معاشی ترقی کے باوجود غربت کیوں بڑھ رہی ہے؟

غربت پاکستان کو درپیش سب سے بڑے ترقیاتی چیلنجز میں سے ایک ہے۔ اگرچہ اسے عموماً آمدنی کی بنیاد پر ناپا جاتا ہے، لیکن اس کے اثرات صرف مالی مشکلات تک محدود نہیں رہتے۔

0

علی نواز رحیمو
عمرکوٹ:غربت پاکستان کو درپیش سب سے بڑے ترقیاتی چیلنجز میں سے ایک ہے۔ اگرچہ اسے عموماً آمدنی کی بنیاد پر ناپا جاتا ہے، لیکن اس کے اثرات صرف مالی مشکلات تک محدود نہیں رہتے۔ غربت معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات، صاف پانی، مناسب رہائش اور باعزت روزگار تک رسائی میں رکاوٹ بنتی ہے، جس کے باعث لاکھوں پاکستانی محرومی کے ایسے چکر میں پھنس جاتے ہیں جو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا رہتا ہے۔
اگرچہ غربت کے خاتمے کے لیے مختلف حکومتی پروگرام متعارف کرائے گئے، لیکن تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، کمزور طرزِ حکمرانی، مہنگائی، بے روزگاری اور موسمیاتی تبدیلی جیسے عوامل نے ان کوششوں کے نتائج کو محدود کر دیا ہے۔
پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ صرف غربت کا موجود ہونا نہیں بلکہ اس کا مسلسل برقرار رہنا ہے۔ معاشی ترقی مطلوبہ رفتار سے معیاری روزگار پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث لاکھوں نوجوان یا تو بے روزگار ہیں یا غیر رسمی شعبے میں انتہائی کم اجرت اور ملازمت کے تحفظ کے بغیر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ نتیجتاً، روزگار ہونے کے باوجود لاکھوں خاندان مالی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
حالیہ برسوں میں صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق 2025ء میں پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر 44.7 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ چار سال قبل یہ 39.8 فیصد تھی۔ اس وقت تقریباً 10 کروڑ 70 لاکھ افراد بین الاقوامی کم درمیانی آمدنی کی غربت کی لکیر، یعنی فی کس یومیہ 4.20 امریکی ڈالر سے کم آمدنی پر زندگی گزار رہے ہیں۔
دوسری جانب مہنگائی نے خوراک، ایندھن، بجلی، صحت اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس سے کم آمدنی والے خاندانوں کی قوتِ خرید شدید متاثر ہوئی ہے۔ بیشتر گھرانوں کی آمدنی صرف بنیادی ضروریات پوری کرنے میں صرف ہو جاتی ہے، جبکہ تعلیم، علاج اور بچت کے لیے بہت کم وسائل باقی بچتے ہیں۔
تعلیم غربت کے چکر کو توڑنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے، مگر معیاری تعلیم تک رسائی اب بھی غیر مساوی ہے۔ دیہی علاقوں میں مالی مشکلات، ناکافی تعلیمی سہولیات، اساتذہ کی کمی اور سماجی رکاوٹوں کے باعث ہزاروں بچے اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔ تعلیم اور فنی مہارتوں سے محرومی نوجوانوں کے لیے بہتر روزگار کے مواقع محدود کر دیتی ہے، جس سے نہ صرف ان کا مستقبل متاثر ہوتا ہے بلکہ ملکی معیشت بھی اپنی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کر پاتی۔
تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی نے ان مسائل کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اسکولوں، اسپتالوں، روزگار، رہائش اور بنیادی ڈھانچے کی طلب ریاست کی استعداد سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ جب تک معاشی ترقی آبادی میں اضافے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوگی، محدود وسائل پر دباؤ بڑھتا رہے گا اور غربت و عدم مساوات مزید گہری ہوتی جائے گی۔
زرعی شعبہ، جو لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے، معاشی اور ماحولیاتی دباؤ کی واضح مثال پیش کرتا ہے۔ کسان بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، پانی کی قلت، فرسودہ زرعی طریقوں اور جدید ٹیکنالوجی تک محدود رسائی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی نے ان مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی اور بے ترتیب بارشیں بار بار فصلوں، مویشیوں اور دیہی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچاتی ہیں، جس سے کسان مزید غربت کی دلدل میں دھنس جاتے ہیں۔
اس بوجھ کا سب سے زیادہ اثر دیہی پاکستان پر پڑتا ہے، جہاں ملک کی غذائی ضروریات پوری کرنے والی آبادی خود معیاری صحت کی سہولیات، تعلیم، صاف پانی، بجلی اور ہر موسم میں قابلِ استعمال سڑکوں جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان ترقیاتی فرق مسلسل بڑھ رہا ہے، جو دیرینہ عدم مساوات کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔
غربت کا سب سے زیادہ اثر خواتین اور بچوں پر پڑتا ہے۔ کم آمدنی والے خاندانوں کی خواتین پانی اور ایندھن جمع کرنے میں گھنٹوں صرف کرتی ہیں اور اکثر اپنے اہلِ خانہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنی صحت اور غذائیت قربان کر دیتی ہیں۔ مالی مشکلات اور سماجی روایات کے باعث بہت سی لڑکیاں ثانوی تعلیم مکمل نہیں کر پاتیں، جس سے ان کے معاشی امکانات محدود ہو جاتے ہیں۔
بچوں کی صورتحال بھی اتنی ہی تشویشناک ہے۔ غذائی قلت، ناکافی طبی سہولیات اور ناقص تعلیمی ماحول ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کو متاثر کرتے ہیں۔ بہت سے بچے گھر کی آمدنی میں ہاتھ بٹانے کے لیے کم عمری میں مزدوری کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس سے ان کی تعلیم اور مستقبل کے بہتر مواقع چھن جاتے ہیں۔ یوں غربت کا یہ بین النسلی سلسلہ برقرار رہتا ہے۔
غربت صحتِ عامہ پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ بہت سے خاندان علاج معالجے میں صرف اس لیے تاخیر کرتے ہیں کہ وہ اس کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے، جبکہ دور دراز علاقوں کے مکینوں کو بنیادی طبی سہولیات تک پہنچنے کے لیے طویل فاصلے طے کرنا پڑتے ہیں۔ زچگی کی ناکافی دیکھ بھال، غذائی قلت اور احتیاطی طبی آگاہی کی کمی کے باعث قابلِ علاج بیماریاں بھی کمزور طبقوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی اب غربت میں اضافے کا ایک بڑا سبب بن چکی ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا، طویل خشک سالی اور شدید سیلاب ملک بھر میں لاکھوں افراد کے روزگار کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ غریب خاندان، جن کے پاس نہ بچت ہوتی ہے اور نہ ہی انشورنس، قدرتی آفات سے سب سے کم سنبھل پاتے ہیں۔ بہت سے لوگ اپنے گھر، زمین اور مویشی کھونے کے بعد روزگار کی تلاش میں شہروں کا رخ کرتے ہیں، جس سے پہلے ہی دباؤ کا شکار شہری معیشت مزید مشکلات سے دوچار ہو جاتی ہے۔
معاشی نقصانات کے علاوہ غربت سماجی استحکام کو بھی متاثر کرتی ہے۔ مسلسل مالی عدم تحفظ ذہنی دباؤ، اضطراب اور مایوسی کو جنم دیتا ہے۔ اگرچہ صرف غربت ہی جرائم یا سماجی بے چینی کی واحد وجہ نہیں، تاہم جب یہ طویل بے روزگاری، سماجی محرومی اور عدم مساوات کے ساتھ مل جائے تو معاشرے میں بے چینی، جرائم اور عدم استحکام کے خطرات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.