نیوز ڈیسک
صنعا/ریاض: یمن کی حوثی تحریک کے ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات پر درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حوثی تحریک نے بدھ کو جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کے بحیرۂ احمر کے اہم ساحلی شہر ینبع میں آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
حوثیوں کے مطابق حملوں میں استعمال کیے گئے میزائل اور ڈرون اپنے اہداف تک پہنچے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی اور تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچا۔
حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جنوبی سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط میں واقع ایک ایئربیس پر بیلسٹک میزائل حملوں کے دوران متعدد اہداف کو درست نشانہ بنایا گیا۔
حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ حملے یمن میں جاری فوجی کارروائیوں کے ردعمل میں کیے گئے۔
تاہم سعودی عرب نے تاحال ان حملوں سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کیں اور نہ ہی حوثیوں کے دعووں کی باضابطہ تصدیق یا تردید کی ہے۔
سعودی جنگی طیارے سے متعلق دعویٰ
اس سے قبل بھی حوثی جنگجو سعودی عرب کے ایک ایف-15 لڑاکا طیارے کو یمن کے شمالی صوبے مارب کی فضائی حدود میں مار گرانے کا دعویٰ کر چکے ہیں۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق سعودی طیارے کو مارب میں فوجی کارروائی کے دوران نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا۔ تاہم انہوں نے اپنے دعوے کے ثبوت پیش نہیں کیے، جبکہ سعودی وزارت دفاع کی جانب سے بھی اس دعوے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
مکہ کی جانب ڈرون سے متعلق متضاد دعوے
بدھ کو سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے دعویٰ کیا کہ اس نے مکہ کی جانب جانے والے ایک حوثی ڈرون کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے مار گرایا۔
سعودی فوجی حکام نے ڈرون کو شہریوں کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2017 کے بعد یہ مکہ کو نشانہ بنانے کی حوثیوں کی دوسری ناکام کوشش تھی۔ سعودی حکام کے مطابق اسلامی دنیا کے مقدس ترین شہر کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب حوثی سیاسی بیورو کے رکن حزام الاسد نے مکہ کو نشانہ بنانے کے سعودی الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’’سنگین جھوٹ‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی تحریک اسلامی مقدس مقامات کو کبھی نشانہ نہیں بناتی۔
یمن میں دوبارہ شدت
فریقین کے یہ متضاد دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یمن کے مغربی ساحلی علاقوں اور صوبہ مارب میں سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت دیکھی جا رہی ہے۔
حالیہ عرصے میں سعودی سرزمین پر حوثیوں کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے حوثیوں کے بنیادی ڈھانچے اور ڈرون لانچنگ سائٹس کے خلاف فضائی کارروائیاں کی ہیں۔
یمن کا تنازع 2014 میں حوثیوں کے دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد شدت اختیار کر گیا تھا۔ اس کے بعد یہ خطے کی طویل ترین جنگوں میں شامل ہو گیا، جس کے اثرات بحیرۂ احمر کی سمندری گزرگاہوں اور علاقائی سلامتی تک پہنچتے رہے ہیں۔
حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر یمن کے تنازع، بحیرۂ احمر میں بحری آمدورفت اور پورے خطے میں سلامتی کی صورتحال کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
