اسلام آباد:نیوز ڈیسک. امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں کم از کم 48 اہم ایرانی شخصیات ہلاک ہو چکی ہیں۔ ان کے بقول ایران کی قیادت کا ڈھانچہ “تباہ” ہو چکا ہے اور بعض اہلکار ہتھیار ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایران کے سرکاری میڈیا، بشمول اسلامی جمہوریہ نیوز ایجنسی، نے گزشتہ دو روز کے دوران متعدد اعلیٰ عہدیداروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل ہیں، جو مبینہ طور پر ہفتے کے روز ہونے والے حملوں میں مارے گئے۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق 86 سالہ خامنہ ای اپنے اہلِ خانہ کے چند افراد کے ہمراہ جان کی بازی ہار گئے۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اور خامنہ ای کے قریبی مشیر علی شمخانی بھی حملوں میں ہلاک ہوئے۔ شمخانی ماضی میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان جوہری مذاکرات کی نگرانی کر چکے تھے اور ایران کے طویل عرصہ خدمات انجام دینے والے سینیئر عہدیداروں میں شمار ہوتے تھے۔
ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف عبدالرحیم موسوی کی ہلاکت کی بھی اطلاع ہے۔ موسوی نے ماضی میں کمانڈر انچیف کے طور پر خدمات انجام دیں اور ایران کے بیلسٹک میزائل، ڈرون اور خلائی پروگراموں کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہیں 2019 کے مظاہروں کے دوران انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا بھی رہا۔
ابتدائی اطلاعات میں وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں سرکاری وضاحت میں کہا گیا کہ ان کی موت کی خبریں درست نہیں تھیں۔
مزید برآں، اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے کمانڈر انچیف محمد پاکپور کے بارے میں بھی ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ پاکپور نے ایران۔عراق جنگ کے دوران اپنے فوجی کیریئر کا آغاز کیا تھا اور بعد ازاں طویل عرصے تک IRGC کی زمینی افواج کی قیادت کی۔
حملوں کے بعد ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اعلان کیا کہ عبوری طور پر ایک تین رکنی کونسل قیادت کی ذمہ داریاں سنبھالے گی، جس میں صدر مسعود پیزشکیان، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجی اور گارڈین کونسل کے ایک فقیہ شامل ہوں گے۔ مزید یہ کہ سینئر مذہبی شخصیت علی رضا عرفی کو باضابطہ جانشین کے تقرر تک سپریم لیڈر کے فرائض انجام دینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافے کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ عالمی برادری مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
Next Post