Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اتوار کے روز ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
کریملن سے جاری بیان کے مطابق صدر پیوٹن نے اس واقعے کو “سفاکانہ قتل” قرار دیتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کی۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے نام بھیجے گئے تعزیتی پیغام میں پیوٹن کا کہنا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کا قتل انسانی اخلاقیات اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور روس میں انہیں ایک ممتاز مذہبی و سیاسی رہنما کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
روسی وزارتِ خارجہ نے ان حملوں کو “دانستہ، پہلے سے طے شدہ اور بلا اشتعال مسلح جارحیت” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ کارروائیاں خطے کو انسانی، معاشی اور ممکنہ طور پر تابکاری کے بڑے حادثے کے دہانے پر لے آئی ہیں۔
اقوامِ متحدہ میں روس کے مستقل مندوب واسیلی نیبنزیا نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں ان حملوں کو “سفارت کاری کے ساتھ حقیقی غداری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے روس کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ایران کے ساتھ فوجی تصادم میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق روس کا سخت مؤقف خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی طاقتوں کے درمیان ممکنہ صف بندی کی نشاندہی کرتا ہے، جبکہ اقوامِ متحدہ میں اس معاملے پر مزید سفارتی سرگرمیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
Next Post