ایران کے سرکاری میڈیا نے ملک کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے سات روزہ عام تعطیل اور چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق واقعہ سپریم لیڈر کے دفتر میں پیش آیا، جبکہ ایرانی فوج نے اس کا “سخت جواب” دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق ایرانی جنرل اسٹاف نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو “پچھتانے پر مجبور” کیا جائے گا اور ملک قیادت کے مشن پر قائم رہے گا۔ تاہم اس واقعے کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے واقعے کو “عظیم جرم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام خطے کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
اس سے قبل امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر مارے جا چکے ہیں، جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی ایسی اطلاعات کا حوالہ دیا تھا۔
ایرانی میڈیا میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حالیہ حملوں میں سپریم لیڈر کے بعض قریبی اہل خانہ بھی جاں بحق ہوئے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ان اطلاعات کی باضابطہ بین الاقوامی توثیق ہو جاتی ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن اور ایران، امریکا اور اسرائیل کے تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔