اسرائیل-لبنان فریم ورک معاہدہ: 14 نکات میں کیا طے پایا؟

نیوز ڈیسک

0

مشرقِ وسطیٰ: اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی ثالثی میں 14 نکاتی فریم ورک معاہدہ طے پا گیا ہے، جسے لبنان کے محاذ پر جاری کشیدگی کے خاتمے اور ممکنہ مستقل امن کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی میزبانی میں مذاکرات کے پانچ ادوار کے بعد ہونے والے اس معاہدے میں سرحدی استحکام، لبنانی ریاستی اداروں کو مضبوط بنانے اور فوجی کشیدگی میں بتدریج کمی کے لیے ایک مرحلہ وار روڈ میپ پیش کیا گیا ہے۔
العربیہ اور الحدث کے مطابق، معاہدے کے تحت لبنانی مسلح افواج غیر ریاستی مسلح گروہوں کے تخفیفِ اسلحہ کی تصدیق کے بعد مرحلہ وار پورے ملک میں سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالیں گی، جبکہ اسرائیلی افواج بھی اسی دوران لبنانی سرزمین سے بتدریج انخلا کریں گی۔
فریم ورک میں اس بات کی بھی توثیق کی گئی ہے کہ قومی سلامتی، دفاع، اور جنگ یا امن سے متعلق تمام فیصلے صرف لبنانی ریاست اور اس کے سرکاری سیکیورٹی اداروں کے اختیار میں ہوں گے۔
معاہدے کے مطابق، اگر حزب اللہ اسرائیل پر حملہ کرتی ہے تو اسرائیل کو جوابی کارروائی کا حق حاصل ہوگا، تاہم دونوں ممالک نے کشیدگی میں کمی اور پرامن بقائے باہمی کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔
اگلے مرحلے میں اسرائیل اور لبنان مشترکہ ورکنگ گروپس تشکیل دیں گے، جو ایک جامع اور مستقل امن معاہدے کا مسودہ تیار کریں گے۔
لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ معاہدے میں اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا کی واضح شق موجود ہے، تاہم لبنان کے اندر اسرائیلی فوج کی مستقل موجودگی کی کوئی گنجائش شامل نہیں۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے اسرائیلی فوج کی ممکنہ مستقل تعیناتی سے متعلق حالیہ بیانات فریم ورک معاہدے کا حصہ نہیں ہیں۔
معاہدے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ لبنانی فوج کی تعیناتی کے لیے اسرائیل کی منظوری درکار نہیں ہوگی، جبکہ کسی بھی پائلٹ یا آزمائشی سیکیورٹی زون کا قیام دونوں فریقوں کی باہمی رضامندی سے ہی ممکن ہوگا۔
جمعہ کو طے پانے والا یہ معاہدہ کئی ماہ پر محیط امریکی ثالثی کے بعد سامنے آیا، جس کا مقصد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری تنازع کا خاتمہ اور خطے میں وسیع تر امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔
دستخطی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ **مارکو روبیو** نے کہا کہ یہ معاہدہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان پائیدار امن اور سلامتی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔
واشنگٹن میں لبنان کے سفیر نادی حمدا معاواد نے اسے لبنان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت کی بحالی اور بے گھر شہریوں کی واپسی کی جانب پہلا اہم قدم قرار دیا۔
دوسری جانب اسرائیلی سفیر یہیل لیٹر نے کہا کہ معاہدے سے ایران اور حزب اللہ کے اثر و رسوخ میں کمی آئے گی اور دونوں ممالک کے درمیان دیرپا امن کی راہ ہموار ہوگی۔
لبنان میں حالیہ جنگ اس وقت شروع ہوئی جب حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ حملے کیے، جنہیں اس نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کا ردعمل قرار دیا۔ اس کے بعد اسرائیل نے وسیع فضائی اور زمینی کارروائیاں کیں، جن میں لبنانی حکام کے مطابق 4 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
اگرچہ فریم ورک معاہدہ طے پا چکا ہے، تاہم کئی بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کو جنوبی لبنان سے بلاشرط انخلا کرنا ہوگا، جبکہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج اس وقت تک واپس نہیں جائیں گی جب تک حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح نہیں کیا جاتا۔
ان اختلافات کے باعث مستقل امن معاہدے تک پہنچنے کا سفر اب بھی کئی اہم چیلنجز سے دوچار ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.