ایران کی سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات کے لیے تعاون کی پیشکش

0

نیوز ڈیسک

اسلام آباد: ایران نے سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات کے آغاز اور تنازع کے سیاسی حل کے لیے تعاون کی پیشکش کی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے میں زور دیا کہ فوجی کارروائیوں پر اصرار خطے میں جاری بحرانوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب خلیجی خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور سعودی عرب کی تنصیبات پر حملوں کے بعد علاقائی صورت حال مزید حساس ہو گئی ہے۔

عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر اپنے بیان میں کہا کہ گفتگو کے دوران تنازعات کے حل کے لیے سیاسی راستہ اختیار کرنے اور طاقت کے استعمال سے گریز کرنے کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق، تہران سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات شروع کرانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے تاکہ خطے میں جاری بحرانوں کا سفارتی حل تلاش کیا جا سکے۔

عراقچی اس سے قبل بھی امریکہ کے ساتھ تنازع کے خاتمے کے لیے منصفانہ حل اور سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔

دوسری جانب، امریکی صدر نے یمن میں واشنگٹن کے کردار اور ایران سے متعلق اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کے اشارے دیے ہیں۔ ان بیانات کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں امریکی پالیسی میں ممکنہ تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں 2023 میں چین کی ثالثی کے ذریعے طے پانے والے معاہدے کے بعد بہتری آئی تھی، جس کے تحت دونوں ممالک نے سفارتی تعلقات بحال کرنے اور دوطرفہ روابط کو فروغ دینے پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم، حالیہ علاقائی کشیدگی نے اس پیش رفت کے مستقبل سے متعلق خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

خلیجی خطے میں کشیدگی کے دوران امریکی تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں، جن میں سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات سے متعلق واقعات بھی شامل ہیں۔

مارچ 2026 میں سعودی عرب کی جانب سے بھی علاقائی سلامتی اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی پر سخت مؤقف سامنے آیا تھا۔ ایسے حالات میں ایران کی جانب سے سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات کی پیشکش کو خطے میں سفارتی کوششوں کے ایک ممکنہ راستے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.