پاکستان کا آئینی بحران: اصل مسئلہ کیا ہے؟

0

(رحیم اللہ تاجک (حصہ اول

اسلام آباد:عالمی سیاست اس وقت غیر یقینی صورتحال کے ایک پیچیدہ دور سے گزر رہی ہے۔ علاقائی تنازعات میں شدت، روایتی اتحادوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور بڑی طاقتوں کے درمیان اسٹریٹجک مسابقت نے بین الاقوامی نظام کی نوعیت کو تبدیل کر دیا ہے۔ اب عالمی تعلقات میں اصولوں اور مشترکہ مفادات کے ساتھ ساتھ وقتی ضرورتوں اور لین دین پر مبنی مفادات کو بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہو رہی ہے۔

ایسے حالات میں سیاسی اور معاشی طور پر کمزور ریاستوں کو اندرونی چیلنجوں سے نمٹنے میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے حکمرانی کے نظام اور ادارہ جاتی استحکام پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ 

پاکستان بھی اپنی معاشی مشکلات، مسلسل سیکیورٹی خطرات اور طویل عرصے سے جاری سیاسی تقسیم کے باعث ان عالمی اور داخلی دباؤ سے متاثر ہونے کے حوالے سے خاص طور پر حساس ہے۔

اس تناظر میں ملک میں جمہوری اداروں کی کمزوری، جمہوری عمل میں پس رفت اور انتظامی اختیارات کے ارتکاز سے متعلق خدشات اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے ریاستی ادارے ان چیلنجوں کا مؤثر مقابلہ کرتے ہوئے ان آئینی اصولوں کا تحفظ کر سکتے ہیں جو جمہوری طرزِ حکمرانی کی بنیاد ہیں؟

بین الاقوامی جمہوری اشاریے پاکستان کی موجودہ صورت حال کو سمجھنے میں کسی حد تک مدد فراہم کرتے ہیں، اگرچہ کسی بھی درجہ بندی کے ذریعے ملک کے سیاسی، معاشرتی اور ادارہ جاتی مسائل کی مکمل تصویر پیش کرنا ممکن نہیں۔ 

ویریٹیز آف ڈیموکریسی (V-Dem) انسٹی ٹیوٹ کے لبرل ڈیموکریسی انڈیکس میں پاکستان کو جمہوری چیلنجوں کا سامنا کرنے والے ممالک میں شمار کیا گیا ہے۔ اس طرح کے جائزے ریاستی اداروں کی خودمختاری، پارلیمانی نگرانی کی مؤثریت اور شہری آزادیوں کے تحفظ سے متعلق سوالات کو اجاگر کرتے ہیں۔

تاہم، پاکستان کے جمہوری مسائل کو محض عالمی درجہ بندیوں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ عام شہریوں کے لیے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آیا پارلیمنٹ، عدلیہ اور صوبائی حکومتیں اپنی آئینی ذمہ داریاں آزادانہ طور پر ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں یا نہیں۔ اسی طرح ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کی بحالی بھی ایک بنیادی ضرورت ہے، جس کے لیے نہ صرف مضبوط ادارے بلکہ ان پر اثرانداز ہونے والے سیاسی اور انتظامی دباؤ کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔

پاکستان کی موجودہ سیاسی صورت حال میں ایک طرف مؤثر حکمرانی کی ضرورت ہے تو دوسری طرف اختیارات کو ایک ہی مرکز میں مرتکز کرنے کے خطرات بھی موجود ہیں۔ ان دونوں تقاضوں کے درمیان توازن قائم کرنا ملک کے آئینی نظام کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ ولسن سینٹر کے ساؤتھ ایشیا انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر مائیکل کوگل مین نے پاکستان کی سیاست پر اپنے تجزیوں میں اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ ادارہ جاتی تبدیلیوں کو ملک کے وسیع تر جمہوری اور آئینی مسائل سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔

آئینی ترمیم اور عدلیہ کی آزادی کا سوال

اکتوبر 2024 میں منظور ہونے والی 26ویں آئینی ترمیم نے عدلیہ کے کردار، اس کی آزادی اور ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم سے متعلق بحث کو مزید نمایاں کر دیا۔ اس ترمیم کے تحت عدالتی تقرریوں کے طریقہ کار میں اہم تبدیلیاں متعارف کرائی گئیں، جن میں تین سینئر ترین ججوں میں سے چیف جسٹس آف پاکستان کے انتخاب میں پارلیمنٹ کا کردار، ججوں کی مدتِ ملازمت سے متعلق تبدیلیاں اور جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی تشکیل میں ردوبدل شامل ہیں۔

ترمیم کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات سے عدالتی احتساب کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور عدلیہ کے اندر اختیارات کے ارتکاز سے متعلق خدشات کا ازالہ ممکن ہے۔ ان کے نزدیک عدالتوں سمیت تمام ریاستی اداروں کو شفافیت، احتساب اور ادارہ جاتی ذمہ داری کے اصولوں کے تحت کام کرنا چاہیے۔ اس اعتبار سے عدالتی اصلاحات اور جمہوری حکمرانی کو ایک دوسرے کی ضد قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

تاہم، کسی بھی اصلاحاتی عمل کی اہمیت صرف اس کے اعلان یا مقاصد تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کے ڈیزائن، طریقۂ کار اور عملی نفاذ کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ اگر عدالتی تقرریوں کے لیے واضح اور شفاف معیار موجود نہ ہوں یا سیاسی مفادات کو عدالتی میرٹ پر ترجیح دی جائے تو احتساب کے نام پر متعارف کرائی جانے والی اصلاحات عدلیہ کی آزادی پر عوامی اعتماد کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

چنانچہ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ عدلیہ میں اصلاحات ہونی چاہییں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان اصلاحات کے ذریعے اداروں کی ساکھ اور خودمختاری کو مضبوط بنایا جائے۔ اگر تبدیلیوں کا نتیجہ اختیارات کا توازن ایگزیکٹو یا حکمران اتحاد کے حق میں منتقل ہونے کی صورت میں نکلتا ہے تو اس سے آئینی نظام کے استحکام کے بجائے مزید سوالات جنم لے سکتے ہیں۔

قانونی حلقوں میں بھی ان معاملات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس سے وابستہ سینئر قانونی مشیر ریما عمر نے عدالتی آزادی اور آئینی ڈھانچے میں تبدیلیوں کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ اس نوعیت کے خدشات کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ عدلیہ ریاستی اختیارات کے غیر منصفانہ یا من مانے استعمال کے خلاف ایک اہم آئینی ضمانت سمجھی جاتی ہے۔

اس کے باوجود، عدلیہ کی قانونی اور اخلاقی حیثیت کا انحصار صرف اس کی آزادی پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ عوام اسے غیر جانب دار، مستقل مزاج اور آئینی حدود کا پابند ادارہ سمجھتے ہیں یا نہیں۔ ایک پائیدار عدالتی نظام کے لیے آزادی اور احتساب دونوں ضروری ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کو نظرانداز کرنے سے ادارے کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔

عدالتی تقرریوں میں پارلیمنٹ کی شرکت بذاتِ خود آزاد عدلیہ کے اصول سے متصادم نہیں، لیکن اس عمل کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر ضمانتوں کا ہونا ناگزیر ہے۔ احتساب کا نظام اس انداز میں تشکیل دیا جانا چاہیے کہ وہ ادارہ جاتی شفافیت کو فروغ دے، نہ کہ سیاسی وابستگیوں یا حکمران اتحاد کے مفادات کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بنے۔

وفاقی اختیارات اور صوبائی خودمختاری

پاکستان کے آئینی نظام کو درپیش ایک اور اہم چیلنج وفاقی حکومت کے اختیارات اور صوبائی خودمختاری کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے۔ ملک کا وفاقی ڈھانچہ اس اصول پر قائم ہے کہ قومی یکجہتی اور ریاستی استحکام کے ساتھ علاقائی تنوع اور صوبوں کے آئینی اختیارات کا بھی تحفظ کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون، باہمی اعتماد اور آئینی حدود کا احترام بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

تاہم، مسلسل سیاسی محاذ آرائی نے وفاق اور صوبوں کے تعلقات کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یہ صورت حال اس وقت مزید حساس ہو جاتی ہے جب وفاقی حکومت اور کسی صوبے میں مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتیں قائم ہوں۔ ایسے حالات میں انتظامی اختلافات بسا اوقات سیاسی کشمکش میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جس سے اختیارات کی تقسیم اور آئینی خودمختاری کے بارے میں سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

آئین میں ہنگامی حالات اور وفاقی مداخلت سے متعلق دفعات کا مقصد غیر معمولی حالات میں ریاستی نظام کو فعال رکھنا اور آئینی مشکلات سے نمٹنے کے لیے طریقۂ کار فراہم کرنا ہے۔ آرٹیکل 232 اور 234 مخصوص حالات میں ایسے اقدامات کی گنجائش فراہم کرتے ہیں، تاہم ان کا استعمال آئین میں مقرر کردہ شرائط اور طریقۂ کار کے مطابق ہی کیا جا سکتا ہے۔

اصولی طور پر، یہ دفعات ایسے غیر معمولی حالات میں عوامی مفاد اور ریاستی استحکام کے تحفظ میں مدد دے سکتی ہیں جہاں معمول کے انتظامی انتظامات ناکافی ثابت ہوں۔ لیکن ان اختیارات کے استعمال میں غیر معمولی احتیاط ضروری ہے، بالخصوص جب ان کا اثر کسی منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات اور مینڈیٹ پر پڑ سکتا ہو۔

سیکیورٹی تقاضے

خیبر پختونخوا میں جاری بحث اس پیچیدہ صورت حال کی عکاسی کرتی ہے جس میں وفاقی حکومت کو قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری پوری کرنے کے ساتھ صوبائی خودمختاری اور جمہوری نمائندگی کا احترام بھی کرنا ہوتا ہے۔

یہ صوبہ طویل عرصے سے عسکریت پسندانہ تشدد اور سیکیورٹی کے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ، دہشت گردی کی روک تھام اور قومی سلامتی کو یقینی بنانا ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ وفاقی حکام، جن میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی شامل ہیں، سیکیورٹی صورت حال کی سنگینی پر زور دیتے اور صوبائی حکومت کی جانب سے مؤثر اقدامات کی صلاحیت کے حوالے سے خدشات ظاہر کرتے رہے ہیں۔

ان خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ عسکریت پسندانہ حملوں کے نتیجے میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے اور عدم تحفظ کی فضا ملک کے سیاسی، معاشی اور سماجی استحکام کو متاثر کرتی ہے۔ تاہم، سیکیورٹی کی سنگینی اپنی جگہ، لیکن اس بنیاد پر آئینی تقاضوں کو نظرانداز کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔

ہنگامی آئینی اختیارات کے استعمال یا گورنر راج کے نفاذ کی کسی بھی تجویز کا جائزہ متعلقہ آئینی دفعات میں درج شرائط کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔ اس عمل میں دستیاب شواہد، حالات کی حقیقی نوعیت، مجوزہ اقدام کی ضرورت اور اس کے تناسب کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ کسی غیر معمولی اقدام کا جواز صرف اسی صورت میں مضبوط ہو سکتا ہے جب اس کی ضرورت واضح ہو اور وہ آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اختیار کیا جائے۔

اسی طرح، کسی صوبائی حکومت کی سیاسی وابستگی کو اس بات کا بنیادی معیار نہیں بننا چاہیے کہ وفاقی مداخلت جائز ہے یا نہیں۔ آئینی فیصلے سیاسی پسند و ناپسند کے بجائے حقائق، شواہد اور قانونی تقاضوں کی بنیاد پر کیے جانے چاہییں۔ دوسری طرف، صوبائی حکومتیں بھی عوامی تحفظ اور امن و امان سمیت اپنی انتظامی ذمہ داریوں کے حوالے سے جوابدہ ہیں۔

لہٰذا، اصل سوال یہ نہیں کہ وفاقی حکومت اور صوبائی انتظامیہ میں سے کون سا فریق سیاسی طور پر مضبوط ہے، بلکہ یہ ہے کہ آیا متعلقہ آئینی شرائط پوری ہوتی ہیں یا نہیں۔ اسی اصول کے تحت کسی بھی غیر معمولی اقدام کی قانونی حیثیت اور ضرورت کا تعین ہونا چاہیے

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، جس نے صوبائی خودمختاری کو متاثر کرنے والے وفاقی اقدامات کی مخالفت کی ہے، ان اقدامات کو اپنے انتخابی مینڈیٹ اور صوبائی اختیارات کے خلاف قرار دیتی ہے۔ پارٹی کی قیادت، بشمول چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، نے ان اقدامات کو قانونی اور سیاسی ذرائع سے چیلنج کیا ہے۔

منتخب نمائندوں کی جانب سے ایسے اعتراضات اٹھانا آئینی سیاست کا ایک فطری حصہ ہے، خصوصاً جب تنازع صوبائی اختیارات، جمہوری نمائندگی اور وفاقی مداخلت سے متعلق ہو۔ تاہم، ان اعتراضات کا جائزہ بھی اسی غیر جانب دارانہ اصول کے تحت لیا جانا چاہیے جو وفاقی حکومت کے اقدامات پر لاگو ہوتا ہے۔

اس معاملے میں دو انتہاؤں سے گریز ضروری ہے۔ ایک طرف یہ فرض کر لینا درست نہیں کہ وفاقی حکومت کی ہر مداخلت سیاسی مقاصد کے تحت کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف انتظامیہ کی جانب سے ضرورت اور سیکیورٹی کے نام پر کیے جانے والے ہر دعوے کو بلا تحقیق تسلیم کرنا بھی مناسب نہیں۔ آئینی نظام کی مضبوطی اسی وقت ممکن ہے جب حکومتی اقدامات کا جائزہ آزادانہ اور شفاف طریقے سے لیا جائے۔

اس مقصد کے لیے عدلیہ کی آزادانہ نظرثانی، پارلیمنٹ میں بامعنی بحث اور عوام کے سامنے واضح دلائل پیش کرنا ضروری ہے۔ ان ذرائع کے ذریعے نہ صرف غیر معمولی اقدامات کی آئینی حیثیت کا تعین کیا جا سکتا ہے بلکہ وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان اعتماد کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے۔

بالآخر، پاکستان میں آئینی توازن کا تحفظ اس امر سے وابستہ ہے کہ ریاستی اختیارات کو مؤثر حکمرانی کے لیے استعمال کیا جائے، نہ کہ انہیں سیاسی غلبے کا ذریعہ بننے دیا جائے۔ جمہوری استحکام کے لیے ضروری ہے کہ وفاقی حکومت، صوبائی انتظامیہ، پارلیمنٹ اور عدلیہ اپنی اپنی آئینی حدود کا احترام کریں اور اختلافات کا حل سیاسی محاذ آرائی کے بجائے قانون، مکالمے اور شفاف ادارہ جاتی عمل کے ذریعے تلاش کریں۔

 یہی راستہ ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کی بحالی اور پاکستان کے جمہوری مستقبل کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

رحیم اللہ تاجک نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی، اسلام آباد میں بین الاقوامی تعلقات کے ایم فل اسکالر ہیں۔ ان کی تحقیقی دلچسپیوں کا محور عصری عالمی اور علاقائی سلامتی کے امور ہیں۔ ان سے ای میل کے ذریعے:rahimullah15303@gmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

اس مضمون میں پیش کیے گئے خیالات مصنف کی ذاتی آرا ہیں اور ضروری نہیں کہ ادارے کی ادارتی پالیسی کی عکاسی کرتے ہوں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.