کراکس:وینزویلا کے دارالحکومت کراکس اور اس کے گردونواح میں آنے والے دو طاقتور زلزلوں نے ملک کو سوگ اور تباہی کی تصویر بنا دیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 235 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، 4,300 سے زائد زخمی ہیں، جبکہ دسیوں ہزار افراد تاحال لاپتا ہیں۔
ریسکیو ٹیمیں دن رات ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، تاہم حکام کو خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
وزیر صحت کارلوس الوارڈو کے مطابق اب تک 235 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تباہی کی اصل شدت کا اندازہ ابھی لگانا ممکن نہیں۔
زلزلے نے کراکس اور ساحلی ریاست لا گوائرا میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ قومی اسمبلی کے سربراہ جارج روڈریگیز کے مطابق تقریباً 250 عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر منہدم ہو چکی ہیں، جبکہ کم از کم 200 افراد کے اب بھی ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
قدرتی آفت نے اہم قومی تنصیبات کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ آٹھ اسپتال، وینزویلا ریڈ کراس کا مرکزی دفتر اور فرانسیسی سفارت خانہ متاثرہ عمارتوں میں شامل ہیں۔
وزیر داخلہ دیوسدادو کابیلو نے بتایا کہ صرف لا گوائرا ریاست میں تقریباً 70 ہزار خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ یہ علاقہ، جہاں ملک کا مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈہ واقع ہے، زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز نے لا گوائرا کو آفت زدہ قرار دیتے ہوئے امدادی کارروائیوں کے لیے بھاری مشینری فوری طور پر تعینات کرنے کا اعلان کیا۔
متاثرہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہے، جبکہ کراکس کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ شدید نقصان کے باعث بند کر دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں ہوائی اڈے کی چھت کے حصے گرتے اور مسافروں کو جان بچانے کے لیے بھاگتے دیکھا جا سکتا ہے۔
ریسکیو اہلکار، رضاکار اور مقامی شہری اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹا کر زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ کئی خاندان اپنے پیاروں کی ایک جھلک کے منتظر ہیں، جبکہ متاثرین نے امدادی کارروائیوں میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
لا گوائرا کی رہائشی یاملیتھ خیمنیز نے بتایا کہ ان کا 19 سالہ بیٹا سات منزلہ عمارت کے ملبے تلے دبا ہوا ہے۔ انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ بھاری کنکریٹ کے بلاکس امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ان کے بقول، ان کے شوہر زلزلے سے صرف تین روز قبل انتقال کر گئے تھے۔
64 سالہ پیڈرو پیریز، جن کا گھر اور کاروبار دونوں تباہ ہو گئے، نے کہا، “ہم سب کچھ کھو چکے ہیں۔ نہ خوراک ہے، نہ دوائیں، صرف امید باقی ہے کہ امداد جلد پہنچ جائے گی۔”
ایک اور متاثرہ خاتون ماریا الیخاندرا نے بتایا، “جب ہم گھر سے باہر نکلے تو ہر طرف تباہی کا منظر تھا، جیسے کسی خوفناک فلم کا منظر ہو۔”
ساحلی قصبے مورون میں متعدد مکانات زمین بوس ہو گئے، جہاں لوگ بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔ سینکڑوں خاندان یا تو اپنے گھروں کے ملبے سے سامان نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں یا سرکاری پناہ گاہوں کے منتظر ہیں۔
ایک دل کو چھو لینے والے واقعے میں ڈینس سیکیرا نے بتایا کہ ان کی پانچ سالہ پوتی نے زلزلے کے دوران اپنے 79 سالہ دادا کو بروقت گھر سے باہر نکلنے پر آمادہ کیا، جس سے ان کی جان بچ گئی۔
جمعرات کی شام تک اپوزیشن کی جانب سے قائم آن لائن رجسٹری میں 46 ہزار سے زائد افراد لاپتا درج کیے جا چکے تھے، تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
امریکی جیولوجیکل سروے نے خبردار کیا ہے کہ جیسے جیسے ملبہ ہٹایا جائے گا، ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ سکتی ہے اور ممکن ہے کہ یہ 10 ہزار سے بھی تجاوز کر جائے۔
اس انسانی المیے پر عالمی برادری نے بھی اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔ امریکہ، روس اور دیگر کئی ممالک نے امداد کی پیشکش کی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کی ہر ممکن مدد کا یقین دلایا، جبکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہنگامی امدادی ٹیمیں روانہ کرنے کا اعلان کیا۔
پینٹاگون نے تباہ شدہ ہوائی اڈے کی بحالی اور لاجسٹک معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے کہا ہے کہ اس بڑے انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مربوط امدادی کوششیں ناگزیر ہیں۔
دریں اثنا، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے مشن نے بھی وینزویلا میں امدادی سرگرمیوں کو مؤثر بنانے کے لیے پابندیوں میں نرمی پر زور دیا ہے۔
وینزویلا اس وقت اپنی حالیہ تاریخ کے بدترین قدرتی سانحات میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے، جہاں ہر گزرتا لمحہ ملبے تلے زندگی کی ایک نئی امید یا ایک نئے المیے کی خبر لے کر آ رہا ہے۔
