پاکستان میں نوجوانوں کے دل اتنی جلدی کیوں بند ہو جاتے ہیں؟
پاکستان میں کبھی درمیانی عمر کی بیماری سمجھے جانے والا دل کا دورہ اب 20 اور 30 سال کے نوجوان پاکستانیوں کو متاثر کر رہا ہے
شازیہ محبوب
اسلام اباد: پاکستان میں کبھی درمیانی عمر کی بیماری سمجھے جانے والا دل کا دورہ اب 20 اور 30 سال کے نوجوان پاکستانیوں کو متاثر کر رہا ہے;ایک ایسا رجحان جسے ڈاکٹرز انتہائی تشویشناک قرار دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال خطرے کی گھنٹی ہے، کیونکہ آج دل کے امراض پاکستان میں اموات کی سب سے بڑی وجہ بن چکے ہیں۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک میں تقریباً ہر منٹ ایک شخص دل کی بیماری کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ تقریباً 30 فیصد مریض اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتے ہیں، جبکہ اسپتال پہنچنے والے 10 سے 12 فیصد مریض، پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، بھی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خطرناک رجحان کی بنیادی وجوہات ناقص خوراک، تمباکو نوشی، ذہنی دباؤ اور بیٹھے رہنے والا طرزِ زندگی ہیں۔ ان عوامل کو جینیاتی کمزوری، فضائی آلودگی اور کمزور حفاظتی صحت کے نظام نے مزید سنگین بنا دیا ہے۔
ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ پاکستان میں ہر تین میں سے ایک بالغ ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہے، جبکہ ہر چھ میں سے ایک ذیابیطس میں مبتلا ہے—جس کے نتیجے میں ملک کو ایک خاموش مگر تیزی سے پھیلتی ہوئی قلبی وبا کا سامنا ہے۔
نوجوان دلوں پر بڑھتا خطرہ
سینئر کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر وحید عباسی کے مطابق نوجوانوں میں دل کے امراض کے بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ طرزِ زندگی میں آنے والی شدید تبدیلیاں ہیں۔ وہ اس صورتحال کا موازنہ 1960 کی دہائی کے مغرب سے کرتے ہیں، جب بہتر معیشتوں نے لوگوں کو پیدل چلنے سے دور اور گاڑیوں پر انحصار کی طرف مائل کیا—اور نتیجتاً دل کی بیماریوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ڈاکٹر وحید عباسی کہتے ہیں,”جب امریکہ اور برطانیہ میں لوگ پیدل چلنے کے بجائے کاروں پر انحصار کرنے لگے تو جسمانی سرگرمی کم ہو گئی، جس سے دل کی شریانوں کی بیماری میں اضافہ ہوا۔ لیکن انہوں نے اس سے سیکھا—جمز بنائے، اسکولوں میں جسمانی تعلیم شامل کی اور روزمرہ ورزش کی حوصلہ افزائی کی۔ پاکستان میں ہمارے نوجوانوں نے تقریباً چلنا چھوڑ دیا ہے۔”
ان کے مطابق آج کا جدید طرزِ زندگی—جس پر اسکرین ٹائم، موٹر بائیک اور فاسٹ فوڈ کا غلبہ ہے—ابتدائی ایتھروسکلروسیس (شریانوں میں چکنائی جمنے) کو فروغ دے رہا ہے۔ وہ خبردار کرتے ہیں کہ بیٹھے رہنے کی عادت، ناقص خوراک اور مسلسل تناؤ دل کی بیماری کے بنیادی اسباب بن چکے ہیں۔
جب دل بیمار، نظام لاچار
پاکستان کا صحتِ عامہ کا ڈھانچہ اب بھی زیادہ تر متعدی بیماریوں جیسے تپِ دق، ملیریا اور پولیو سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا ہے، جبکہ ماں اور بچے کی صحت ہمیشہ ترجیح رہی ہے۔ تاہم غیر متعدی امراض، جیسے دل کی بیماریاں اور ذیابیطس، حالیہ برسوں میں ہی توجہ کا مرکز بنے ہیں۔ یہ بات ڈاکٹر عبدالواسع، سربراہ کارڈیک سرجری، سنڈیمن صوبائی اسپتال کوئٹہ، بتاتے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالواسع کہتے ہیں,”ہماری توجہ ہمیشہ متعدی امراض پر رہی ہے۔ صرف چند سالوں سے ہم نے ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس پر سنجیدگی سے بات شروع کی ہے، حالانکہ یہ دل کی بیماری کے بڑے اسباب ہیں۔”
اگرچہ بعض صوبوں، جیسے بلوچستان، میں بنیادی صحت کے پروگرام اب بلڈ پریشر اور شوگر کی اسکریننگ پر مبنی ہیں، لیکن ملک میں ایک مربوط قومی نظام کا فقدان ہے جو 40 سال سے کم عمر افراد میں بھی دل کے خطرات کی بروقت تشخیص کر سکے۔
“زیادہ تر مریضوں کو تب معلوم ہوتا ہے کہ انہیں ہائی بلڈ پریشر یا ذیابیطس ہے جب وہ دل کے دورے کے بعد اسپتال پہنچتے ہیں۔ فیملی ڈاکٹرز، دفاتر اور اسکولوں کی سطح پر اسکریننگ اور آگاہی کا شدید فقدان ہے۔”
دل کی بیماری کا بدلتا چہرہ
راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں اپنے بھائی کی عیادت کے لیے آنے والی لاہور کی رہائشی، پچاس سالہ شاہین بتاتی ہیں کہ ان کے بھائی کو دل کا دوسرا دورہ پڑا ہے اور اس وقت ان کی حالت تشویشناک ہے۔ شاہین کے مطابق ان سمیت ان کے خاندان کے پانچ افراد دل کے امراض میں مبتلا ہیں، اور یہ بیماری انہیں تقریباً چالیس سال کی عمر میں لاحق ہوئی۔
شہید سیف الرحمٰن گورنمنٹ ٹیچنگ اسپتال، گلگت کے ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر منعم علی خان کا کہنا ہے کہ نوجوان پاکستانیوں میں کورونری آرٹری ڈیزیز تیزی سے عام ہو رہی ہے، جس کے پیچھے قابلِ تغیر اور ناقابلِ تغیر دونوں عوامل کارفرما ہیں۔
“نوجوان طبقہ تمباکو نوشی، ناقص خوراک اور جسمانی سرگرمی کی کمی کے باعث بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ وہ عوامل ہیں جنہیں طرزِ زندگی میں تبدیلی اور آگاہی سے کم کیا جا سکتا ہے۔”
ڈاکٹر منعم علی خان کے مطابق اگرچہ 40 سے 50 سال کے افراد اب بھی سب سے زیادہ متاثر ہیں، لیکن 20 اور 30 سال کی عمر میں مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تناؤ، غیر متوازن خوراک، تمباکو نوشی اور غیر فعال طرزِ زندگی ایک ایسا خطرناک دائرہ بنا چکے ہیں جو خاموشی سے دل کو نقصان پہنچا رہا ہے۔