بھارت نے آپریشن سندھور سے متعلق مزید چھ فوجیوں کی ہلاکتوں کی تصدیق کر دی

نیوز ڈیسک

0

نئی دہلی: بھارت نے 7 مئی 2025 کو ہونے والے آپریشن سندھور کے دوران مزید چھ فوجیوں کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔
بھارتی حکام نے آپریشن میں ہلاک ہونے والے چھ فوجیوں کے نام قومی جنگی یادگار (نیشنل وار میموریل) کے رول آف آنر میں شامل کر دیے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کے مطابق، جن فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا گیا ہے ان میں صوبیدار میجر پون کمار، رائفل مین سنیل کمار، لانس نائک دنیش کمار، ایوی ایشن ٹیکنیشن مود مرلی نائک، حوالدار سنیل کمار سنگھ اور سارجنٹ سریندر کمار شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، فوجیوں کے اہل خانہ کی جانب سے مسلسل احتجاج اور دباؤ کے بعد بھارتی حکومت ان ہلاکتوں کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے اور متاثرہ اہلکاروں کے نام ظاہر کرنے پر مجبور ہوئی۔
کے ایم ایس کا کہنا ہے کہ ان اعترافات سے پاکستان کے اس مؤقف کو تقویت ملتی ہے کہ آپریشن سندھور کے دوران بھارتی افواج کو نمایاں جانی نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ بھارت مرحلہ وار اپنے نقصانات سامنے لا رہا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے آپریشن کے دوران بھارتی فوج کی دسویں انفنٹری بریگیڈ کو نشانہ بنایا تھا، جبکہ ہلاک ہونے والے صوبیدار میجر پون کمار کا تعلق بھی اسی بریگیڈ ہیڈکوارٹر سے بتایا جاتا ہے۔
کے ایم ایس کے مطابق، پاکستان نے ادھم پور میں نصب S-400 فضائی دفاعی نظام کی ایک بیٹری کو تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سارجنٹ سریندر کمار ادھم پور میں ہلاک ہوئے تھے اور بعد ازاں انہیں وایو میڈل سے نوازا گیا، حالانکہ بھارت نے اس مقام پر کسی نقصان کی تردید کی تھی۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر اور بھارتی ریکارڈ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ متعلقہ فوجی تنصیب کو نمایاں نقصان پہنچا تھا۔
کے ایم ایس کے مطابق، بین الاقوامی میڈیا نے بھی پاکستان کے اس دعوے پر مختلف رپورٹس شائع کی ہیں کہ آپریشن کے دوران بھارتی رافیل، میراج 2000 اور دیگر طیاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ میں دفاعی ماہرین کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے فوجی نقصانات کو پوشیدہ رکھنے سے فوج کے مورال پر بھی اثر پڑا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی اپوزیشن مسلسل مودی حکومت سے آپریشن سندھور کے دوران ہونے والے نقصانات پر وضاحت طلب کر رہی ہے، جبکہ حکومت فوجی اور سیاسی نقصانات کے حوالے سے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق، آپریشن سندھور جاری رکھنے سے متعلق بھارتی حکومت کے بیانات دراصل ان سوالات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں، اور مستقبل میں اسے مزید فوجی نقصانات کی بھی وضاحت کرنا پڑ سکتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.