راولپنڈی:نیوز ڈیسک پنجاب بھر میں ایمرجنسی نافذ کیے جانے کے بعد راولپنڈی کے بڑے سرکاری و الائیڈ ہسپتالوں کو مکمل ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے اور فوری طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے جامع ہنگامی منصوبے فعال کر دیے گئے ہیں۔
ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اکرام اللہ نیازی نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور صوبائی محکمہ صحت کی ہدایات کے مطابق تمام انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
پیر کو اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے سے فعال ٹراما یونٹ کے علاوہ رسپانس کی صلاحیت بڑھانے کے لیے ایک اضافی بیک اپ ٹراما ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے۔
“ایک ٹراما ٹیم پہلے سے ہسپتال میں موجود ہے، جبکہ 30 منٹ کے اندر رسپانس یقینی بنانے کے لیے اضافی ٹیم بھی تیار رکھی گئی ہے،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ممکنہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں 40 بستروں کو خالی رکھا گیا ہے۔ ضروری ادویات کا وافر ذخیرہ موجود ہے جبکہ قلت سے بچنے کے لیے اضافی سپلائی کا بندوبست بھی کیا گیا ہے۔ بلا تعطل بجلی کی فراہمی کے لیے جنریٹر سسٹم سمیت بیک اپ انتظامات مکمل ہیں، جبکہ آن کال سسٹم بھی فعال کر دیا گیا ہے۔ تمام شعبے مربوط رابطے کے ذریعے بروقت اور منظم ردعمل کو یقینی بنا رہے ہیں۔
دریں اثنا، بے نظیر بھٹو ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شرجیل شیخ نے تصدیق کی کہ 50 بستروں پر مشتمل ہنگامی پلان کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ اس وقت ہسپتال کا میڈیکل ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ 24 بستروں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رابطہ کاری اور فوری رسپانس کے لیے خصوصی ہنگامی نمبرز جاری کر دیے گئے ہیں، جبکہ تمام طبی و پیرا میڈیکل عملے کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسی طرح ہولی فیملی ہسپتال نے بھی اپنا ہنگامی تیاری کا منصوبہ نافذ کر دیا ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق وارڈز، آپریشن تھیٹرز، بلڈ بینک اور ٹراما سینٹرز کو مکمل الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ بلا تعطل طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ راولپنڈی کی تینوں بڑی طبی سہولیات صوبے بھر میں جاری ہنگامی انتظامات کے تحت باہمی رابطے اور ہم آہنگی کے ذریعے فوری اور مؤثر طبی ردعمل کو یقینی بنا رہی ہیں۔