برج ٹاؤن
ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو پہلے ٹیسٹ میچ میں 90 رنز سے شکست دے کر دو میچوں کی سیریز میں برتری حاصل کر لی۔ پاکستان کی ٹیم 211 رنز کے ہدف کے تعاقب میں اپنی دوسری اننگز میں صرف 120 رنز پر آؤٹ ہو گئی، جہاں بیٹنگ لائن ایک بار پھر مشکلات کا شکار رہی۔
ہدف کے تعاقب میں پاکستان کے آٹھ بلے باز دوہرے ہندسے تک نہ پہنچ سکے، تاہم بابر اعظم نے مزاحمت کرتے ہوئے 58 رنز کی اننگز کھیلی، لیکن وہ ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکے۔
ویسٹ انڈیز کے فاسٹ باؤلر جیڈن سیلز نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ وکٹیں حاصل کیں، جبکہ کیمار روچ اور جسٹن گریوز نے دو، دو کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھا کر پاکستان کی اننگز سمیٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔
اس سے قبل ویسٹ انڈیز کی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں 181 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی تھی، جس کے بعد پاکستان کو جیت کے لیے 211 رنز کا ہدف ملا۔ مشکل بیٹنگ پچ پر محمد عباس پاکستان کے نمایاں باؤلر رہے، جنہوں نے دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں جبکہ میچ میں مجموعی طور پر آٹھ شکار کیے۔
شکست کے بعد قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے اعتراف کیا کہ بیٹنگ کی ناکامی میچ کے نتیجے میں فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے گزشتہ تین دنوں میں مجموعی طور پر اچھی کرکٹ کھیلی، تاہم اہم مواقع پر بڑی شراکت داریاں قائم نہ کر سکا۔
بابر اعظم نے کہا کہ ویسٹ انڈیز نے مشکل کنڈیشنز کا بہتر انداز میں فائدہ اٹھایا، جبکہ پاکستان اگلے ٹیسٹ میچ سے قبل اپنی بیٹنگ خامیوں کا جائزہ لے گا۔
قومی کپتان نے نئی گیند کے خلاف بہتر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ ابتدائی اوورز میں کارکردگی میچ کے نتیجے پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔
