حنا جاوید قتل کیس میں نیا موڑ؟ گرفتار ملازم کے والد کا اہم دعویٰ

0

نیوز ڈیسک

اسلام آباد: حنا جاوید قتل کیس میں گرفتار گھریلو ملازم ذیشان ارشد کے والد محمد ارشد نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو قتل کے مقدمے میں پھنسا کر تمام تر ذمہ داری اس پر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ان کے مطابق، ذیشان نے جیل میں ملاقات کے دوران واقعے کی رات حنا جاوید اور ان کے شوہر فیصل اصغر کے درمیان جھگڑے کی تفصیلات بیان کیں۔

محمد ارشد کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے نے بتایا کہ 20 اگست کی رات میاں بیوی کے درمیان شور شرابے کے باعث اس کی آنکھ کھل گئی تھی۔ ان کے بقول، ذیشان نے دعویٰ کیا کہ حنا جاوید کے پیچھے ان کے شوہر فیصل اصغر آرہے تھے، جنہوں نے اسے ڈانٹنے کے بعد حنا کو پکڑنے کے لیے کہا۔

گرفتار ملزم کے والد کے مطابق، ذیشان نے میاں بیوی کے معاملے میں مداخلت سے انکار کیا، جس پر مبینہ طور پر فیصل اصغر نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور اسلحے کے زور پر حنا جاوید کو پکڑنے کے لیے کہا۔

‘بیٹے سے زبردستی اعتراف کرایا گیا’

محمد ارشد نے الزام لگایا کہ ان کے بیٹے پر تشدد کرکے اسے جرم قبول کرنے پر مجبور کیا گیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے قتل کی ذمہ داری ذیشان پر ڈال دی ہے، حالانکہ ان کے بیٹے کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ذیشان گزشتہ سات ماہ سے حنا جاوید کے گھر ملازمت کررہا تھا اور گرفتاری کے بعد وہ اس سے جیل میں دو مرتبہ ملاقات کرچکے ہیں۔ ان کے مطابق، ملاقاتوں کے دوران ذیشان نے خود کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے واقعے سے متعلق اپنا مؤقف بیان کیا۔

محمد ارشد نے اپنے بیٹے کے سابقہ کردار کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر ذیشان جرائم میں ملوث ہوتا تو اسے ملازمت کیوں دی جاتی؟

قتل کیس میں الزامات اور مؤقف کی تصدیق اہم

حنا جاوید قتل کیس میں گرفتار ملزم کے والد کے بیانات نے واقعے سے متعلق نئے سوالات اٹھائے ہیں، تاہم ان کے دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔ میاں بیوی کے درمیان مبینہ جھگڑے، تشدد اور اعترافِ جرم کے لیے دباؤ ڈالنے سے متعلق الزامات کو تاحال ثابت شدہ حقائق قرار نہیں دیا جاسکتا۔

کیس میں حقائق کی وضاحت کے لیے پولیس کا باضابطہ مؤقف، دستیاب شواہد اور تفتیش کے نتائج اہم ہوں گے۔ جب تک ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوتی، انہیں گرفتار ملزم کے والد سے منسوب الزامات کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.