نیوز ڈیسک
ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے ایک نئے اور طاقتور ہتھیار کی تیاری کا دعویٰ کرتے ہوئے اسے ’فادر آف آل بمبز‘ (تمام بموں کا باپ) قرار دیا ہے۔ یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور خطے میں ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
آئی آر جی سی کے ترجمان حسین محبی نے ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی فوجی حکمت عملی میں تبدیلی لا رہا ہے اور اب صرف دفاعی پوزیشن تک محدود رہنے کے بجائے جارحانہ اور غیر روایتی جنگی حکمت عملی پر توجہ دے رہا ہے۔ ان کے مطابق، ایران پر کسی بھی حملے کی صورت میں بھرپور جوابی کارروائی کی جائے گی، جس میں زمینی آپریشن بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
تاہم، ایران کے ’فادر آف آل بمبز‘ نامی ہتھیار کے بارے میں تاحال آزادانہ طور پر تصدیق شدہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔
اس کی تیاری، تباہ کن صلاحیت، نوعیت اور ممکنہ استعمال سے متعلق تفصیلات بھی واضح نہیں ہیں، اس لیے اس کی حقیقی طاقت کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا۔
امریکی ’مدر آف آل بمبز‘ سے موازنہ
دوسری جانب، امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوجی کارروائی کی منظوری کی صورت میں امریکی فوج نے ایران کی توانائی تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے ہنگامی منصوبے تیار کر رکھے ہیں۔
ان منصوبوں میں امریکہ کے طاقتور ترین غیر جوہری بموں میں شمار ہونے والے جی بی یو-43/بی (GBU-43/B) کے ممکنہ استعمال کا معاملہ بھی زیرِ بحث بتایا گیا ہے، جسے ’مدر آف آل بمبز‘ (تمام بموں کی ماں) کہا جاتا ہے۔
تاہم، امریکی بم اور ایران کے مبینہ نئے ہتھیار کے درمیان کسی براہِ راست تکنیکی مماثلت یا طاقت کے تقابل کی تصدیق نہیں ہوئی۔ ایران کے دعوے کی آزادانہ تصدیق نہ ہونے کے باعث دونوں ہتھیاروں کی صلاحیتوں کا موازنہ کرنا فی الحال ممکن نہیں۔
آبنائے ہرمز اور امریکی معیشت پر اثرات
حسین محبی نے واشنگٹن کو آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھانے کے ممکنہ معاشی اور سیاسی نتائج سے بھی خبردار کیا۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تجارت کیے جانے والے تیل اور دیگر توانائی وسائل کا ایک نمایاں حصہ گزرتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں عدم استحکام امریکی معیشت کو متاثر کر رہا ہے۔ ان کے مطابق، توانائی کی قیمتوں اور علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات امریکہ میں آئندہ وسط مدتی انتخابات کے دوران صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی مشکلات بھی پیدا کر سکتے ہیں۔
ایران کی سفارت کاری کی پیشکش
فوجی دھمکیوں اور سخت بیانات کے باوجود ایران نے امریکہ کے ساتھ سفارتی بات چیت کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے برطانوی اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ کے لیے لکھے گئے اپنے مضمون کے کچھ حصے سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ اعتماد کی بحالی اور منصفانہ حل کے لیے حقیقی عزم کا مظاہرہ کرے تو تہران سفارت کاری کو ایک اور موقع دینے کے لیے تیار ہے۔
تاہم، عراقچی نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے مذاکرات کے بجائے فوجی تصادم کا راستہ اختیار کیا تو اسے سنگین اسٹریٹجک نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے ممکنہ جنگ کو امریکہ کے لیے ایک اور بڑی ناکامی قرار دیا۔
ایران کے ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران ایک طرف ممکنہ فوجی کارروائی کے خلاف سخت ردعمل کی دھمکی دے رہا ہے، تو دوسری جانب سفارتی حل کے لیے بھی دروازے کھلے رکھنے کا اشارہ دے رہا ہے۔
دعوے کی حقیقت کیا ہے؟
فی الحال ’فادر آف آل بمبز‘ کے نام سے کسی نئے ایرانی ہتھیار کی تیاری اور اس کی غیر معمولی تباہ کن صلاحیتوں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
اس لیے اس دعوے کو ثابت شدہ فوجی پیش رفت کے بجائے ایران کی جانب سے کیا گیا ایک ایسا اعلان سمجھنا چاہیے جس کی مزید تصدیق اور تکنیکی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اس اعلان کی اہمیت ضرور ہے، تاہم اس ہتھیار کی حقیقی نوعیت اور ممکنہ اثرات کا اندازہ اس وقت تک نہیں لگایا جا سکتا جب تک اس حوالے سے قابلِ اعتماد شواہد سامنے نہ آ جائیں۔
