ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان کی جانب سے اظہارِ یکجہتی پر شکریہ ادا کیا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے پرعزم ہے اور اس مشکل وقت میں پاکستان کی حکومت اور عوام کی حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کی حمایت ایران اور اس کے عوام کے لیے حوصلہ افزا ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 28 فروری کو ایرانی اہداف پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خطے کی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔پاکستان نے اس بحران میں تحمل اور سفارت کاری پر زور دیا ہے۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نےسینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام کے مکمل خاتمے پر زور دے رہا ہے۔ پاکستان پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کے ایران کے حق کی حمایت کرتا ہے۔یہ تنازع تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے، جس کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں بے یقینی بڑھ گئی ہے اور خلیج فارس میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔دوسری جانب تہران میں دھماکوں کی اطلاعات کے بعد فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا، جبکہ اسرائیل نے ان حملوں کو بڑے پیمانے کی کارروائی قرار دیا ہے، تاہم اہداف کی فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔