پیٹرولیم بحران: پنجاب کے وزرا کیلئے سرکاری فیول بند، افسران کے الاؤنس میں 50 فیصد کمی

0

لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پیٹرولیم بحران کے پیش نظر صوبے میں کفایت شعاری کے غیر معمولی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے وزرا کے لیے سرکاری فیول بند اور سرکاری افسران کے پیٹرول و ڈیزل الاؤنس میں 50 فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ پیٹرولیم بحران کے خاتمے تک پنجاب کے صوبائی وزرا کو سرکاری فیول فراہم نہیں کیا جائے گا جبکہ سرکاری افسران کی گاڑیوں کے لیے پیٹرول اور ڈیزل الاؤنس میں فوری طور پر 50 فیصد کمی کر دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ صوبائی وزرا اور اعلیٰ سرکاری افسران کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق سیکیورٹی کی ناگزیر ضرورت کے تحت صرف ایک گاڑی ہی وزرا یا اعلیٰ افسران کے ساتھ چل سکے گی۔

حکومت پنجاب نے سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم پالیسی بھی متعارف کروائی ہے جس کے تحت صرف ضروری عملہ دفاتر میں حاضر ہوگا جبکہ دیگر ملازمین گھر سے کام کریں گے۔ شہریوں کو خدمات کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے ای بزنس اور ’’مریم کی دستک‘‘ کے تحت سروسز جاری رہیں گی۔

مزید یہ کہ سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے آن لائن اجلاس اور ٹیلی کانفرنسز کے انعقاد کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ سرکاری آؤٹ ڈور تقریبات پر پابندی عائد کرتے ہوئے ہارس اینڈ کیٹل شو کے ثقافتی تہوار کو بھی ملتوی کر دیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے پیٹرولیم مصنوعات کی نگرانی کے لیے ڈسٹرکٹ پیٹرولیم مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ پی آئی بی کو پیٹرولیم مصنوعات کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تیار کرنے کی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی ہے۔

حکومت پنجاب کے مطابق یہ اقدامات ملک میں جاری پیٹرولیم بحران اور جنگ کے باعث پیدا ہونے والی معاشی مشکلات کے پیش نظر کیے گئے ہیں تاکہ ایندھن کے استعمال میں کمی اور وسائل کی بہتر نگرانی یقینی بنائی جا سکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.