حکومت پر تنقید ریاست سے غداری نہیں 

0

محمد عجیب

بریڈفورڈ: ایک صحت مند جمہوریت میں حکومت پر تنقید ریاست سے غداری کے مترادف نہیں ہوتی۔ یہ ان بنیادی طریقہ کار میں سے ایک ہے جن کے ذریعے شہری اقتدار میں موجود افراد کا احتساب کرتے ہیں، عوامی پالیسیوں کو چیلنج کرتے ہیں اور بہتر حکمرانی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ 

اس کے باوجود ترقی پذیر اور ترقی یافتہ، دونوں طرح کے ممالک میں ایک تشویشناک رجحان سامنے آ رہا ہے، جہاں موجودہ حکومت پر تنقید کو ریاست پر حملے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ فرق بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، جبکہ ریاست ایک مستقل سیاسی اور ادارہ جاتی وجود کے طور پر قائم رہتی ہے۔ جب ان دونوں کو جان بوجھ کر ایک ہی چیز قرار دیا جائے تو عارضی طور پر سیاسی اقتدار سنبھالنے والوں پر تنقید کو غداری، انتہا پسندی یا قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینا آسان ہو جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ مضبوط حکومت یا مضبوط ریاست کی صورت میں نہیں نکلتا بلکہ جمہوری احتساب کا عمل کمزور پڑ جاتا ہے۔

ریاست اور حکومت میں فرق

سیاسی نظریات میں ریاست اور حکومت کے درمیان روایتی طور پر واضح فرق کیا جاتا ہے۔ ریاست ایک پائیدار سیاسی اور ادارہ جاتی وجود ہے جو ایک مخصوص علاقے، آبادی اور ان اداروں و آئینی انتظامات پر مشتمل ہوتی ہے جن کے ذریعے عوامی اختیار استعمال کیا جاتا ہے۔

اس کے برعکس، حکومت ایک عارضی انتظامیہ ہوتی ہے جسے ایک مخصوص مدت کے لیے ریاست کے معاملات چلانے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔

جمہوریت میں حکومتیں عوام سے اپنا اختیار حاصل کرتی ہیں اور ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ احتساب اور جانچ پڑتال کے عمل کے تابع رہیں۔ شہریوں کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ حکومتی فیصلوں پر سوال اٹھائیں، پالیسیوں کو چیلنج کریں اور آئینی و انتخابی عمل کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ کریں۔

لہٰذا کسی حکومت یا اس کی پالیسیوں پر تنقید لازمی طور پر ریاست پر تنقید نہیں ہوتی۔ تاہم، جب ریاست اور حکومت کے درمیان یہ فرق ختم کر دیا جائے تو اختلافِ رائے کو ریاست مخالف سرگرمی قرار دینا ممکن ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں سیاسی رہنما اپنی ذات، جماعت یا حکومت سے وفاداری کو حب الوطنی کے مترادف قرار دے سکتے ہیں۔

یہیں سے ایک خطرناک سیاسی صورتحال جنم لیتی ہے: حکومت پر تنقید قوم پر تنقید بن جاتی ہے اور حزبِ اختلاف کا کردار غداری کے زمرے میں آنے لگتا ہے۔

عالمی سطح پر آزادیِ اظہار کو لاحق خطرات

بین الاقوامی سطح پر بھی مجموعی صورتحال تشویش کا باعث ہے۔ فریڈم ہاؤس کی ’فریڈم اِن دی ورلڈ 2025‘ رپورٹ کے مطابق، 2024 میں مسلسل 19ویں سال عالمی سطح پر آزادی کی صورتحال میں مجموعی تنزلی دیکھی گئی۔ تنظیم کے مطابق 34 ممالک میں بہتری کے مقابلے میں 60 ممالک میں سیاسی حقوق اور شہری آزادیوں کی صورتحال خراب ہوئی۔

اظہارِ رائے کی آزادی میں کمی اس صورتحال کا ایک اہم پہلو ہے۔ وی-ڈیم انسٹی ٹیوٹ نے بھی اظہارِ رائے کی آزادی کو ان شعبوں میں شامل کیا ہے جو عالمی سطح پر جمہوریت کے زوال سے نمایاں طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ ادارے کے جائزوں میں میڈیا کی آزادی، آزادانہ بحث و مباحثے اور صحافیوں کے تحفظ میں کمی کی نشاندہی کی گئی ہے۔

وی-ڈیم کے مطابق 2024 میں دنیا کے تقریباً ایک چوتھائی ممالک، یعنی 44 ممالک میں، اظہارِ رائے کی آزادی کی صورتحال بگڑ رہی تھی۔ ادارے کے جائزوں میں یہ تعداد اب تک کی بلند ترین سطح قرار دی گئی ہے۔

میڈیا کی آزادی بھی مسلسل دباؤ کا شکار رہی ہے۔ یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ آزاد پریس اور عوامی سطح پر آزادانہ بحث و مباحثے کی فضا، جسے پبلک اسفیئر کہا جاتا ہے، ان بنیادی ذرائع میں شامل ہیں جن کے ذریعے شہری سیاسی اقتدار رکھنے والوں کا احتساب کرتے ہیں۔

جب تنقید کو جمہوری زندگی کا لازمی جزو سمجھنے کے بجائے اسے ایک خطرے کے طور پر دیکھا جانے لگے تو عوامی بحث اور اختلافِ رائے کی گنجائش لازماً محدود ہونے لگتی ہے۔

قومی سلامتی کے قوانین اور اختلافِ رائے

حکومت اور ریاست کو ایک ہی سمجھنا محض لفظی یا سیاسی بیانات تک محدود نہیں رہتا بلکہ بعض اوقات قانون سازی کے ذریعے بھی اس تصور کو تقویت مل سکتی ہے۔

قومی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی اور امنِ عامہ سے متعلق قوانین حکومتوں کو تفتیش، گرفتاری اور حراست کے وسیع اختیارات فراہم کر سکتے ہیں۔ شہریوں کو حقیقی خطرات سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایسے قوانین کے مقاصد جائز ہو سکتے ہیں، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب غیر معمولی اختیارات کو پرامن سیاسی اختلافِ رائے، صحافیوں، کارکنوں یا سول سوسائٹی کی تنظیموں کے خلاف استعمال کیا جائے۔

اس سلسلے میں بھارت کی مثال اکثر بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے پیش کی جاتی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ’غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ‘ (UAPA)، قومی سلامتی سے متعلق دفعات اور غیر ملکی فنڈنگ پر عائد پابندیوں کو ایسے انداز میں استعمال کیا گیا ہے جس سے کارکنوں، صحافیوں، طلبہ اور سول سوسائٹی کے گروہوں پر دباؤ بڑھا ہے۔

پاکستان اور بنگلہ دیش میں بھی اسی نوعیت کے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ وی-ڈیم نے بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کو ان ممالک میں شامل کیا ہے جہاں اس کے مطابق ’انتخابی آمریت‘  کی صورتحال پائی جاتی ہے۔

پاکستان میں بھی انسدادِ الیکٹرانک جرائم ایکٹ میں ترامیم متعارف کرائی گئی ہیں۔ ان میں جنوری 2025 کی وہ ترامیم بھی شامل ہیں جن کے تحت آن لائن مواد سے متعلق ریاستی اختیارات میں توسیع کی گئی اور اظہارِ رائے کی بعض اقسام کے لیے اضافی قانونی سزائیں یا دیگر نتائج متعارف کرائے گئے۔

اگرچہ مختلف ممالک میں قوانین کی تفصیلات اور قانونی سیاق و سباق ایک دوسرے سے مختلف ہیں، تاہم بنیادی تشویش ایک جیسی ہے: غیر معمولی خطرات سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے قوانین کہیں عام سیاسی اختلافِ رائے کو دبانے یا کنٹرول کرنے کا ذریعہ نہ بن جائیں۔

جب پرامن اختلافِ رائے پر دہشت گردی، قومی سلامتی یا دیگر غیر معمولی خطرات سے نمٹنے کے لیے بنائی گئی دفعات کے تحت مقدمات قائم کیے جاتے ہیں تو معاشرے کو ایک واضح پیغام مل سکتا ہے کہ صرف انہی حدود کے اندر بات کی جائے جو سرکاری طور پر قابلِ قبول سمجھی جاتی ہیں۔

ایک فعال جمہوریت کے لیے یہ فرق برقرار رکھنا ضروری ہے کہ ریاست مستقل ادارہ ہے، جبکہ حکومت عوام کے مینڈیٹ سے قائم ہونے والی عارضی انتظامیہ۔ حکومت کی پالیسیوں پر تنقید، اس کے فیصلوں پر سوال اٹھانا اور اس کے احتساب کا مطالبہ شہریوں کے جمہوری حقوق کا حصہ ہیں۔ ان حقوق کے تحفظ کے بغیر ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد اور جمہوری احتساب دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔

مصنف بریڈفورڈ، برطانیہ کے سابق لارڈ میئر ہیں۔

یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جو ادارے کی ادارتی پالیسی سے مطابقت رکھ بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.