سابق چیف سلیکٹر محمد وسیم نے لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کے اوپنر امام الحق کی انجری پر سوالات اٹھاتے ہوئے اسے مبینہ طور پر ’جعلی انجری‘ قرار دے دیا ہےمحمد وسیم کا کہنا ہے کہ امام الحق کی جانب سے انجری کا یہ معاملہ پہلی مرتبہ سامنے نہیں آیا بلکہ اس طرح کی ڈرامے بازی ماضی میں بھی ہوچکی ہے۔
لارڈز ٹیسٹ کے دوران امام الحق نے پنڈلی میں تکلیف کی شکایت کی، جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ان کا اسکین کروایا گیا۔ اسکین میں پنڈلی میں معمولی کھنچاؤ کی نشاندہی ہوئی۔
تاہم معمولی کھنچاؤ کے باوجود امام الحق کے بیٹنگ کے لیے میدان میں نہ آنے پر کرکٹ حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی جارہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ امام الحق میدان میں آنے سے گریز کرتے رہے اور اسٹرائیک ڈیبیو کرنے والے نوجوان بیٹر اذان اویس کو بار بار اسٹرائیک دیتے رہے۔
ماضی میں کئی پاکستانی کھلاڑی شدید انجری کے باوجود بیٹنگ کرتے ہوئے مثال قائم کرچکے ہیں، جس کے باعث امام الحق کی معمولی انجری پر بیٹنگ سے دور رہنے کے فیصلے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
امام الحق کی حالیہ فارم بھی ان کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ گزشتہ 8 ٹیسٹ میچز کی دوسری اننگز میں وہ صرف دو مرتبہ ڈبل فگر میں پہنچے اور مجموعی طور پر 45 رنز 5.5 کی اوسط سے بنا سکے۔ فیلڈنگ کے دوران بھی وہ سلپ میں اہم کیچ چھوڑ چکے ہیں۔
ان حالات میں امام الحق کی انجری اور موجودہ فارم نے ان کی ٹیم میں جگہ اور کارکردگی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
