ایران جنگ میں امریکا اب تک کتنے ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے؟

نیوز ڈیسک

0

واشنگٹن: ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی مہم کے پہلے ہفتے میں ہی امریکا کو تقریباً 6 ارب ڈالر کے اخراجات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ پینٹاگون حکام نے خبردار کیا ہے کہ آپریشن جاری رکھنے اور استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے ذخائر کو دوبارہ بھرنے کے لیے مزید فنڈنگ درکار ہوگی۔
امریکی محکمہ دفاع کے حکام نے یہ اعداد و شمار اس ہفتے کانگریس کو بریفنگ کے دوران بتائے۔ حکام کے مطابق مجموعی اخراجات میں سے تقریباً 4 ارب ڈالر صرف گولہ باری، فضائی حملوں اور جدید میزائل انٹرسیپٹرز کے استعمال پر خرچ ہوئے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اب تک ایران میں تقریباً چار ہزار اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے جن میں میزائل لانچرز، بحری جہاز اور فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں سے ایران کی جوابی کارروائی کی صلاحیت کو نمایاں حد تک کمزور کیا گیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل بریڈ کوپر کے مطابق تنازع شروع ہونے کے بعد سے ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے تجربات میں تقریباً 90 فیصد جبکہ ڈرون حملوں میں 83 فیصد کمی آئی ہے۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ نقصانات کے باوجود ایران اب بھی خاطر خواہ فوجی صلاحیت برقرار رکھتا ہے اور اس کے میزائل ذخائر کا ایک بڑا حصہ ابھی موجود ہے۔
ادھر واشنگٹن میں قانون ساز آئندہ ہفتوں میں انتظامیہ کی جانب سے ممکنہ اضافی دفاعی فنڈنگ کی درخواست کی تیاری کر رہے ہیں، کیونکہ تیزی سے بڑھتے اخراجات ڈیموکریٹ اور ریپبلکن دونوں جماعتوں کے اراکین کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
دفاعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مہنگے انٹرسیپٹر میزائل، جن میں سے بعض کی قیمت لاکھوں ڈالر تک ہوتی ہے، تیزی سے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس رفتار سے استعمال امریکی دفاعی صنعت پر دباؤ ڈال سکتا ہے اور دیگر خطوں میں امریکی فوجی آپریشنز کے لیے ہتھیاروں کی کمی پیدا ہونے کا خدشہ بھی ہے۔
یہ تنازع 28 فروری کو اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں 1200 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جن میں اعلیٰ فوجی شخصیات بھی شامل تھیں۔
اس کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں، سفارتی تنصیبات اور خطے میں تعینات فوجی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے متعدد شہروں کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا۔
جاری کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی سمندری آمدورفت، جو روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے، نمایاں طور پر متاثر ہونے لگی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.