تہران (ویب ڈیسک): ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن خطے میں کشیدگی بڑھانا چاہتا ہے تو ایران کی مسلح افواج ہر طرح کے دفاع کے لیے مکمل تیار ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ تھا اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مثبت اقدامات کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنے پڑوسی ممالک سے کہا تھا کہ ان کی فضائی حدود، زمین اور سمندر ایران پر حملے کے لیے استعمال نہ ہوں۔
عباس عراقچی کے مطابق یہ سفارتی کوششیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت مؤقف کی وجہ سے تقریباً ناکام ہو گئیں اور خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکا محاذ آرائی چاہتا ہے تو ایرانی مسلح افواج ہر طرح کے دفاع کے لیے تیار ہیں اور کسی بھی ممکنہ کشیدگی کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔
عراقچی نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کی ایک ہفتے کی مہم جوئی سے امریکی فوج کو 100 ارب ڈالر سے زائد کا مالی نقصان ہوا اور اس کشیدگی کا بوجھ امریکی عوام کو ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے ذریعے برداشت کرنا پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی عوام ماضی میں مشرق وسطیٰ کی جنگوں سے نکلنے کے حق میں ووٹ دے چکے ہیں، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکا کو اسرائیل کی جنگ میں دھکیل دیا ہے۔ ایران خطے میں استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی اقدامات کو ترجیح دیتا ہے۔