال رہے ہیں۔
چارسدہ کے کاشتکار مناہمیر خان کے مطابق اس سال بے ترتیب بارشوں کی وجہ سے اسٹرابیری کی پیداوار کم رہی، جس سے ان کی روزانہ آمدنی متاثر ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ چھوٹے کسان اکثر نقصان پورا کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
2022 کے تباہ کن سیلاب بھی کسانوں کے ذہنوں میں ابھی تک تازہ ہیں۔ دریائے کابل اور سوات کے کناروں پر آنے والے سیلاب نے کئی کھیتوں کو تباہ کر دیا تھا اور یہ واضح کر دیا تھا کہ موسمیاتی جھٹکے اس فصل کے لیے کتنے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صورتحال صرف زرعی منافع تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر سماجی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔
پشاور یونیورسٹی میں ماحولیاتی سائنس کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد خبردار کرتے ہیں کہ اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں اور بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی برقرار رہی تو پاکستان کو سنگین انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ میں گندم، چاول اور پھلوں کے باغات شدید متاثر ہو سکتے ہیں جس سے لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ماہر معاشیات اور سابق چیئرمین ڈاکٹر محمد ذوالکات ملک کے مطابق پانی کے غیر متوقع اخراج سے آبپاشی کی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے اور کسانوں کو بڑے مالی نقصانات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنا ناگزیر ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم جیسے بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر بھی ضروری ہے جو کم وقت میں مکمل ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی اور زرعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 2050 تک مزید 76 ملین ایکڑ فٹ پانی درکار ہوگا۔
صوابی کے کھیتوں میں واپس آئیں تو نصیر خان اور ان کے بھائی تیز دھوپ کے باوجود مسلسل اسٹرابیری توڑنے میں مصروف ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ان کی محنت کا مستقبل ان دریاؤں سے جڑا ہوا ہے جو ان کی زمین کو سیراب کرتے ہیں۔
نصیر خان کہتے ہیں،
“یہ فصل ہمارے خاندانوں کا پیٹ پالتی ہے۔ ہم صرف یہی امید کرتے ہیں کہ پانی بہتا رہے تاکہ ہمارے کھیت اور ہمارا روزگار زندہ رہ سکے۔”
خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کے لیے اسٹرابیری محض ایک موسمی پھل نہیں بلکہ موسمیاتی دباؤ، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور پانی کی غیر یقینی صورتحال کے درمیان جدوجہد اور حوصلے کی علامت بن چکی ہے—ایک ایسی جدوجہد جو پاکستان کی زراعت کے مستقبل کا تعین بھی کر سکتی ہےپشاور: صوابی کی تحصیل رزڑ کے زرخیز کھیتوں میں جب صبح کی پہلی سنہری کرنیں پھیلتی ہیں تو 40 سالہ کسان نصیر خان کا دن پہلے ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ فجر کی نماز کے فوراً بعد وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ ہاتھوں میں ٹوکریاں لیے اسٹرابیری کے کھیتوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ چند گھنٹوں میں یہ سرخ و گلابی پھل صوبے بھر میں افطار کی میزوں کی زینت بننے والے ہوتے ہیں۔
نصیر خان کے لیے اسٹرابیری صرف ایک مزیدار پھل نہیں بلکہ روزگار اور امید کی علامت ہے۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کی طرح ان کی زندگی بھی اسی موسمی فصل سے جڑی ہوئی ہے۔
بلند کیاریوں پر گھنے انداز میں اگائی جانے والی اسٹرابیری ایک منافع بخش فصل سمجھی جاتی ہے۔ ایک ایکڑ زمین سے عروج کے موسم میں تقریباً 17 ہزار کلوگرام تک پیداوار حاصل ہو سکتی ہے، جس سے بہتر انتظام والے کھیتوں میں دس لاکھ روپے سے زیادہ آمدنی ممکن ہوتی ہے۔ رمضان کے دوران اسٹرابیری کی قیمت 500 روپے فی کلوگرام تک پہنچ جاتی ہے، جس سے اس پھل کی مانگ اور اہمیت واضح ہوتی ہے۔
تاہم اس خوش رنگ فصل کے پیچھے کئی سنگین چیلنجز بھی موجود ہیں۔
سب سے بڑا خدشہ پانی کی غیر یقینی صورتحال ہے۔ بھارت کی جانب سے گزشتہ برس سندھ طاس معاہدے کے بعض پہلوؤں کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے بعد کسانوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کی زراعت بڑی حد تک دریائے سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر انحصار کرتی ہے، جبکہ تربیلا ڈیم سے نکلنے والا پانی گندم، چاول، گنا اور اسٹرابیری جیسی فصلوں کو زندگی بخشتا ہے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر پانی کے بہاؤ میں معمولی سی رکاوٹ بھی آ جائے تو نہ صرف فصلیں متاثر ہو سکتی ہیں بلکہ غذائی تحفظ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی نے بھی کسانوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ بے وقت بارشیں، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور شدید موسمی واقعات فصلوں کی پیداوار پر براہِ راست اثر ڈال رہے ہیں۔
چارسدہ کے کاشتکار مناہمیر خان کے مطابق اس سال بے ترتیب بارشوں کی وجہ سے اسٹرابیری کی پیداوار کم رہی، جس سے ان کی روزانہ آمدنی متاثر ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ چھوٹے کسان اکثر نقصان پورا کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
2022 کے تباہ کن سیلاب بھی کسانوں کے ذہنوں میں ابھی تک تازہ ہیں۔ دریائے کابل اور سوات کے کناروں پر آنے والے سیلاب نے کئی کھیتوں کو تباہ کر دیا تھا اور یہ واضح کر دیا تھا کہ موسمیاتی جھٹکے اس فصل کے لیے کتنے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صورتحال صرف زرعی منافع تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر سماجی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔
پشاور یونیورسٹی میں ماحولیاتی سائنس کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد خبردار کرتے ہیں کہ اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں اور بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی برقرار رہی تو پاکستان کو سنگین انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ میں گندم، چاول اور پھلوں کے باغات شدید متاثر ہو سکتے ہیں جس سے لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ماہر معاشیات اور سابق چیئرمین ڈاکٹر محمد ذوالکات ملک کے مطابق پانی کے غیر متوقع اخراج سے آبپاشی کی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے اور کسانوں کو بڑے مالی نقصانات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنا ناگزیر ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم جیسے بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر بھی ضروری ہے جو کم وقت میں مکمل ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی اور زرعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 2050 تک مزید 76 ملین ایکڑ فٹ پانی درکار ہوگا۔
صوابی کے کھیتوں میں واپس آئیں تو نصیر خان اور ان کے بھائی تیز دھوپ کے باوجود مسلسل اسٹرابیری توڑنے میں مصروف ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ان کی محنت کا مستقبل ان دریاؤں سے جڑا ہوا ہے جو ان کی زمین کو سیراب کرتے ہیں۔
نصیر خان کہتے ہیں،
“یہ فصل ہمارے خاندانوں کا پیٹ پالتی ہے۔ ہم صرف یہی امید کرتے ہیں کہ پانی بہتا رہے تاکہ ہمارے کھیت اور ہمارا روزگار زندہ رہ سکے۔”
خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کے لیے اسٹرابیری محض ایک موسمی پھل نہیں بلکہ موسمیاتی دباؤ، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور پانی کی غیر یقینی صورتحال کے درمیان جدوجہد اور حوصلے کی علامت بن چکی ہے—ایک ایسی جدوجہد جو پاکستان کی زراعت کے مستقبل کا تعین بھی کر سکتی ہےپشاور: صوابی کی تحصیل رزڑ کے زرخیز کھیتوں میں جب صبح کی پہلی سنہری کرنیں پھیلتی ہیں تو 40 سالہ کسان نصیر خان کا دن پہلے ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ فجر کی نماز کے فوراً بعد وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ ہاتھوں میں ٹوکریاں لیے اسٹرابیری کے کھیتوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ چند گھنٹوں میں یہ سرخ و گلابی پھل صوبے بھر میں افطار کی میزوں کی زینت بننے والے ہوتے ہیں۔
نصیر خان کے لیے اسٹرابیری صرف ایک مزیدار پھل نہیں بلکہ روزگار اور امید کی علامت ہے۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کی طرح ان کی زندگی بھی اسی موسمی فصل سے جڑی ہوئی ہے۔
بلند کیاریوں پر گھنے انداز میں اگائی جانے والی اسٹرابیری ایک منافع بخش فصل سمجھی جاتی ہے۔ ایک ایکڑ زمین سے عروج کے موسم میں تقریباً 17 ہزار کلوگرام تک پیداوار حاصل ہو سکتی ہے، جس سے بہتر انتظام والے کھیتوں میں دس لاکھ روپے سے زیادہ آمدنی ممکن ہوتی ہے۔ رمضان کے دوران اسٹرابیری کی قیمت 500 روپے فی کلوگرام تک پہنچ جاتی ہے، جس سے اس پھل کی مانگ اور اہمیت واضح ہوتی ہے۔
تاہم اس خوش رنگ فصل کے پیچھے کئی سنگین چیلنجز بھی موجود ہیں۔
سب سے بڑا خدشہ پانی کی غیر یقینی صورتحال ہے۔ بھارت کی جانب سے گزشتہ برس سندھ طاس معاہدے کے بعض پہلوؤں کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے بعد کسانوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کی زراعت بڑی حد تک دریائے سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر انحصار کرتی ہے، جبکہ تربیلا ڈیم سے نکلنے والا پانی گندم، چاول، گنا اور اسٹرابیری جیسی فصلوں کو زندگی بخشتا ہے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر پانی کے بہاؤ میں معمولی سی رکاوٹ بھی آ جائے تو نہ صرف فصلیں متاثر ہو سکتی ہیں بلکہ غذائی تحفظ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی نے بھی کسانوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ بے وقت بارشیں، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور شدید موسمی واقعات فصلوں کی پیداوار پر براہِ راست اثر ڈال رہے ہیں۔
چارسدہ کے کاشتکار مناہمیر خان کے مطابق اس سال بے ترتیب بارشوں کی وجہ سے اسٹرابیری کی پیداوار کم رہی، جس سے ان کی روزانہ آمدنی متاثر ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ چھوٹے کسان اکثر نقصان پورا کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
2022 کے تباہ کن سیلاب بھی کسانوں کے ذہنوں میں ابھی تک تازہ ہیں۔ دریائے کابل اور سوات کے کناروں پر آنے والے سیلاب نے کئی کھیتوں کو تباہ کر دیا تھا اور یہ واضح کر دیا تھا کہ موسمیاتی جھٹکے اس فصل کے لیے کتنے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صورتحال صرف زرعی منافع تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر سماجی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔
پشاور یونیورسٹی میں ماحولیاتی سائنس کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد خبردار کرتے ہیں کہ اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں اور بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی برقرار رہی تو پاکستان کو سنگین انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ میں گندم، چاول اور پھلوں کے باغات شدید متاثر ہو سکتے ہیں جس سے لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ماہر معاشیات اور سابق چیئرمین ڈاکٹر محمد ذوالکات ملک کے مطابق پانی کے غیر متوقع اخراج سے آبپاشی کی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے اور کسانوں کو بڑے مالی نقصانات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنا ناگزیر ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم جیسے بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر بھی ضروری ہے جو کم وقت میں مکمل ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی اور زرعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 2050 تک مزید 76 ملین ایکڑ فٹ پانی درکار ہوگا۔
صوابی کے کھیتوں میں واپس آئیں تو نصیر خان اور ان کے بھائی تیز دھوپ کے باوجود مسلسل اسٹرابیری توڑنے میں مصروف ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ان کی محنت کا مستقبل ان دریاؤں سے جڑا ہوا ہے جو ان کی زمین کو سیراب کرتے ہیں۔
نصیر خان کہتے ہیں،
“یہ فصل ہمارے خاندانوں کا پیٹ پالتی ہے۔ ہم صرف یہی امید کرتے ہیں کہ پانی بہتا رہے تاکہ ہمارے کھیت اور ہمارا روزگار زندہ رہ سکے۔”
خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کے لیے اسٹرابیری محض ایک موسمی پھل نہیں بلکہ موسمیاتی دباؤ، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور پانی کی غیر یقینی صورتحال کے درمیان جدوجہد اور حوصلے کی علامت بن چکی ہے—ایک ایسی جدوجہد جو پاکستان کی زراعت کے مستقبل کا تعین بھی کر سکتی ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.