نیوز ڈیسک
لاہور: پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے لندن کے حالیہ دورے کے دوران صوبائی حکومت کے سرکاری طیارے گلف اسٹریم جی 500 کے استعمال پر آنے والے 2 کروڑ 71 لاکھ 94 ہزار روپے کے اخراجات پنجاب حکومت کے خزانے میں جمع کرا دیے ہیں۔
دستیاب ادائیگی کی دستاویزات کے مطابق 27,194,004 روپے جمعرات کو نیشنل بینک آف پاکستان کی لاہور میں ویلینشیا برانچ میں پنجاب حکومت کے خزانے کے اکاؤنٹ میں جمع کرائے گئے۔ رقم بینک آف پنجاب کے چیک کے ذریعے ادا کی گئی، جبکہ پے اِن سلپ پر جمع کنندہ کے طور پر عمر عباس کا نام درج ہے۔
یہ ادائیگی پنجاب حکومت کی جانب سے اس یقین دہانی کے بعد سامنے آئی ہے کہ مریم نواز لندن کے نجی دورے کے لیے استعمال کیے گئے سرکاری طیارے کے اخراجات ذاتی طور پر ادا کریں گی۔
مریم نواز رواں ماہ کے آغاز میں اپنی بیٹی ماہ نور صفدر کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے لندن گئی تھیں۔ نجی دورے کے لیے سرکاری طیارے کے استعمال پر اپوزیشن اور دیگر حلقوں کی جانب سے تنقید کی گئی تھی۔
تنقید کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے لیے کوئی دورہ مکمل طور پر نجی نہیں ہوتا، کیونکہ وہ جہاں بھی موجود ہوں، عوامی خدمت سے متعلق امور انجام دیتی رہتی ہیں۔
ملتان میں الیکٹرک بس سروس کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہوائی سفر سے وقت کی بچت ہوتی ہے اور ان کے لیے وقت انتہائی قیمتی ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ ناقدین کی توجہ ’9 ارب روپے کے جیٹ‘ پر مرکوز ہے، تاہم یہ طیارہ ان کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کا سرکاری طیارہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین تک پہنچنے کے لیے وہ کشتی کے ذریعے بھی سفر کر چکی ہیں، لیکن بین الاقوامی سفر موٹر سائیکل یا چنگ چی رکشے پر نہیں کیا جا سکتا۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ضرورت پڑنے پر وہ عوامی فلاح اور ترقیاتی امور کے لیے سرکاری طیارہ استعمال کرتی رہیں گی، جبکہ لندن کے حالیہ سفر کے طیارہ اخراجات بھی انہوں نے خود ادا کیے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے حوالے سے مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ بعض افراد سوشل میڈیا پر تنقید کے بدلے ڈالر وصول کرتے ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے پنجاب حکومت کی مختلف ترقیاتی اسکیموں کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ ’اپنا گھر، اپنی چھت‘ ہاؤسنگ اسکیم میں 300 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
گلف اسٹریم G500 طیارہ خود بھی پنجاب حکومت کے لیے ایک متنازع معاملہ رہا ہے، جبکہ اس کی مبینہ خریداری کی لاگت کے حوالے سے بھی مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔
سرکاری طیارے کے نجی سفر کے لیے استعمال کا معاملہ اس سے قبل پنجاب اسمبلی میں بھی زیر بحث آ چکا ہے، جہاں طیارے کے استعمال کے اخراجات اور اسے استعمال کرنے کی مجاز اتھارٹی سے متعلق تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔
