پاکستان کا بھارتی جنگی جہاز پر احتجاج، خصوصی اقتصادی زون میں کیا ہوا؟ 

0

نیوز ڈیسک

اسلام آباد: پاکستان نے اپنے خصوصی اقتصادی زون میں بھارتی بحریہ کے جنگی جہاز کی مبینہ مداخلت اور پاکستانی بحری جہاز کے قریب خطرناک انداز میں نقل و حرکت پر بھارت سے شدید سفارتی احتجاج کیا ہے۔

دفترِ خارجہ کے مطابق اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے ناظم الامور کو طلب کرکے 15 ستمبر کو پیش آنے والے واقعے پر پاکستان کا باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔

پاکستانی دفترِ خارجہ نے بھارتی جنگی جہاز کے اقدام کو اشتعال انگیز اور ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے سمندری امور سے متعلق بین الاقوامی قوانین اور دوطرفہ معاہدوں کے احترام کی اہمیت پر زور دیا۔

دفترِ خارجہ کے مطابق نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور بھی بھارتی وزارتِ خارجہ کو اسی معاملے پر احتجاجی مراسلہ دیں گے۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق، پاکستان بحریہ یکم ستمبر سے اپنے خصوصی اقتصادی زون میں SEASPARK-26 مشقیں کر رہی ہے، جبکہ بھارتی بحریہ کا ایک جنگی جہاز 7 ستمبر سے مشقوں کے علاقے میں متعدد مرتبہ داخل ہونے کی کوشش کرتا رہا۔

دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی جہاز پر ایک ہیلی کاپٹر بھی موجود تھا اور اسے پاکستانی بحری جہازوں سے محفوظ فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے متعدد مرتبہ متنبہ کیا گیا، تاہم اس نے پاکستانی جہازوں کے قریب خطرناک انداز میں نقل و حرکت جاری رکھی۔

پاکستان کے مطابق 15 ستمبر کو بھارتی جنگی جہاز آئی این ایس کولکتہ نے پاکستانی بحری جہاز پی این ایس حنین کے قریب خطرناک انداز میں نقل و حرکت کی، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں کے درمیان رابطہ ہوا۔ پاکستانی جہاز نے تصادم سے بچنے کی کوشش کی، جبکہ واقعے کے بعد بھارتی جہاز نے رفتار بڑھائی اور علاقے سے روانہ ہوگیا۔

دفترِ خارجہ نے واقعے کو 1991 کے دوطرفہ معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق، پاکستان بحریہ کے پیشہ ورانہ اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل نے صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے میں مدد دی۔

دفترِ خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان نے سفارتی سطح پر واقعات کی مبینہ طور پر مسخ شدہ عکاسی پر بھی اعتراض کیا اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔

پاکستان نے خبردار کیا کہ بھارتی اقدامات کے جواب میں اختیار کی گئی تحمل کی پالیسی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.