اسرائیل کو 40 ہزار بھاری بم فروخت کرنے کی منظوری 

0

نیوز ڈیسک

واشنگٹن: اسرائیلی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو تقریباً 2.8 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی ہے، جس میں لگ بھگ 40 ہزار بھاری بم شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق پیکیج میں تقریباً ایک ٹن وزن رکھنے والے بم بھی شامل ہیں، جسے حالیہ عرصے میں امریکا کی جانب سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت کے بڑے معاہدوں میں شمار کیا جا رہا ہے.

اسرائیلی میڈیا کے مطابق تقریباً نصف بم ایم کے-84 (Mk-84) جبکہ باقی بی ایل یو-117 (BLU-117) بنکر بسٹر بم ہیں۔ یہ دونوں اقسام مضبوط قلعہ بند تنصیبات اور بڑے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے اس نوعیت کے بھاری بم 2023 میں غزہ میں شروع کی گئی فوجی کارروائی کے دوران بھی استعمال کیے تھے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

یہ فیصلہ بائیڈن انتظامیہ کی پالیسی سے مختلف ہے۔ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں گنجان آباد علاقوں میں ممکنہ استعمال اور شہری ہلاکتوں کے خدشات کے باعث اسرائیل کو بعض بھاری بموں کی فراہمی محدود کی گئی تھی۔

چین کا مساوی اور منظم کثیر قطبی دنیا کے قیام پر زور 

چین کے وزیرِ دفاع ڈونگ جون نے خطے کے ممالک کی خودمختاری اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے حق کی حمایت کرتے ہوئے بیرونی مداخلت سے گریز پر زور دیا ہے۔

ایک بیان میں ڈونگ جون نے کہا کہ چین خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین فوجی قوت کی ترقی سے متعلق اپنے تجربات شیئر کرے گا اور ضرورت کے مطابق تعاون فراہم کرے گا۔ ان کے مطابق مشترکہ فوجی مشقوں، اہلکاروں کی تربیت، سازوسامان اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں بین الاقوامی عسکری تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

چینی وزیرِ دفاع نے اشتعال انگیز اقدامات سے گریز پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فوجی طاقت تنازعات کے حل کا ذریعہ نہیں بن سکتی، جبکہ دباؤ اور جبر سے اختلافات اور تقسیم میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ڈونگ جون نے کہا کہ چین علاقائی استحکام کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے اور دشمنی کے خاتمے کی کوششوں کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ متعلقہ ممالک کی خودمختاری اور ان کی مرضی کا احترام کیا جائے۔

انہوں نے مساوی اور منظم کثیر قطبی دنیا کے قیام، کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے اور تمام متعلقہ ممالک کے جائز سیکیورٹی خدشات دور کرنے کے لیے مزید کوششوں پر بھی زور دیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.