اسلام آباد مارچ روکنے کے لیے کتنی رقم خرچ ہوگی؟

0

نیوز ڈیسک

اسلام آباد: جماعتِ اسلامی کے 20 ستمبر اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو مجوزہ لانگ مارچ کے پیشِ نظر وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں، جبکہ مارچ کے شرکا کی پیش قدمی روکنے کے لیے شہر کے مختلف مقامات پر بڑی تعداد میں کنٹینرز نصب کیے جا رہے ہیں۔

جیو نیوز کو موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں اب تک تقریباً 600 کنٹینرز پہنچائے جا چکے ہیں، جبکہ حکام نے اہم داخلی و خارجی راستوں سمیت مختلف مقامات پر 1,000 تک کنٹینرز لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف داخلی اور خارجی راستوں پر رکاوٹیں قائم کی جا رہی ہیں، جبکہ ڈی چوک کے راستے ریڈ زون میں داخلہ مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

سکیورٹی رکاوٹوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کنٹینرز کے اندر اور اطراف میں مٹی ڈالنے کی بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

لانگ مارچ کے دوران سکیورٹی کے لیے 3,000 سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ رینجرز اور اینٹی رائٹ فورس بھی سکیورٹی ڈیوٹی انجام دیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی صورتحال اور ضرورت کے مطابق 20 ستمبر کے بعد دیگر شہروں سے مزید پولیس اہلکار بھی اسلام آباد طلب کیے جا سکتے ہیں۔

دستیاب تفصیلات کے مطابق 40 فٹ کے ایک کنٹینر کا یومیہ کرایہ 20,000 روپے ہے، جس کے باعث مارچ روکنے کے لیے کیے جانے والے انتظامات پر اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 26 نومبر 2025 کو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے کیے گئے سکیورٹی انتظامات پر تقریباً 170 ملین روپے، یعنی 17 کروڑ روپے، خرچ ہوئے تھے۔

ذرائع کے مطابق آئندہ سیاسی مارچوں کے پیشِ نظر موجودہ سکیورٹی انتظامات کے لیے بھی اسی نوعیت کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.