امریکہ نے زمین کے مدار میں کس قسم کے ہتھیار نصب کیے ہیں؟ 

0

نیوز ڈیسک

واشنگٹن: امریکہ نے اپنی اور اپنے اتحادیوں کی افواج کے تحفظ کے لیے خلا میں ہتھیار نصب کرنے کا اعتراف تو کر لیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ زمین کے مدار میں کس نوعیت کے ہتھیار یا فوجی نظام تعینات کیے گئے ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا جب امریکی فضائیہ کے انڈر سیکرٹری  ٹرائے مینک (Troy Meink) نے ’ایئر، اسپیس اینڈ سائبر کانفرنس‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ممکنہ حریفوں کی جانب سے سامنے آنے والے نئے خطرات سے نمٹنے کے لیے خلا میں ہتھیار نصب کیے ہیں۔

مینک کا یہ بیان اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ امریکی حکام عام طور پر خلا میں موجود فوجی اثاثوں کو براہِ راست ’ہتھیار‘ قرار دینے کے بجائے انہیں ’سسٹمز‘ یا ’صلاحیتوں‘ کے طور پر بیان کرتے رہے ہیں۔

امریکہ نے خلا میں کیا نصب کیا؟

اب تک امریکی حکومت کی جانب سے ایسی کوئی عوامی اور تصدیق شدہ فہرست سامنے نہیں آئی جس سے معلوم ہو سکے کہ خلا میں تعینات یہ ہتھیار یا سسٹمز کتنے ہیں، کہاں موجود ہیں اور ان کی مخصوص نوعیت کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ہتھیاروں سے مراد روایتی بم یا دھماکہ خیز آلات ہونے کا امکان کم ہے۔ برطانیہ کی ڈرہم یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر بلیڈن بوون (Bleddyn Bowen) کے مطابق ان میں الیکٹرانک وارفیئر کی صلاحیتیں شامل ہو سکتی ہیں۔

ایسی ٹیکنالوجی کا مقصد سیٹلائٹ مواصلات اور سگنلز میں خلل ڈالنا یا انہیں متاثر کرنا ہو سکتا ہے۔ اس کے ذریعے کسی سیٹلائٹ کو جسمانی طور پر تباہ کیے بغیر اس کی مواصلاتی، نیویگیشن یا دیگر آپریشنل صلاحیتوں کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔

یہ طریقہ ایک اور وجہ سے بھی اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ کسی سیٹلائٹ کو براہِ راست تباہ کرنے والے کائنیٹک حملے کے نتیجے میں خلا میں بڑی مقدار میں ملبہ پیدا ہو سکتا ہے، جو دیگر سیٹلائٹس کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔

کاؤنٹر اسپیس‘ صلاحیتیں کیا ہیں؟

الیکٹرانک وارفیئر خلا میں ممکنہ عسکری صلاحیتوں کی صرف ایک قسم ہے۔ بڑی عسکری طاقتیں ’کاؤنٹر اسپیس‘ کے نام سے ایسی مختلف صلاحیتیں تیار کر رہی ہیں جن کا مقصد حریف کے خلائی اثاثوں یا ان کے استعمال کو محدود کرنا ہو سکتا ہے۔

ان میں سیٹلائٹ سگنلز میں مداخلت، مواصلاتی نظام میں خلل ڈالنا اور مخالف کے خلائی بنیادی ڈھانچے کے استعمال کو متاثر کرنا شامل ہو سکتا ہے۔

تاہم امریکہ نے ٹرائے مینک کے بیان میں جن مخصوص صلاحیتوں کا ذکر کیا، ان کی تفصیلات تاحال ظاہر نہیں کیں۔

’سیکیور ورلڈ فاؤنڈیشن‘ کی ڈائریکٹر برائے خلائی سلامتی وکٹوریہ سیمسن (Victoria Samson) نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ امریکی خلائی فوج کا ’اسپیس کنٹرول‘ تصور خلا میں امریکی افواج کو کارروائی کے قابل بنانے کے ساتھ ساتھ حریفوں کی خلائی صلاحیتوں کو محدود کرنے سے بھی متعلق ہو سکتا ہے۔

خلا میں نئی عسکری دوڑ کا خدشہ

امریکہ کی جانب سے خلا میں ہتھیاروں کی موجودگی کے کھلے اعتراف نے خلا میں بڑھتی ہوئی عسکری مسابقت کے خدشات کو بھی نمایاں کیا ہے۔

وکٹوریہ سیمسن کے مطابق اس طرح کا اعتراف چین اور روس کو اپنی ’کاؤنٹر اسپیس‘ صلاحیتوں کو ظاہر کرنے یا ان میں مزید توسیع کی ترغیب دے سکتا ہے۔

خلا میں کسی بڑے تصادم کے اثرات صرف فوجی شعبے تک محدود نہیں رہیں گے۔ جدید معیشتیں اور فوجی نظام GPS نیویگیشن، مواصلات، نگرانی، موسم کی نگرانی اور دیگر خدمات کے لیے سیٹلائٹس پر انحصار کرتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی خلائی فورس کے ترجمان نے ٹرائے مینک کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ روس اور چین کی جانب سے خلائی صلاحیتوں میں پیش رفت پہلے ہی یہ ظاہر کر چکی ہے کہ خلا ممکنہ تنازعات کا ایک میدان بن چکا ہے۔ ترجمان کے مطابق زیادہ شفافیت غلط فہمیوں کو کم کرنے اور ممکنہ جارحیت کو روکنے میں مدد دے سکتی ہے۔

چین اور روس کا مؤقف

چین اور روس نے خلا میں عسکریت پسندی کی مخالفت کا اظہار کیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے کہا کہ چین خلا کو میدانِ جنگ میں تبدیل کرنے کی مخالفت کرتا ہے اور خلائی جنگ کی تیاریوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بھی کہا کہ روس ہتھیاروں سے پاک بیرونی خلا کی حمایت کرتا ہے اور خلا کو غیر فوجی بنانے کے لیے بین الاقوامی تعاون پر زور دیتا ہے۔

بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

یہ معاملہ موجودہ بین الاقوامی خلائی قانون کی حدود کو بھی نمایاں کرتا ہے۔

1967 کا بیرونی خلائی معاہدہ (Outer Space Treaty) جوہری ہتھیاروں اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے دیگر ہتھیاروں کو زمین کے مدار میں رکھنے سے روکتا ہے، تاہم خلا میں روایتی ہتھیاروں یا ہر قسم کی الیکٹرانک جنگی صلاحیتوں پر جامع پابندی عائد نہیں کرتا۔

اسی قانونی خلا کے باعث ممالک بعض مخصوص فوجی صلاحیتوں کو موجودہ معاہدے کی پابندیوں کے اندر رہتے ہوئے تیار اور تعینات کر سکتے ہیں۔

امریکہ کی جانب سے خلا میں ہتھیار نصب کرنے کا اعتراف، تاہم ان کی نوعیت اور مقام کے بارے میں خاموشی، اس سوال کو بدستور کھلا چھوڑتا ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں زمین کے مدار کا کردار کس حد تک بڑھ سکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.