مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور فضائی پابندیاں: بھارتی ایئرلائنز کو بڑا مالی و آپریشنل بحران

0

نئی دہلی: مشرقِ وسطیٰ میں ایران سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں فضائی پابندیوں نے بھارتی ایئرلائنز کو شدید آپریشنل اور مالی دباؤ کا شکار کر دیا ہے۔ہوا بازی کے ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے Cirium کے مطابق بھارت کی دو بڑی ایئرلائنز Air India اور IndiGo نے گزشتہ دس دنوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور شمالی امریکا کے لیے شیڈول 1,230 پروازوں میں سے تقریباً 64 فیصد پروازیں منسوخ یا معطل کر دی ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ صورتحال بھارتی ایئرلائنز کے لیے “دوہرا دھچکا” ثابت ہو رہی ہے کیونکہ وہ نہ تو Pakistan کی فضائی حدود استعمال کر سکتی ہیں اور نہ ہی مشرقِ وسطیٰ کے کئی حساس فضائی راستوں سے گزر سکتی ہیں۔ہوا بازی کے آزاد ماہر Amit Mittal کے مطابق، “یہ بھارتی ایئرلائنز کے لیے دوہری مشکل ہے کیونکہ متبادل راستے طویل بھی ہیں اور مہنگے بھی۔”بڑھتے اخراجات اور کم ہوتا منافعبین الاقوامی مالیاتی ادارے HSBC نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی بھارتی ایئرلائنز کی لاگت اور منافع پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔ادارے کے اندازے کے مطابق متاثرہ علاقوں میں صرف سات دن کی پروازوں کی منسوخی ایئرلائنز کے سالانہ قبل از ٹیکس منافع میں تقریباً 1.2 فیصد کمی کا باعث بن سکتی ہے۔انڈیگو کے لیے پیچیدہ صورتحالاگرچہ کچھ پروازیں بحال کی گئی ہیں مگر IndiGo کو خاص طور پر پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے۔ کمپنی یورپ کے لیے طویل فاصلے کی پروازوں میں چھ Norse Atlantic Airways کے لیز پر لیے گئے بوئنگ طیاروں پر انحصار کرتی ہے۔ان طیاروں کی رجسٹریشن ناروے میں ہونے کی وجہ سے انہیں European Union Aviation Safety Agency کی ہدایات پر عمل کرنا پڑتا ہے، جس کے تحت ایران، عراق، اسرائیل، کویت، لبنان، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی فضائی حدود سے گریز کی ہدایت دی گئی ہے۔اسی وجہ سے IndiGo کو افریقہ کے راستے طویل متبادل روٹس اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔ فضائی ٹریکنگ پلیٹ فارم Flightradar24 کے مطابق ان متبادل راستوں کی وجہ سے بعض پروازوں کے دورانیے میں دو گھنٹے تک اضافہ ہو رہا ہے۔

ایک واقعے میں دہلی سے مانچسٹر جانے والی IndiGo کی پرواز کو Eritrea کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہ ملنے کے باعث تقریباً 13 گھنٹے فضا میں رہنے کے بعد واپس دہلی لوٹنا پڑا۔اسی طرح لندن سے ممبئی جانے والی ایک پرواز کو بھی اسی مسئلے کے باعث Cairo کی جانب موڑ دیا گیا۔

یہ مسائل ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب کمپنی پہلے ہی انتظامی دباؤ کا شکار ہے۔ Pieter Elbers نے حال ہی میں ایک آپریشنل بحران کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔یئر انڈیا کی مشکلاتدوسری جانب Air India نے اعلان کیا ہے کہ بڑھتی طلب کے پیش نظر وہ بھارت، یورپ اور امریکا کے درمیان اگلے ہفتے کے دوران 78 اضافی پروازیں چلائے گی۔تاہم طویل متبادل راستوں کے باعث بعض پروازوں کے دورانیے میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر دہلی سے New York جانے والی ایک پرواز کو Rome میں سٹاپ اوور کرنا پڑا جس سے سفر کا دورانیہ تقریباً 22 گھنٹے ہو گیا۔اس کے مقابلے میں American Airlines کی ایک پرواز نے پاکستان کے اوپر سے گزر کر یہی فاصلہ تقریباً 16 گھنٹوں میں طے کیا، جس سے بھارتی ایئرلائنز کو مسابقتی دباؤ کا سامنا ہے۔ربوں ڈالر کا ممکنہ نقصانرپورٹس کے مطابق Tata Group اور Singapore Airlines کی ملکیت Air India نے پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے کے باعث سالانہ تقریباً 600 ملین ڈالر کے ممکنہ نقصان کا اندازہ لگایا ہے۔یہ ایئرلائن، جسے بھارتی حکومت نے 2022 میں نجکاری کے ذریعے فروخت کیا تھا، گزشتہ سال تقریباً 433 ملین ڈالر کے خسارے کی رپورٹ دے چکی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.