نفیسہ کاکڑ
کوئٹہ: بلوچستان کو اکثر سیکیورٹی کے زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔ عسکریت پسندی، دہشت گردی، شورش، سرحدی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی صوبے کے بارے میں ہونے والی گفتگو پر حاوی رہتے ہیں۔ یہ بلاشبہ سنگین چیلنجز ہیں، تاہم صرف سیکیورٹی کی اصطلاحات بلوچستان میں جنم لینے والے گہرے بحران کی مکمل وضاحت نہیں کرتیں۔
اصل مشکل سوال صرف یہ نہیں کہ تشدد کا ذمہ دار کون ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ سیاسی بیگانگی اتنی گہری کیوں ہو چکی ہے کہ تشدد کو بار بار خود کو دوبارہ پیدا کرنے کے مواقع مل جاتے ہیں۔
شہریوں، سیکیورٹی اہلکاروں یا عوامی تنصیبات پر حملوں کا کوئی جواز نہیں۔ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے مسلح گروہوں کا مقابلہ کیا جانا چاہیے اور ریاست کی اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کی آئینی و جائز ذمہ داری ہے۔ تاہم ضروری سیکیورٹی اقدامات اپنی جگہ، ایسے بحران کا حل صرف طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں جس کی جڑیں سیاسی، معاشی اور تاریخی عوامل میں بھی پیوست ہوں۔
بلوچستان ایک گہرا تضاد پیش کرتا ہے۔ قدرتی وسائل، وسیع رقبے اور تزویراتی محلِ وقوع سے مالا مال یہ صوبہ طویل عرصے سے سیاسی اخراج، ناکافی ترقی اور اپنے وسائل سے متعلق فیصلوں میں محدود مقامی شرکت کی شکایات کا سامنا کر رہا ہے۔
یہ شکایات نئی نہیں۔ کئی دہائیوں میں جمع ہونے والی محرومیوں کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر نیا سیکیورٹی آپریشن اس خدشے کو جنم دیتا ہے کہ بحران کے بنیادی اسباب حل ہونے کے بجائے صرف ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔
جب سیاست سیکیورٹی بن جائے
بلوچستان کو محض سیکیورٹی کا مسئلہ سمجھنا ایک بنیادی غلطی ہو سکتی ہے۔
جب سیاسی حقوق، منصفانہ انتخابات، وسائل کی منصفانہ تقسیم یا انسانی حقوق کے مطالبات کو فوری طور پر سیکیورٹی کے تناظر میں دیکھا جائے تو سیاسی گنجائش بتدریج محدود ہوتی جاتی ہے۔ اس صورت میں پرامن آوازیں کمزور پڑ سکتی ہیں جبکہ سیکیورٹی ادارے ایسے معاملات میں بھی مرکزی کردار اختیار کر لیتے ہیں جو بنیادی طور پر سیاسی نوعیت رکھتے ہیں۔
یوں ایک خطرناک چکر تشکیل پاتا ہے: شکایات کو سیکیورٹی مسئلہ سمجھا جاتا ہے، بیگانگی میں اضافہ ہوتا ہے، عسکریت پسند تنظیمیں پیدا ہونے والی مایوسی سے فائدہ اٹھاتی ہیں اور پھر عسکریت پسندی کو مزید سیکیورٹی اقدامات کے جواز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
اس چکر کو توڑنے کے لیے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ ہر شکایت سیکیورٹی خطرہ نہیں ہوتی۔
بیرونی عناصر یقیناً عدم استحکام سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں اور ان کے ممکنہ کردار کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ تاہم بیرونی مداخلت کے امکان کو تسلیم کرنا ہمیں اس بنیادی سوال سے غافل نہیں کرنا چاہیے کہ وہ شکایات موجود ہی کیوں ہیں جنہیں بیرونی قوتیں اپنے مفاد کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔
غیر ملکی مداخلت کسی بحران کو بڑھا سکتی ہے، لیکن ضروری نہیں کہ وہ اس کی ہر بنیادی وجہ پیدا کرے۔
سیاسی نمائندگی کا بحران
بلوچستان کے بحران کو سمجھنے میں سیاسی نمائندگی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
جمہوریت صرف انتخابات کرانے کا نام نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ شہریوں کو یقین ہو کہ ان کے ووٹ کی اہمیت ہے، ان کے منتخب نمائندے حقیقی طور پر ان کے مسائل کی ترجمانی کرتے ہیں اور انہیں ان مسائل کو سیاسی اداروں میں اٹھانے کے لیے مناسب گنجائش حاصل ہے۔
اگر کوئی منتخب نمائندہ اپنے حلقے کے عوام کے مسائل مؤثر انداز میں بیان نہ کر سکے تو ان شہریوں کے لیے جمہوری راستہ کیا باقی رہ جاتا ہے؟
اس کا جواب ہر بار ایک اور سیکیورٹی آپریشن نہیں ہو سکتا۔
ایک فعال سیاسی نظام شہریوں کو غصے اور اختلاف کا اظہار کرنے، حقوق کا مطالبہ کرنے، حکومتی فیصلوں کو چیلنج کرنے اور ادارہ جاتی سطح پر مسائل کے حل کی کوشش کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ جب یہ راستے کمزور پڑتے ہیں تو مایوسی ختم نہیں ہوتی؛ وہ صرف اظہار کے کسی دوسرے راستے کی تلاش کرتی ہے۔
جب شناخت شک کی زد میں آ جائے
بحران کی ایک تشویشناک جہت نسلی شناخت کو سیاسی شکوک کے ساتھ جوڑنے کا رجحان بھی ہے۔
کچھ نوجوان بلوچوں کے لیے یہ تاثر پیدا ہونا کہ محض بلوچ ہونے کی وجہ سے انہیں عسکریت پسندی یا بے وفائی کے شبہے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، ایک خطرناک صورتحال ہے۔
دہشت گردی کی کوئی نسل نہیں ہوتی۔ کوئی برادری پیدائشی طور پر پرتشدد نہیں ہوتی اور کوئی جغرافیہ خود بخود دہشت گرد پیدا نہیں کرتا۔ عسکریت پسندی مخصوص سیاسی، سماجی، معاشی اور تاریخی حالات میں جنم لیتی ہے۔
اس حقیقت کو تسلیم کرنے کا مطلب عسکریت پسند تنظیموں کو ان کے جرائم سے بری کرنا نہیں۔ شہریوں، سیکیورٹی اہلکاروں یا عوامی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کو قانون کے مطابق جوابدہ ہونا چاہیے۔ تاہم احتساب اجتماعی نہیں بلکہ انفرادی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
آئینی حقوق کا مطالبہ کرنے والا بلوچ شہری لازماً علیحدگی پسند نہیں۔ ریاستی پالیسی پر سوال اٹھانے والا پشتون لازماً دہشت گرد نہیں۔ اور حکومتی پالیسی پر تنقید کرنے والا شہری خود بخود ریاست کا دشمن نہیں بن جاتا۔
ایک جمہوری ریاست کے لیے یہ امتیاز قائم رکھنا ضروری ہے۔ بصورتِ دیگر سیاسی اختلاف کے بتدریج شناختی تنازع میں تبدیل ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
وسائل، ترقی اور طاقت
بلوچستان کے بحران کی معاشی جہت بھی اتنی ہی توجہ کی مستحق ہے۔
صوبے کے قدرتی وسائل اور تزویراتی محلِ وقوع نے اسے پاکستان کے معاشی عزائم میں اہم مقام دیا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) اس کی نمایاں مثال ہے۔
سی پیک پاکستان کے لیے تزویراتی اور معاشی اہمیت رکھتا ہے، لیکن اس سے وابستہ منصوبوں کو سنگین سیکیورٹی خطرات کا بھی سامنا رہا ہے۔ اس کا ایک فطری ردعمل منصوبوں اور بنیادی ڈھانچے کے گرد سیکیورٹی بڑھانا ہے۔
تاہم اس کے ساتھ ایک بنیادی سیاسی سوال بھی موجود ہے: جن علاقوں میں مقامی لوگوں کے مسائل اور شکایات حل نہیں ہوتیں، وہاں ترقیاتی منصوبے سیاسی طور پر غیر محفوظ کیوں ہو جاتے ہیں؟
ترقی صرف سڑکوں، بندرگاہوں، کانوں اور سرمایہ کاری کا نام نہیں۔ اس کے لیے مقامی آبادی کی قبولیت اور اس عمل کی سیاسی قانونی حیثیت بھی ضروری ہے۔
اگر مقامی لوگ یہ محسوس کریں کہ ان کی زمین اور وسائل سے متعلق فیصلے بامعنی مشاورت کے بغیر کیے جا رہے ہیں تو ترقیاتی منصوبے خوشحالی کی علامت کے بجائے محرومی یا بیگانگی کی علامت بن سکتے ہیں۔
کسی منصوبے کو سیکیورٹی فورسز کے ذریعے جسمانی تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کی طویل مدتی پائیداری کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ مقامی آبادی اسے اپنے مفاد میں سمجھتی ہے یا اپنے اوپر مسلط کردہ منصوبہ تصور کرتی ہے۔
بنیادی سوال وسائل کی تقسیم کے ساتھ طاقت کا بھی ہے: فیصلے کون کرتا ہے، ان سے فائدہ کس کو پہنچتا ہے اور ان کی قیمت کون ادا کرتا ہے؟
کمزور ہوتا ہوا سماجی معاہدہ
اس بحران کے مرکز میں ریاست اور شہریوں کے درمیان تعلق کا ایک وسیع تر سوال بھی موجود ہے۔
آئین محض ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ ریاست اور شہریوں کے درمیان حقوق اور ذمہ داریوں کے ایک نظام کی نمائندگی کرتا ہے۔
شہریوں سے قانون کی پاسداری اور اپنی شہری ذمہ داریاں پوری کرنے کی توقع کی جاتی ہے، جبکہ ریاست سے تحفظ، انصاف، نمائندگی اور مساوی شہریت کی فراہمی کی توقع ہوتی ہے۔
جب شہری یہ محسوس کرنے لگیں کہ کچھ آوازیں دوسروں سے زیادہ اہم ہیں، ان کے وسائل پر ان کی مناسب شمولیت کے بغیر فیصلے کیے جا رہے ہیں یا ریاستی پالیسی پر تنقید کرنے کی صورت میں انہیں غداری کے الزامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تو ریاست اور شہریوں کے درمیان سماجی معاہدہ کمزور ہونے لگتا ہے۔
اسی لیے “غدار” یا “ریاست کا دشمن” جیسے لیبلز کا بار بار استعمال جمہوری سیاست کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
ریاست محض تنقید کو غداری کا ثبوت قرار دے کر شہریوں سے وفاداری کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔
ریاست کی مضبوطی کا اندازہ صرف اس بات سے نہیں لگایا جانا چاہیے کہ اس کے خلاف کتنی کم آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ ریاست اختلافِ رائے کو کس حد تک برداشت کرتی ہے اور کیا وہ اختلاف کو ریاست کے وجود کے لیے خطرہ سمجھے بغیر اس کا سیاسی جواب دے سکتی ہے۔
نیکروپولیٹکس کا زاویہ
یہاں کیمرون کے فلسفی اور سیاسی مفکر اچیل مبیمبے کا تصورِ “نیکروپولیٹکس” (Necropolitics) بھی اس بحران کو سمجھنے کے لیے ایک اہم نظریاتی زاویہ فراہم کرتا ہے۔
نیکروپولیٹکس بنیادی طور پر اس طاقت سے متعلق ہے جس کے ذریعے یہ طے ہوتا ہے کہ کس کو تحفظ ملے گا، کون تشدد کا شکار ہوگا اور کن لوگوں کی زندگی عدم تحفظ، بے گھری اور موت کے حالات سے زیادہ متاثر ہوگی۔
بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے تناظر میں یہ تصور ایک اہم سوال اٹھاتا ہے: کیا کچھ آبادیوں کے لیے ریاست کا تجربہ تحفظ اور سیاسی شمولیت پر مبنی ہے، جبکہ دوسری آبادیوں کے لیے ریاست کا تجربہ زیادہ تر نگرانی، طاقت کے استعمال اور عدم تحفظ سے وابستہ ہے؟
اس سوال کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ہلاکت ریاست کی جانب سے حکم دی گئی ہے، اور نہ ہی اس کا مقصد عسکریت پسند تنظیموں کو ان کے تشدد کی ذمہ داری سے بری کرنا ہے۔
بلکہ اس زاویے سے ان سیاسی حالات کا جائزہ لینے کی ضرورت سامنے آتی ہے جن کے نتیجے میں بعض برادریاں غیر متناسب طور پر عدم تحفظ کا شکار ہو جاتی ہیں۔
ریاست کے پاس خطرات کی تعریف کرنے، طاقت کے استعمال کے طریقوں کا تعین کرنے اور یہ فیصلہ کرنے کا اختیار ہوتا ہے کہ کن حالات میں طاقت کے بجائے سیاسی مکالمے کو ترجیح دی جائے۔ ان فیصلوں کے سیاسی اور سماجی نتائج بھی ہوتے ہیں۔
اگر کوئی سیکیورٹی پالیسی بار بار اسی آبادی میں خوف پیدا کرے جس کا اعتماد ریاست کے لیے ضروری ہے تو ایسی پالیسی کا سنجیدہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔
انسدادِ دہشت گردی اور احتساب
عسکریت پسندوں کے تشدد کی مذمت کا مطلب یہ نہیں کہ ریاستی اقدامات پر سوال اٹھانے کا حق ختم ہو جائے۔
جب عسکریت پسند شہریوں یا سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنائیں تو قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ لیکن انسدادِ دہشت گردی کے ادارے بھی قانون کے سامنے جوابدہ ہونے چاہئیں۔
ماورائے عدالت ہلاکتوں یا قانونی عمل کی خلاف ورزیوں سے متعلق الزامات کو محض قومی سلامتی کے نام پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے الزامات شفاف تحقیقات اور مناسب قانونی کارروائی کے متقاضی ہوتے ہیں۔
قانون کی حکمرانی کی اہمیت مشکل حالات میں مزید بڑھ جاتی ہے۔
ریاست آئینی نظام کا مؤثر دفاع اس صورت میں نہیں کر سکتی جب وہ انہی قانونی اصولوں کو کمزور کر دے جو اسے ان پرتشدد قوتوں سے ممتاز کرتے ہیں جن کا وہ مقابلہ کر رہی ہے۔
سیکیورٹی اور احتساب کو ایک دوسرے کے متضاد مقاصد کے طور پر دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ ایک آئینی جمہوریت میں دونوں ایک دوسرے کو تقویت دے سکتے ہیں۔
ماہرینِ تعلیم ریاست کے دشمن نہیں
یہ اصول ماہرینِ تعلیم اور محققین پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
سیاست دان اور ماہرِ تعلیم کے کردار بنیادی طور پر مختلف ہوتے ہیں۔ سیاست دان کا تعلق حکمرانی، سیاسی طاقت اور عوامی پالیسی سے ہوتا ہے، جبکہ ماہرِ تعلیم کی ذمہ داری تحقیق، سوال، تشریح اور مروجہ مفروضوں کو چیلنج کرنا ہے۔
اگر کوئی نوجوان پی ایچ ڈی کے لیے سرکاری فنڈنگ حاصل کرتا ہے تو اس سرمایہ کاری کو سیاسی اطاعت خریدنے کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اس کا مقصد علم کی تخلیق اور تحقیق ہونا چاہیے۔
جو ماہرِ تعلیم یہ سوال اٹھاتا ہے کہ انتخابات منصفانہ ہیں یا نہیں، انسانی حقوق کا مناسب تحفظ ہو رہا ہے یا نہیں، ادارے مؤثر انداز میں کام کر رہے ہیں یا ریاستی پالیسیاں بیگانگی کو بڑھا رہی ہیں، ضروری نہیں کہ وہ ریاست کے خلاف کام کر رہا ہو۔
تنقیدی علمی کاوشیں ان کمزوریوں کو سامنے لا سکتی ہیں جنہیں سیاسی بیانیے بعض اوقات چھپا دیتے ہیں، اور اس طرح اداروں کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔
اپنی قانونی حیثیت اور عوامی اعتماد پر یقین رکھنے والی ریاست کو مشکل سوالات سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ اسے ان سوالات کا جواب دینے کی صلاحیت رکھنی چاہیے۔
سیکیورٹی بیانیے سے آگے
بلوچستان کو صرف “سیکیورٹی” اور “ریاست مخالف” بیانیوں کے درمیان ایک اور بحث سے زیادہ کچھ درکار ہے۔
عسکریت پسندی کا مقابلہ ضروری ہے اور بیرونی مداخلت کے ممکنہ کردار کی تحقیقات بھی ہونی چاہئیں۔ لیکن اس کے ساتھ سیاسی شکایات اور عوامی تحفظات کا ازالہ بھی ضروری ہے۔
مقامی برادریوں کو اپنے وسائل سے متعلق فیصلوں میں مؤثر آواز ملنی چاہیے۔ انتخابات پر اعتماد بحال ہونا چاہیے۔ پارلیمنٹ کو اختلافِ رائے کے لیے حقیقی گنجائش فراہم کرنی چاہیے۔ عدالتوں کو قانونی عمل کا تحفظ کرنا چاہیے اور سیاسی نمائندوں کو اپنے حلقوں کے عوام کی مؤثر ترجمانی کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ شہریوں کو ریاست سے اختلاف کرنے کی آزادی حاصل ہونی چاہیے، بغیر اس کے کہ انہیں فوراً ریاست کا دشمن قرار دے دیا جائے۔
اصل چیلنج صرف بلوچستان پر انتظامی یا سیکیورٹی کنٹرول برقرار رکھنا نہیں بلکہ بلوچستان اور پاکستان کے درمیان تعلق کو دوبارہ اعتماد کی بنیاد پر استوار کرنا ہے۔
اس کے لیے صرف انتظامی اقدامات یا اضافی سیکیورٹی اہلکار کافی نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے شمولیت، آئینی حقوق، انصاف، معاشی مساوات اور بامعنی مکالمے پر مبنی سیاسی تصفیے کی ضرورت ہوگی۔
سننے کی سیاست
آخرکار، زندگی اور موت کی سیاست صرف اس سوال تک محدود نہیں کہ کون مرتا ہے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کس کی زندگی محفوظ ہے، کس کی آواز سنی جاتی ہے، کس کی تکلیف کو قابلِ برداشت سمجھا جاتا ہے اور کس کے مستقبل کو سیاسی طور پر اہمیت دی جاتی ہے۔
اگر پاکستان بلوچستان میں پائیدار امن چاہتا ہے تو اسے اس تصور سے آگے بڑھنا ہوگا کہ طاقت کے ذریعے شکایات کو مستقل طور پر قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
امن صرف مسلط نہیں کیا جا سکتا؛ اسے سیاسی اور قانونی جواز بھی درکار ہوتا ہے۔
یہ جواز نمائندگی، آئینی بالادستی، انصاف، معاشی مساوات اور عوام کی بات سننے کی آمادگی سے پیدا ہوتا ہے۔
اس لیے پاکستان کے سامنے سوال صرف یہ نہیں کہ عسکریت پسندی کو کیسے شکست دی جائے۔ سوال یہ بھی ہے کہ ایسا سیاسی اور آئینی ماحول کیسے قائم کیا جائے جس میں شہریوں کو یہ محسوس نہ ہو کہ تشدد ہی وہ واحد زبان ہے جسے ریاست سمجھتی ہے۔
بلوچستان کا مستقبل بالآخر صرف ریاست کی علاقے پر کنٹرول برقرار رکھنے کی صلاحیت پر منحصر نہیں ہوگا بلکہ اعتماد بحال کرنے کی صلاحیت پر بھی منحصر ہوگا۔
سیاسی اعتماد ایک بار کھو جائے تو اسے صرف طاقت کے زور پر واپس حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
اسے کارکردگی، انصاف، نمائندگی اور رویے کے ذریعے دوبارہ حاصل کرنا پڑتا ہے۔
مصنف بلوچستان کی لورالائی یونیورسٹی میں سیاسیات کے محقق ہیں۔
یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے اور ضروری نہیں کہ یہ ادارے کی ادارتی پالیسی کی عکاسی کرتا ہو۔
