اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے تیل کی بچت اور سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے ملک بھر میں متعدد کفایت شعاری اقدامات کا اعلان کردیا ہے، جن میں سرکاری افطار پارٹیوں اور عشائیوں پر پابندی، ہفتے میں ایک اضافی چھٹی اور اسکولوں کو دو ہفتے کی تعطیلات شامل ہیں۔
وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں کہا کہ تمام اسکولوں کو رواں ہفتے کے آخر سے دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جا رہی ہیں جبکہ ہائر ایجوکیشن کے تمام اداروں میں آن لائن کلاسز شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق تیل کی بچت کے پیش نظر ہفتے میں ایک اضافی چھٹی بھی دی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ آئندہ دو ماہ کے لیے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کے پیٹرول میں 50 فیصد کمی کی جا رہی ہے، تاہم ایمبولینس اور عوامی ٹرانسپورٹ بسوں کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ مزید یہ کہ سرکاری محکموں کی 60 فیصد گاڑیاں دو ماہ تک بند رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
وزیراعظم کے مطابق کفایت شعاری مہم کے تحت وفاقی کابینہ کے ارکان، وزرا، مشیر اور معاونین خصوصی اپنی تنخواہیں نہیں لیں گے جبکہ ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کمی کی جائے گی۔ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے سرکاری افسران جن کی تنخواہ تین لاکھ روپے سے زائد ہے، ان کی دو دن کی تنخواہ بھی کاٹی جائے گی۔
شہباز شریف نے کہا کہ یہ رقم عوام کو ریلیف دینے کے لیے استعمال کی جائے گی۔ اس کے علاوہ سرکاری محکموں کے تنخواہوں کے علاوہ اخراجات میں 20 فیصد کمی کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ سرکاری اداروں میں گاڑیوں، فرنیچر، ایئرکنڈیشنرز اور دیگر اشیا کی خریداری پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ وفاقی و صوبائی وزرا، مشیران، معاونین خصوصی اور سرکاری افسران کے بیرون ملک دوروں پر بھی پابندی ہوگی جبکہ وزرائے اعلیٰ اور گورنرز کے بیرون ملک دورے بھی محدود کر دیے گئے ہیں۔
وزیراعظم کے مطابق صرف قومی مفاد میں انتہائی ناگزیر غیر ملکی دوروں کی اجازت دی جائے گی۔
پس منظر
حکومت کی جانب سے یہ اقدامات ملک میں توانائی کے بڑھتے اخراجات اور معاشی دباؤ کے تناظر میں کیے گئے ہیں تاکہ سرکاری سطح پر اخراجات کم کیے جا سکیں اور تیل کی کھپت میں کمی لائی جا سکے۔