خضدار میں مبینہ خاتون خودکش بمبار گرفتار، بڑا سانحہ ٹل گیا

0

کوئٹہ: سیکیورٹی اداروں نے کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے مبینہ طور پر خودکش حملے کے لیے تیار کی گئی ایک نوجوان لڑکی کو خضدار سے گرفتار کر لیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس کارروائی کو سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے صوبائی وزیر داخلہ اور دیگر حکام کے ہمراہ تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ان کے مطابق گرفتار لڑکی، جس کی شناخت لائبہ کے نام سے کی گئی، کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیے گئے ایک بروقت آپریشن میں تحویل میں لیا گیا، جس سے صوبے کو ممکنہ بڑے سانحے سے بچا لیا گیا۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی خالصتاً “ہیومن انٹیلی جنس” کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی ایجنسیاں روزانہ کی بنیاد پر انٹیلی جنس اطلاعات پر آپریشنز کر رہی ہیں تاکہ دہشت گرد عناصر کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔

پریس کانفرنس کے دوران لائبہ نے مبینہ طور پر انکشاف کیا کہ جولائی میں اس کا رابطہ ایک شدت پسند کمانڈر ابراہیم سے ہوا، جس نے اسے خودکش حملے کے لیے ذہنی طور پر تیار کیا۔ اس کے مطابق بعد ازاں اسے ایک اور کمانڈر سے ملوایا گیا اور مزید تربیت کے مراحل طے کیے جا رہے تھے۔

لائبہ نے اپنے بیان میں پشیمانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ ایسی سرگرمیوں کا حصہ نہیں بنے گی اور دیگر لڑکیوں کو بھی خبردار کیا کہ وہ کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں۔

وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے دہشت گرد تنظیموں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کالعدم بی ایل اے اور اس سے وابستہ عناصر بلوچ خواتین کو گمراہ کر کے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بلوچ معاشرہ اور ثقافت خواتین کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں؟

انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کا احترام اور تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اور حکومت ہر ممکن اقدام کرے گی تاکہ نوجوانوں، خصوصاً خواتین کو شدت پسندی سے محفوظ رکھا جا سکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.