طائف میں حوثی ڈرون کا ملبہ، یمنی شہری ہلاک پاکستانی زخمی 

0

نیوز ڈیسک

ریاض: سعودی حکام کے مطابق طائف میں حوثی باغیوں کی جانب سے بھیجا گیا ڈرون فضا میں تباہ کیے جانے کے بعد اس کا ملبہ ایک رہائشی علاقے میں جا گرا، جس کے نتیجے میں ایک یمنی شہری ہلاک جبکہ ایک پاکستانی شہری شدید زخمی ہو گیا۔

سعودی سول ڈیفنس کے مطابق سکیورٹی فورسز نے یمن کی حوثی تحریک کی جانب سے بھیجے گئے ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا تھا، تاہم ڈرون کا ملبہ آبادی والے علاقے میں گرنے سے جانی نقصان کے ساتھ عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

سول ڈیفنس کے ترجمان نے بتایا کہ ہنگامی امدادی اداروں نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی کارروائی شروع کردی اور متاثرہ علاقے میں حفاظتی اقدامات نافذ کیے گئے۔

واقعے نے آبادی والے علاقوں کے قریب فضائی اہداف کو تباہ کرنے کے دوران زمین پر موجود افراد اور املاک کو لاحق ممکنہ خطرات کو بھی نمایاں کیا ہے۔

یہ واقعہ سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان سرحد پار حملوں میں حالیہ اضافے کے تناظر میں پیش آیا ہے۔ 2022 میں جنگ بندی کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان نسبتاً سکون کا دور رہا تھا، تاہم حالیہ عرصے میں ڈرون اور میزائل حملوں کے واقعات دوبارہ سامنے آئے ہیں۔

سعودی حکام نے حالیہ مہینوں کے دوران ملک کے جنوبی علاقوں کی جانب داغے گئے متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی اطلاعات دی ہیں۔ جولائی میں بھی سعودی عرب نے اپنے جنوبی علاقوں کی طرف آنے والے میزائلوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ ستمبر میں خمیس مشیط سمیت دیگر علاقوں کے قریب ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔

16 ستمبر کو سعودی قیادت والے اتحاد نے مکہ کے جنوب میں ایک حوثی ڈرون مار گرانے کا اعلان کیا تھا۔ سعودی حکام کے مطابق ڈرون ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم حوثیوں نے مکہ یا کسی اسلامی مقدس مقام کو نشانہ بنانے کی تردید کی تھی۔

طائف کا تازہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ڈرون اور میزائل حملوں کے دوبارہ بڑھنے سے سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال کے اثرات بحیرہ احمر اور باب المندب کے اطراف سمندری سکیورٹی اور عالمی تجارتی جہاز رانی تک بھی پہنچ سکتے ہیں، کیونکہ باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والا اہم تزویراتی بحری راستہ ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.