نیوز ڈیسک
اسلام آباد: گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کی خودکشی کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس کے مطابق گرفتار ملزم نعمان نے فراڈ کا اعتراف کر لیا ہے۔ تفتیشی حکام نے ملزم کا موبائل فون فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیا ہے، جبکہ تھانہ رمنا پولیس نے بھی اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق لائبہ اعجاز کا رابطہ ملزم نعمان سے عائزہ نامی لڑکی کے ذریعے ہوا تھا، جس کا بھائی امریکا میں مقیم ہے۔ ملزم پر الزام ہے کہ اس نے لائبہ کو بیرونِ ملک یونیورسٹی میں داخلے اور ویزے کے حصول کے حوالے سے جعلی دستاویزات فراہم کیں۔
حکام نے ملزم نعمان کو گرفتار کرنے کے بعد مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔ لائبہ کے والد کی مدعیت میں تھانہ رمنا میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، جبکہ موبائل فون کے فرانزک تجزیے سے مبینہ فراڈ کے حوالے سے مزید شواہد ملنے کی توقع ہے۔
اہلِ خانہ کے مطابق لائبہ کے والد نے بیٹی کو بیرونِ ملک تعلیم دلوانے کے لیے اپنا پلاٹ فروخت کیا اور زیورات گروی رکھ کر لاکھوں روپے ادا کیے تھے۔ تاہم، جب یونیورسٹی میں داخلے کا خط جعلی ثابت ہوا تو لائبہ شدید ذہنی صدمے سے دوچار ہوئی اور مبینہ طور پر دلبرداشتہ ہو کر اپنی جان لے لی۔
پولیس کی جانب سے کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ مبینہ فراڈ میں ملوث دیگر افراد اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا پتا لگایا جا سکے۔
