وہ حملہ جس نے مشرقِ وسطیٰ کو بدل دیا
روہن گونارتنا
سنگاپور
28 فروری 2026 کو ہونے والا امریکی۔اسرائیلی مشترکہ حملہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں تھا؛ یہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، طاقت کے توازن اور مستقبل کی سمت کو بدل دینے والا واقعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس دن صبح 8:10 پر شروع ہونے والا آپریشن ایران کی سیاسی و عسکری قیادت اور اس کے اسٹریٹجک ڈھانچے کے خلاف ایک منظم، مربوط اور غیر معمولی شدت کا مظاہرہ تھا۔
واشنگٹن اور تل ابیب کا دعویٰ ہے کہ کارروائی قابلِ اعتماد انٹیلی جنس پر مبنی تھی، جس میں اسرائیل پر ایک ممکنہ ایرانی حملے کی تیاری کے شواہد شامل تھے۔ اسی معلومات کی بنیاد پر اسرائیلی فضائیہ نے تہران میں لیڈر شپ ہاؤس کو نشانہ بنایا، جہاں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے قریبی ساتھی مارے گئے۔ اگر یہ واقعہ طویل المدتی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران کی سب سے بڑی سیاسی تبدیلی ہے۔
خامنہ ای تقریباً چار دہائیوں تک اسلامی جمہوریہ کے طاقتور ترین ستون رہے۔ ان کے دور میں ایران نے جوہری پروگرام کو وسعت دی، بیلسٹک اور کروز میزائل صلاحیتیں بڑھائیں، اور خطے بھر میں پراکسی گروہوں کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا۔ ان کے حامی اسے قومی سلامتی کی حکمتِ عملی قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین کے نزدیک یہی پالیسی مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کا بنیادی سبب بنی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کو عالمی سلامتی کے لیے ناگزیر قدم قرار دیا، جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اسے “طاقتور حیرت انگیز حملہ” کہا۔ دونوں بیانات سیاسی بیانیے کا حصہ ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ حملہ خطے میں استحکام لائے گا یا ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے کا آغاز کرے گا؟
آپریشن، جسے پینٹاگون نے “ایپک فیوری” اور اسرائیل نے “شیر کی گرج” کا نام دیا، صرف قیادت کے خاتمے تک محدود نہیں تھا۔ ایران کی جوہری تنصیبات، میزائل ڈپو، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور کمانڈ سینٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ پہلے ہی دن 200 سے زائد اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے 500 سے زیادہ اہداف پر حملے کیے، جبکہ امریکی افواج نے بھی بڑے پیمانے پر کارروائی میں حصہ لیا۔ جدید فضائی دفاعی نظام کو غیر مؤثر بنا کر اسرائیل نے ایران پر فضائی برتری قائم کر لی۔
فوجی اعتبار سے یہ کارروائی انتہائی مربوط اور تکنیکی برتری کا مظاہرہ تھی۔ سیاسی اعتبار سے، یہ ایک “ڈی کیپیٹیشن اسٹرائیک” تھی — یعنی قیادت کو نشانہ بنا کر ریاستی ڈھانچے کو کمزور کرنا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے اقدامات فوری جھٹکا تو دیتے ہیں، مگر پائیدار تبدیلی کے لیے اندرونی سیاسی عوامل زیادہ اہم ہوتے ہیں۔
ایران کے اندر ردعمل منقسم رہا۔ حکومت کے حامی حلقوں میں سوگ اور غصہ دیکھا گیا، جبکہ طویل عرصے سے معاشی بحران، مہنگائی اور سیاسی جبر سے تنگ شہریوں کے ایک حصے نے اسے تبدیلی کے موقع کے طور پر دیکھا۔ دسمبر 2025 سے جاری احتجاجی تحریک پہلے ہی ریاستی جبر کے باوجود برقرار تھی۔ خامنہ ای کی ہلاکت نے اس تحریک کو نئی توانائی دی ہے۔
عبوری قیادت کونسل — جس میں صدر مسعود پیزشکیان، چیف جسٹس ایجی اور آیت اللہ علی رضا عرفی شامل ہیں — نے فوری طور پر اقتدار سنبھالنے کا اعلان کیا۔ تاہم اصل طاقت اب بھی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے پاس ہے۔ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو بعض حلقوں کی حمایت حاصل ہے، مگر حتمی فیصلہ 88 رکنی مجلسِ خبرگان کرے گی۔ یہ مرحلہ ایران کے سیاسی مستقبل کے لیے فیصلہ کن ہو گا۔
خطے میں سب سے بڑا خطرہ آبنائے ہرمز کی صورتحال ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ IRGC کی جانب سے اسے بند کرنے کی دھمکیوں نے امریکہ کو ایرانی بحری اثاثوں کے خلاف کارروائی پر مجبور کیا۔ اگر کشیدگی بڑھتی ہے تو عالمی توانائی منڈی اور عالمی معیشت پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ یہ حملہ کسی اچانک جذباتی فیصلے کا نتیجہ نہیں تھا۔ جنیوا میں ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات ناکام ہو چکے تھے، اور امریکہ نے خطے میں اپنی فضائی و بحری قوت کا بڑا حصہ پہلے ہی تعینات کر دیا تھا، جن میں دو طیارہ بردار بحری جہاز شامل تھے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ایک طویل مدتی حکمتِ عملی کا حصہ تھا۔
امریکہ اور اسرائیل کا بنیادی مقصد ایران کے جوہری، میزائل اور پراکسی پروگرام کو ختم کرنا ہے۔ جون 2025 کے محدود حملے ان صلاحیتوں کو مکمل طور پر تباہ کرنے میں ناکام رہے تھے۔ موجودہ کارروائی کو اس تسلسل کا اگلا مرحلہ سمجھا جا سکتا ہے۔
تاہم اصل سوال باقی ہے: کیا بیرونی فوجی دباؤ سے ایران میں پائیدار سیاسی اصلاحات آ سکتی ہیں؟ تاریخ اس بارے میں ملے جلے شواہد پیش کرتی ہے۔ اگر اندرونی سیاسی تحریک مضبوط اور منظم ہو، تو بیرونی دباؤ تبدیلی کو تیز کر سکتا ہے۔ لیکن اگر ریاستی ڈھانچہ برقرار رہے اور سیکورٹی ادارے متحد رہیں، تو نظام خود کو نئے چہرے کے ساتھ برقرار رکھ سکتا ہے۔
1979 کے انقلاب کے بعد ایران نے خود کو ایک نظریاتی ریاست کے طور پر پیش کیا، جو امریکہ کو “بڑا شیطان” اور اسرائیل کو “چھوٹا شیطان” قرار دیتی رہی۔ اسی نظریاتی فریم ورک کے تحت اس نے خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کی۔ اب، پہلی بار، اس نظریاتی ڈھانچے کی بنیادیں ہلتی دکھائی دے رہی ہیں۔
میری رائے میں 28 فروری کا حملہ صرف ایک فوجی واقعہ نہیں بلکہ ایک تاریخی موڑ ہے۔ یہ موقع بھی ہے اور خطرہ بھی۔ اگر ایرانی عوام اپنی سیاسی سمت کا تعین خود کر سکیں اور بیرونی طاقتیں طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی و سفارتی حل کو ترجیح دیں، تو خطہ زیادہ مستحکم مستقبل کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر، یہ واقعہ ایک طویل اور غیر یقینی تصادم کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے۔
آنے والے ہفتے اور مہینے طے کریں گے کہ آیا یہ لمحہ ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے یا محض ایک اور خونریز باب۔ تاریخ کا پہیہ گھوم چکا ہے؛ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ کس سمت رکتا ہے۔