کرن جاوید: گاؤں کی بچیوں کے لیے امید کی ایک آواز

0

تحریر: الویرا وقاص
ساہیوال: ساہیوال کے نواحی گاؤں 90/9 ایل سے تعلق رکھنے والی نوجوان استاد کرن جاوید نے اپنے علاقے کی بچیوں کی تعلیم، تحفظ اور بااختیار بنانے کے لیے آواز اٹھا کر ایک ایسی سماجی جدوجہد کا آغاز کیا ہے، جو اب ان کے گاؤں کی حدود سے نکل کر وسیع تر سطح پر بھی پہچانی جا رہی ہے۔
تین بہن بھائیوں میں سب سے بڑی کرن نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد تدریس کے شعبے کو پیشے کے طور پر اپنایا، تاہم اپنے اردگرد بچیوں کو درپیش مسائل نے انہیں محض استاد رہنے کے بجائے اپنی کمیونٹی میں سماجی تبدیلی کے لیے کردار ادا کرنے پر بھی آمادہ کیا۔
کرن کے مطابق ان کے والد نے ان کی تعلیم اور شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کیا۔
“مجھے حوصلہ اپنے والد صاحب سے ملا۔ انہوں نے ہماری تعلیم کے لیے بھرپور کوشش کی اور ہمیں انسانیت کی خدمت کا درس دیا۔”
گاؤں میں بچیوں کو تشدد کا سامنا کرتے، کم عمری میں شادیاں ہوتے اور نوجوان لڑکیوں کو مختلف سماجی مسائل سے دوچار دیکھ کر کرن کے ذہن میں سوالات پیدا ہوتے رہے۔ بالآخر انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ان مسائل کو صرف دیکھنے یا ان پر بات کرنے کے بجائے ان کے حل کے لیے عملی کردار ادا کریں گی۔
اسی مقصد کے تحت انہوں نے لودھراں پائلٹ پروجیکٹ کے “آواز دو” پروگرام میں شمولیت اختیار کی۔ کرن کے لیے یہ پروگرام پہلے خود آگاہی حاصل کرنے اور پھر اپنی کمیونٹی میں آگاہی پھیلانے کا ذریعہ بنا۔
انہوں نے اپنے گاؤں کے مختلف گھروں کا دورہ کیا، خواتین اور بچیوں سے ملاقاتیں کیں اور ان کے مسائل اور تجربات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ ان ملاقاتوں کے دوران انہیں اندازہ ہوا کہ بہت سی لڑکیاں نہ صرف تعلیم اور مساوی مواقع سے محروم ہیں بلکہ انہیں اپنے بنیادی حقوق اور مدد کے دستیاب ذرائع کے بارے میں بھی مکمل معلومات حاصل نہیں۔
امتیازی رویے، تعلیم اور بچیوں کے مسائل

کرن جاوید: گاؤں کی بچیوں کے لیے امید کی ایک آواز
کرن کا کہنا ہے کہ مذہبی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی بچیوں کو سکولوں میں بعض اوقات اکثریتی برادری کی جانب سے امتیازی رویوں، عدم مساوات اور تضحیک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے تجربات بعض بچیوں کو ذہنی طور پر متاثر کرتے ہیں اور کچھ لڑکیاں دلبرداشتہ ہو کر تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہیں۔
ایسی صورتحال میں کرن بچیوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ ان کے والدین سے بھی رابطہ کرتی ہیں اور انہیں بیٹیوں کی تعلیم جاری رکھنے کی اہمیت سے آگاہ کرتی ہیں۔
ان کے مطابق کمیونٹی میں بعض والدین اب بھی لڑکیوں کی تعلیم کو ترجیح نہیں دیتے۔ ان کا عام سوال ہوتا ہے:”بچی کو پڑھا کر کیا کرنا ہے، آخرکار اس کی شادی ہی تو کرنی ہے۔”
کرن ایسے والدین کو سمجھاتی ہیں کہ تعلیم صرف ملازمت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک لڑکی کو اپنے فیصلے کرنے، اپنے حقوق سمجھنے اور اپنے خاندان اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بہتر بنانے کے قابل بھی بناتی ہے۔
تعلیم سے آگے، عزت اور شناخت کی جدوجہد
کرن کے نزدیک کسی معاشرے کی ترقی صرف سڑکوں، عمارتوں یا معاشی ترقی سے نہیں ناپی جا سکتی۔ حقیقی ترقی اس وقت ممکن ہے جب معاشرے کے ہر فرد کو آگے بڑھنے کے مساوی مواقع حاصل ہوں۔
“اگر آپ آبادی کے نصف سے زائد حصے کو پیچھے چھوڑ دیں تو اجتماعی ترقی کیسے ممکن ہو سکتی ہے؟” وہ سوال کرتی ہیں۔
ان کے مطابق خواتین اور بچیوں کو پہلے ہی صنفی عدم مساوات کا سامنا ہے، تاہم جب کوئی لڑکی مذہبی اقلیت سے تعلق رکھتی ہو، کم عمر ہو، غریب خاندان سے ہو یا معذوری کا سامنا کر رہی ہو تو اس کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔
کرن کی جدوجہد اسی لیے صرف بچیوں کی تعلیم تک رسائی تک محدود نہیں بلکہ ان کے لیے عزت، مساوات، تحفظ اور اپنی شناخت کے ساتھ زندگی گزارنے کے حق سے بھی جڑی ہوئی ہے۔
“آپ کی آواز” کے ذریعے آگاہی

کرن جاوید: گاؤں کی بچیوں کے لیے امید کی ایک آواز
کمیونٹی میں کام کے دوران کرن نے محسوس کیا کہ بہت سی خواتین اور بچیوں کو یہ معلوم نہیں کہ مشکل یا تشدد کی صورت میں انہیں کس سرکاری ادارے سے رابطہ کرنا چاہیے یا کون سی ہیلپ لائن ان کی مدد کر سکتی ہے۔
اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے انہوں نے نوجوانوں، بالخصوص لڑکیوں کے لیے سوشل میڈیا پر “آپ کی آواز” کے نام سے ایک پلیٹ فارم قائم کیا۔
اس پلیٹ فارم کے ذریعے صنفی تشدد، بچیوں کے حقوق، تعلیم اور دیگر سماجی مسائل کے بارے میں آگاہی فراہم کی جاتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ دیگر نوجوان بھی اس کوشش کا حصہ بنے، جس سے یہ پلیٹ فارم کمیونٹی کے نوجوانوں کے لیے مکالمے اور سماجی آگاہی کا ذریعہ بن گیا۔
کرن کے لیے کمیونٹی میں تبدیلی کا مطلب صرف آگاہی سیشن منعقد کرنا نہیں بلکہ لوگوں کے رویوں میں تبدیلی لانا بھی ہے۔ اسی لیے وہ نوجوان لڑکوں کو بھی ان مباحث میں شامل کرتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ صنفی مساوات کے لیے صرف لڑکیوں کو بااختیار بنانا کافی نہیں، بلکہ لڑکوں اور مردوں کو بھی اس عمل کا حصہ بنانا ضروری ہے تاکہ وہ اپنی بہنوں، بیٹیوں اور شریک حیات کے لیے معاون کردار ادا کر سکیں۔
ملکی صورتحال بھی چیلنج کی شدت ظاہر کرتی ہے
کرن کی کمیونٹی میں سرگرمیاں پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم اور مساوی مواقع سے متعلق ایک وسیع تر مسئلے کی عکاسی کرتی ہیں۔
نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ (NCRC) کی رپورٹ “The State of Children in Pakistan 2025” کے مطابق پاکستان میں لڑکیاں اب بھی سکول چھوڑنے اور تعلیم کا سلسلہ جاری نہ رکھ پانے کے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سکول سے باہر لڑکیوں کی شرح میں کچھ بہتری آئی ہے اور یہ 42 فیصد سے کم ہو کر 35 فیصد تک پہنچی ہے، تاہم لاکھوں بچیاں اب بھی تعلیم کے حق سے محروم ہیں۔ غربت، صنفی امتیاز اور سماجی و جغرافیائی عدم مساوات ان کی تعلیم کی راہ میں اہم رکاوٹیں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مذہبی اقلیتی پس منظر رکھنے والی لڑکیوں کو ابتدائی شادی، گھریلو ذمہ داریوں، نقل و حرکت پر پابندیوں اور سکولوں کے اندر اور اردگرد تحفظ کے خدشات سمیت اضافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کمزور شکایتی نظام اور امتیازی رویوں کے خلاف محدود احتساب بھی ان مسائل میں اضافہ کرتے ہیں۔
معذوری کا سامنا کرنے والی بچیوں کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 38 لاکھ بچے کسی نہ کسی معذوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جو سکول جانے کی عمر کے بچوں کی پانچ فیصد سے زیادہ آبادی بنتی ہے۔

کرن جاوید: گاؤں کی بچیوں کے لیے امید کی ایک آواز

تاہم سکولوں میں ان بچوں کی ضروریات کے مطابق سہولیات، تربیت یافتہ اساتذہ اور معاون تعلیمی وسائل کی کمی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
یوں جب کسی بچی کو بیک وقت صنفی عدم مساوات، مذہبی اقلیت سے تعلق، غربت یا معذوری جیسے عوامل کا سامنا ہو تو اس کی محرومی کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ کرن کی جدوجہد اسی پیچیدہ حقیقت کو اپنی کمیونٹی کی سطح پر اجاگر کرتی ہے۔
“کسی ایک انسان کی زندگی بچانا”
کرن کے لیے سماجی کام کسی اعزاز یا مالی فائدے کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش ہے۔
“مجھ سے اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ کو یہ سب کرکے کیا حاصل ہوتا ہے۔ میں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتی کہ مجھے کتنی خوشی ہوتی ہے جب آپ کسی ایک انسان کی زندگی بچا لیتے ہیں۔”
کرن کی سرگرمیاں اب ان کے گاؤں تک محدود نہیں رہیں۔ وہ برٹش کونسل کے سالانہ میں بھی شرکت کر چکی ہیں، جہاں انہوں نے صنفی تشدد کے خاتمے میں نوجوانوں کے کردار پر گفتگو کی۔
ان کی کہانی اس بات کی مثال ہے کہ سماجی تبدیلی ہمیشہ بڑے شہروں، بڑے اداروں یا طاقتور پلیٹ فارمز سے شروع نہیں ہوتی۔ بعض اوقات ایک چھوٹے سے گاؤں کی ایک نوجوان لڑکی اپنی آواز بلند کرتی ہے اور وہ آواز آہستہ آہستہ پوری کمیونٹی میں تبدیلی کی بنیاد بن جاتی ہے۔
کرن جاوید کی جدوجہد یہ پیغام دیتی ہے کہ جب لڑکیوں کو تعلیم، اعتماد اور اپنی آواز استعمال کرنے کا موقع دیا جائے تو وہ صرف اپنی زندگی نہیں بدلتی بلکہ اپنے اردگرد موجود دوسری بچیوں اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی نئے راستے کھول سکتی ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.