جب موسم کیلنڈر کے بغیر پہچانے جاتے تھے

0

ڈاکٹر اکرام اللہ
باجوڑ: ایک وقت تھا جب باجوڑ کے لوگوں کو یہ جاننے کے لیے کیلنڈر کی ضرورت نہیں پڑتی تھی کہ کون سا موسم آ چکا ہے۔ سرد ہوائیں، پہاڑوں پر برف باری، بہار کے پھول، گرمی کی شدت، مون سون کی بارشیں اور خزاں کے بدلتے رنگ ہی کافی ہوتے تھے۔ کسان انہی قدرتی اشاروں کے مطابق فصلوں کی منصوبہ بندی کرتے، مویشی پانی اور چارے کی دستیابی پر انحصار کرتے اور دیہی زندگی موسموں کی اسی روایتی ترتیب کے ساتھ آگے بڑھتی تھی۔
لیکن اب یہ ترتیب بدل رہی ہے۔
ایک دہائی سے زیادہ عرصہ پہلے یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور اور انٹرکوآپریشن پاکستان کی جانب سے کیے گئے ایک مطالعے میں باجوڑ کے کسانوں کے ان مشاہدات کو ریکارڈ کیا گیا جو وہ اپنے بدلتے ہوئے ماحول کے بارے میں محسوس کر رہے تھے۔ یہ فیلڈ ورک 2015 میں باجوڑ کی تین یونین کونسلوں، توحید آباد، عنایت کلے اور راغگان میں کیا گیا، جہاں ایسے تجربہ کار کسانوں سے گفتگو کی گئی جو کئی دہائیوں سے زراعت اور موسموں میں آنے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
کسانوں نے بتایا کہ سردیوں کا دورانیہ کم ہو رہا تھا، بہار سکڑ رہی تھی اور خزاں اپنی روایتی مدت کھو رہی تھی، جبکہ گرمیوں کا دورانیہ بڑھ رہا تھا۔ ان کے مطابق ماضی میں موسم سرما تقریباً 13 سے 14 ہفتوں تک جاری رہتا تھا، لیکن کم ہو کر تقریباً 10 سے 12 ہفتوں تک رہ گیا تھا۔ اسی طرح گرمی کا موسم، جو روایتی طور پر تقریباً 13 سے 16 ہفتوں تک رہتا تھا، تقریباً 26 سے 27 ہفتوں تک محسوس کیا جا رہا تھا۔
اگر آج ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو یہ کسی دور ماضی کا مشاہدہ نہیں لگتا۔ نسبتاً گرم سردیاں، وقت سے پہلے گرمی کا آغاز، طویل گرمیاں اور موسم میں اچانک تبدیلیاں اب ہمارے لیے مانوس تجربات بن چکے ہیں۔
بارش کی صورتحال اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔
کسانوں نے محققین کو بتایا تھا کہ سردیوں کی بارشیں پہلے کے مقابلے میں تاخیر سے آنے لگی تھیں، جبکہ گرمیوں کی بارشیں زیادہ شدت اور کم وقفوں میں ہونے لگی تھیں۔ بہار اور گرمیوں میں خشک ادوار طویل ہو رہے تھے، جبکہ خزاں بھی زیادہ خشک ہوتی جا رہی تھی۔
یہاں اصل مسئلہ سامنے آتا ہے۔ زیادہ بارش کا مطلب لازماً زیادہ پانی نہیں ہوتا۔ اگر چند گھنٹوں میں بہت زیادہ بارش ہو جائے تو یہ پانی زمین، چشموں اور زیرِ زمین پانی کو بتدریج ری چارج کرنے کے بجائے سیلاب اور مٹی کے کٹاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔
باجوڑ نے اگست 2025 میں اس صورت حال کی ایک دردناک مثال بھی دیکھی، جب شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلاب نے ضلع کے مختلف علاقوں کو متاثر کیا۔ خیبر پختونخوا کے وسیع علاقوں میں بھی 2025 کے مون سون کے دوران شدید بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آئے۔ بدلتی ہوئی بارشیں اب انسانی جان، گھروں، سڑکوں، فصلوں اور روزگار کے لیے براہ راست خطرہ بن سکتی ہیں۔
پرانے باجوڑ کے مطالعے میں خزاں، سردی اور بہار کے درجہ حرارت میں اضافے کی نشاندہی بھی کی گئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کسانوں نے گرمیوں کے بعض حصوں میں نسبتاً کمی بھی محسوس کی، جس کی وجہ انہوں نے زیادہ سبزہ، درختوں کی شجرکاری اور آبپاشی کو قرار دیا۔
لیکن شاید باجوڑ کے لیے سب سے بڑا مسئلہ درجہ حرارت نہیں بلکہ پانی ہے۔
ٹیوب ویلوں کے تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ سے آبپاشی کے لیے پانی کی دستیابی میں اضافہ ہوا، زیادہ زمین زیرِ کاشت آئی اور بنجر زمین کم ہوئی۔ زراعت کو اس سے بہت فائدہ پہنچا۔
لیکن اس کامیابی کے نیچے ایک خطرناک حقیقت بھی موجود تھی۔
زیرِ زمین پانی کی سطح تقریباً 7 سے 10 میٹر تک نیچے جا رہی تھی۔ مطالعے میں مشاہدہ کیا گیا کہ زیرِ زمین پانی کے اخراج کی رفتار قدرتی ری چارج سے زیادہ ہو رہی تھی اور خبردار کیا گیا کہ ٹیوب ویلوں میں مسلسل اضافہ مستقبل میں سنگین مسئلہ پیدا کر سکتا ہے۔
وہ مستقبل، جو 2015 میں بہت دور دکھائی دیتا تھا، اب اتنا دور نہیں رہا۔
بدلتی ہوئی پانی کی صورتحال فصلوں میں بھی نظر آ رہی ہے۔ بعض علاقوں میں چاول کی کاشت میں نمایاں کمی آئی کیونکہ قدرتی چشمے اور سطحی پانی کے ذرائع کم یا خشک ہو گئے، جبکہ ٹیوب ویل سے چاول کی آبپاشی مہنگی پڑتی تھی۔ جو اور مسور کی کاشت میں بھی کمی آئی کیونکہ گندم اور مکئی زیادہ معاشی فائدہ دے رہی تھیں۔
یہ بھی اہم ہے کہ باجوڑ کی زراعت میں آنے والی ہر تبدیلی موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے نہیں ہے۔ کسان مارکیٹ، قیمت، ٹیکنالوجی اور منافع کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔ مطالعے میں گندم اور مکئی کی پیداوار میں اضافے کا بنیادی سبب بہتر بیج، کھاد، زرعی ادویات اور مشینی کاشت کو قرار دیا گیا تھا۔
تاہم، بدلتی ہوئی آب و ہوا کا ایک دلچسپ پہلو بھی ہے۔
طویل گرم موسم نے بعض کسانوں کے لیے نئی زرعی گنجائشیں پیدا کی ہیں۔ کسانوں نے بتایا کہ بعض علاقوں میں ٹماٹر کی سال میں تین فصلیں لینا ممکن ہو گیا ہے۔ پہلی فصل گندم کی کھڑی فصل میں لگائی جا سکتی ہے، دوسری گندم کی کٹائی کے بعد اور تیسری فصل سال کے آخری حصے میں حاصل کی جا سکتی ہے۔
یہ کسانوں کے بدلتے حالات کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے کی ایک قابلِ ذکر مثال ہے، لیکن ان مواقع کو پانی پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے ساتھ دیکھنا ہوگا۔
ماضی میں مقامی آبادی بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے روایتی طریقے بھی استعمال کرتی تھی۔ اجتماعی زمینوں پر تالاب بنائے جاتے تھے جن میں بارش کا پانی جمع کیا جاتا اور اسے مویشیوں اور گھریلو ضروریات کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ ٹیوب ویلوں اور جدید پانی کی سہولیات کے پھیلاؤ کے ساتھ یہ روایتی طریقے بڑی حد تک کم ہو گئے۔
مسئلہ صرف زراعت اور پانی تک محدود نہیں۔ باجوڑ کا قدرتی ماحول بھی تبدیلی کا شکار ہے۔ جنگلات کا رقبہ پہلے ہی محدود ہے، جبکہ جنگلات کی کٹائی، حد سے زیادہ چرائی اور طویل خشک حالات نے مٹی کے کٹاؤ اور چراگاہوں کی تباہی میں اضافہ کیا ہے۔ درختوں سے محروم پہاڑی ڈھلوانیں پانی اور مٹی کو روکنے کی کم صلاحیت رکھتی ہیں، جس سے کٹاؤ اور اچانک آنے والے سیلاب کا خطرہ بڑھتا ہے۔
جنگلی حیات اور شہد کی مکھیوں جیسے قدرتی pollinators بھی متاثر ہوئے ہیں۔ مطالعے میں کئی جنگلی جانوروں اور پرندوں کی تعداد میں کمی کا ذکر کیا گیا، جبکہ جنگلی شہد کی مکھیوں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی آئی، جس کی ایک وجہ زرعی ادویات کا بڑھتا ہوا استعمال بتایا گیا۔ شہد کی مکھیاں فصلوں کی پولینیشن اور زرعی پیداوار کے لیے اہم ہیں۔
تو پھر کیا کیا جائے؟
سب سے اہم ضرورت پانی کے انتظام کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے کی ہے۔ مزید ٹیوب ویل لگانا واحد حل نہیں ہو سکتا۔ باجوڑ کو شدید بارش کے دوران تیزی سے بہہ جانے والے پانی کو زیادہ سے زیادہ محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔ چھوٹے ڈیم، چیک ڈیم، تالاب اور ری چارج اسٹرکچر پانی کے بہاؤ کو کم کر کے زیادہ پانی زمین میں جذب ہونے میں مدد دے سکتے ہیں۔
زیرِ زمین پانی کی باقاعدہ نگرانی بھی ضروری ہے۔ جس چیز کو ہم ناپتے ہی نہیں، اسے بہتر طور پر منظم بھی نہیں کر سکتے۔ جہاں زیرِ زمین پانی تیزی سے کم ہو رہا ہو، وہاں بروقت اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
زراعت کو بھی موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ کسانوں کو بہتر اور کم پانی میں پیداوار دینے والی اقسام، مؤثر آبپاشی، بروقت موسمی معلومات اور کاشت کے بدلتے ہوئے اوقات کے بارے میں رہنمائی فراہم کرنا ہوگی۔ کسانوں کے روایتی تجربے کو جدید زرعی تحقیق اور موسمی پیش گوئی کے ساتھ جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اسی طرح جنگلات اور آبی حوضوں کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ شجرکاری کو محض ماحولیاتی سرگرمی نہیں بلکہ پانی، مٹی اور زراعت کے تحفظ کا حصہ سمجھنا ہوگا۔
آخر میں ہمیں قدرتی آفات کے بعد صرف امداد دینے کے بجائے پیشگی تیاری اور روک تھام کی طرف جانا ہوگا۔ بروقت وارننگ سسٹم، خطرے سے دوچار آبادیوں کی نشاندہی، قدرتی آبی گزرگاہوں کا تحفظ اور مقامی سطح پر تیاری شدید بارشوں سے ہونے والے نقصانات کو کم کر سکتی ہے۔
باجوڑ کے کسان کبھی بھی قدرت کے سامنے بے بس تماشائی نہیں رہے۔ انہوں نے فصلیں تبدیل کیں، نئی اقسام اپنائیں، ٹیوب ویل لگائے، آبپاشی بہتر کی اور جدید زرعی طریقے اختیار کیے۔ پرانا مطالعہ بھی ان کی بدلتے حالات کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے کی قابلِ ذکر صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
اب چیلنج یہ ہے کہ اس موافقت کو پائیدار بنایا جائے۔
2015 کا یہ مطالعہ، دراصل، ایک ابتدائی وارننگ تھا۔ اس میں مختصر ہوتی سردیاں، طویل ہوتی گرمیاں، بدلتی بارشیں، طویل خشک ادوار اور گرتی ہوئی زیرِ زمین پانی کی سطح ریکارڈ کی گئی تھی۔ دس سال سے زیادہ عرصے بعد یہ خدشات مزید اہم ہو چکے ہیں۔
لہٰذا اب سوال یہ نہیں کہ باجوڑ میں موسمیاتی تبدیلی آ چکی ہے یا نہیں۔
یہ آ چکی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری منصوبہ بندی اور ترقیاتی پالیسیاں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں؟
موسمیاتی تبدیلی کسی سرکاری اعلان کے ساتھ نہیں آتی۔ یہ خاموشی سے آتی ہے: ایک مختصر ہوتی سردی، دیر سے آنے والی بارش، تیزی سے گزر جانے والی بہار، جلد خشک ہونے والا چشمہ، پہلے سے زیادہ گہرا ہوتا ٹیوب ویل اور ہر سال کچھ طویل محسوس ہونے والی گرمی کی صورت میں۔
ہمارے کسانوں نے ان تبدیلیوں کو ایک دہائی سے بھی پہلے محسوس کر لیا تھا۔ اب وقت ہے کہ ہماری پالیسیاں، ترقیاتی منصوبے اور سرمایہ کاری بھی ان کی آواز سنیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.