نیوز ڈیسک
برسلز: یورپی یونین کے اہم سربراہی اجلاس کی کوریج کے لیے بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں موجود بین الاقوامی صحافیوں کو ایک غیر معمولی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا، جہاں پریس بریفنگ روم میں بار بار پھیلنے والی ناگوار بدبو نے خبروں کے انتظار میں بیٹھے نامہ نگاروں کو ہال سے باہر نکلنے پر مجبور کردیا۔
یہ عجیب واقعہ اُس وقت پیش آیا جب صحافی یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی کی پریس کانفرنس کے منتظر تھے۔ سفارتی سرگرمیوں اور اہم سیاسی پیش رفت پر نظر رکھنے والے صحافیوں کے لیے یہ صورت حال جلد ہی دلچسپی اور سوشل میڈیا پر تبصروں کا موضوع بن گئی۔
رپورٹس کے مطابق پریس روم میں بدبو پھیلنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں تھا۔ اس سے ایک شام قبل بھی ایک سفارتی بریفنگ کے دوران اسی نوعیت کی ناگوار بو محسوس کی گئی تھی، جس کے باعث متعدد صحافیوں کو ہال سے باہر جانا پڑا۔
اجلاس کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے مطابق طویل انتظار اور مسلسل مصروفیت کے دوران پریس روم میں اچانک پھیلنے والی بدبو نے ماحول کو خاصا ناخوشگوار بنا دیا۔ سیاسی و معاشی تجزیہ کار اور صحافی شنکر ایّر نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے تجربات کا ذکر کیا۔
یورپی یونین کے سربراہی اجلاس جیسے اہم سفارتی مواقع پر دنیا بھر کے صحافی کئی گھنٹے پریس سینٹرز میں گزارتے ہیں، جہاں انہیں عالمی رہنماؤں کے بیانات، مذاکرات اور اہم فیصلوں سے متعلق تازہ ترین معلومات حاصل کرنے کے لیے مسلسل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ تاہم، اس مرتبہ سیاسی خبروں کے انتظار کے ساتھ پریس روم کے غیر معمولی ماحول نے بھی صحافیوں کی توجہ حاصل کرلی۔
پولیٹیکو یورپ سمیت مختلف بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ صحافیوں نے اس صورت حال پر ہلکے پھلکے انداز میں تبصرے کیے۔ سوشل میڈیا پر بعض صحافیوں نے طنز و مزاح کے ذریعے واقعے کا ذکر کیا، جبکہ دیگر نے اسے بین الاقوامی صحافت کی مصروف اور بعض اوقات غیر متوقع زندگی کا ایک عجیب تجربہ قرار دیا۔
تاحال بدبو کے اصل سبب کے بارے میں کوئی واضح تفصیل سامنے نہیں آئی۔ یوں یورپی یونین کے اہم اجلاس میں جہاں عالمی سیاست اور سفارت کاری سے متعلق معاملات زیرِ بحث رہے، وہیں پریس روم کا یہ پراسرار واقعہ بھی صحافتی حلقوں میں گفتگو کا موضوع بن گیا۔
