نیوز ڈیسک
ریاض: سعودی عرب اور یمن کے حوثی باغیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں کو مبینہ حملوں کا سامنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ان حملوں میں 18 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں، جبکہ فضائی سفر اور ہوائی اڈوں کی سیکیورٹی سے متعلق خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، اتوار کو ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل 4 پر ایک نامعلوم پروجیکٹائل گرنے سے آگ بھڑک اٹھی۔ سعودی حکام نے واقعے میں ایک شخص کی ہلاکت اور 11 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی۔ یہ واقعہ ایک روز قبل ہونے والے مبینہ حملے کے بعد پیش آیا، جس میں اطلاعات کے مطابق 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج کے مطابق، پروجیکٹائل ایئرپورٹ ٹرمینل سے ٹکرایا۔ دوسری جانب، اطلاعات میں بتایا گیا کہ سعودی فضائی دفاعی نظام نے ہوائی اڈے کے قریب ایک کروز میزائل کو فضا میں تباہ کر دیا۔ مشرقی صوبے میں ایک ڈرون کو بھی مار گرایا گیا، جبکہ خمیس مشیط کی جانب داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔
ابہا، ریاض اور دمام بھی نشانے پر
سعودی سول ڈیفنس کے مطابق، پیر کی صبح جنوبی شہر ابہا میں ہنگامی الرٹ جاری کیے گئے، تاہم بعد ازاں حکام نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کر دیا۔
حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی شہریوں کے علاوہ غیر ملکی باشندے بھی شامل ہیں۔ ہفتے کے روز پیش آنے والے ایک واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں 46 سالہ بھارتی شہری محمد یوسف بھی شامل تھے۔
یمن کے حوثی باغیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے اتوار کو ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے بیان میں ریاض ایئرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حوثیوں نے سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں واقع شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، دمام اور سعودی تیل کمپنی آرامکو کی دو تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔
سعودی سول ایوی ایشن حکام نے اتوار کی رات دمام ایئرپورٹ پر پیش آنے والے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نقصان کا جائزہ لینے کے ساتھ حفاظتی معائنے بھی کیے جا رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، دمام ایئرپورٹ پر موجود ایک طیارے کے مسافر نے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً ساڑھے آٹھ بجے رن وے پر کھڑے متعدد طیاروں کے قریب ایک پروجیکٹائل جیسی چیز گری، جس سے آگ لگ گئی۔ بعد ازاں طیارے کو واپس گیٹ پر لایا گیا اور مسافروں کو طیارے سے اتر کر متاثرہ علاقے سے دور جانے کی ہدایت کی گئی۔
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق، دمام ایئرپورٹ پر آنے اور وہاں سے روانہ ہونے والی متعدد پروازوں کو تاخیر اور منسوخی کا سامنا کرنا پڑا۔
حوثیوں کی وارننگ اور غیر ملکی شہریوں کے لیے سفری ہدایات
حوثی باغیوں نے اتوار کو سعودی ہوائی اڈوں کے استعمال کے حوالے سے ایک اور انتباہ جاری کیا۔ گروپ نے کہا کہ اگر حملوں کو روکنے کی کوششیں ناکام ہوئیں تو اس کی ذمہ داری ریاض پر عائد ہوگی۔
برطانوی سفارت خانے نے سعودی عرب میں مقیم برطانوی شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ جدہ، دمام اور مدینہ سمیت دیگر سعودی ہوائی اڈوں کا سفر صرف انتہائی ضروری ہونے کی صورت میں کریں۔ امریکی ہوابازی حکام نے بھی ایئرلائنز کو سعودی عرب کے لیے یا اس کی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازوں کے دوران احتیاط برتنے کی ہدایت کی۔
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے؟
حالیہ حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، گزشتہ ماہ حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحل پر اہم مقامات پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت کے وفادار دستوں نے جوابی کارروائی شروع کی۔
حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن میں 124 فضائی حملے کیے۔ گروپ کی وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر ریاض نے اپنی فوجی کارروائیاں اور یمن کے معاملات میں مبینہ مداخلت بند نہ کی تو صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا کہ واشنگٹن حوثیوں کے خلاف سعودی قیادت میں جاری فوجی آپریشن میں شامل ہونے پر غور کر رہا ہے۔
یہ پیش رفت خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بھی اہم ہے۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائی کے بعد علاقائی صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، جس کے اثرات یمن اور خلیجی ممالک کی سیکیورٹی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایران کی مذاکرات میں سہولت کاری کی پیشکش
دریں اثنا، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ انہوں نے اپنے سعودی ہم منصب کو آگاہ کیا ہے کہ تہران سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے تیار ہے۔
اس پیشکش کے باوجود، سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں پر حملوں اور حوثیوں کی جانب سے مزید کارروائیوں کی دھمکیوں نے خطے میں فضائی سفر، شہریوں کی حفاظت اور علاقائی استحکام کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ آئندہ دنوں میں صورت حال کا انحصار سعودی قیادت میں ہونے والی فوجی کارروائیوں، حوثیوں کے ردعمل اور سفارتی کوششوں پر ہوگا۔
